نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر زیرو ریٹیڈ انڈسٹری کے لیے سستی بجلی کی سہولت واپس لینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر سے درخواست کی ہے کہ ملکی معیشت اور صنعتوں کے بہتر ترین مفاد میں زیرو ریٹیڈ برآمدی صنعتوں کے لیے 19 روپے 99 پیسے فی کلو واٹ کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے بصورت دیگر برآمدی صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل سمیت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے بلکہ ایس ایم ایز مہنگی بجلی کا بوجھ برداشت نہیں کر پائیں گی اور خدشہ ہے کہ ایس ایم ایز کو تالے لگ جائیں گے جس کے نتیجے میں نہ صرف برآمدات کو جھٹکا لگے گا بلکہ لاکھوں ورکرز بے روزگار ہو جائیں گے۔
صدر نکاٹی فیصل معیز خان نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر سے معیشت اور صنعت دوست اقدامات عمل میں لانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت توانائی پاور ڈویژن نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق زیرو ریٹیڈ برآمدی صنعتوں کے لیے زیڈ آر آئی پیکیج کے تحت 19 روپے 99 پیسے فی کلو واٹ کی سہولت ختم کر دی گئی ہے جس کا اطلاق یکم مارچ 2023 سے ہوگا۔ نوٹیفیکیشن میں تمام ڈسکوز کے سی ای اوز، چیف ایگزیکٹیو کے الیکٹرک اور چیئر مین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو آگاہ کرتے ہوئے برآمدی شعبے کو سستی بجلی کی سہولت فی الفور معطل کرنے اور احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیصل معیز خان نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر سے مذکورہ بالا فیصلہ واپس لینے کی پُرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی اونچی اڑان، ایل سیز کی بندش، بندرگاہوں پر خام مال کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیر سمیت مہنگی بجلی، گیس کی وجہ سے پہلے ہی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے جس سے پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور اب زیرو ریٹیڈ برآمدی صنعتوں کے لیے رعایتی نرخوں پر بجلی فراہمی کی سہولت ختم کرنے سے صنعتیں خاص طور پر ایس ایم ایز تباہ ہو جائیں گی لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کو بحران سے نکالنے اور معاشی خوشحالی لانے کے لیے صنعتوں کو سپورٹ کرتے ہوئے آسانیاں پیدا کرے تاکہ ہم دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرسکیں