دریائے ستلج میں سیلاب کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، سینکڑوں چھوٹی بڑی آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔
دریائے ستلج میں بھارتی آبی جارحیت کی انتہا ہو گئی، دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا، پاکپتن میں سیلاب کے باعث سینکڑوں چھوٹی بڑی آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیاسیلاب کے پیش نظرکئی دیہات کو خالی کروا لیا گیا، قصور کے علاقے میں دریائے ستلج میں سب سے بڑا سیلابی ریلا گزرا، پولیس اور انتظامیہ متحرک رہی، ڈی پی او قصور اور ڈپٹی کمشنر رات بھر تلوار چیک پوسٹ پر موجود رہے۔
چشتیاں کے نواحی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور 50 کے قریب بستیاں زیرآب ہوگئیں،بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، بستی میروں بلوچاں، موضع عظیم، قاضی والی بستی، بستی شادم شاہ اور دلہ عاکوکا سمیت 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔
بنوں: دہشتگردوں کا تھانے پرحملہ ناکام بنا دیا گیا
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کشتیوں اور دیگر ذرائع سے لوگوں کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال رہی ہیں جبکہ کئی مقامات پر فصیلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ کماد اور تل کی فصلیں شدید متاثر ہونے سے کسانوں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔
انتظامیہ کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں صبح تک مزید اضافے اور مزید بند ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور اعلانات کے ذریعے عوام کو صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے انتظامیہ نے علاقہ مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نقل مکانی کریں اور سیلابی صورتحال میں تعاون کریں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
لاہور سے سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے، قصور کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزرا، دریائے ستلج کے بہاؤ میں اب کمی آنا شروع ہو گئی ہے، صورتحال ابھی بھی غیر معمولی ہے، آج شام ملتان کے علاقے میں بڑا سیلابی ریلا داخل ہوگادریائے راوی، دریائے چناب اور دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث سینکڑوں دیہات زیر آب ہیں اور پندرہ لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے متاثر ہو ئے ہیں جبکہ اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا
ملتان کی حدود میں آج شام تک سیلاب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے، 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے پر انتظامیہ سے شکوہ کیا ہے۔
جلالپور پیروالا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جس سے 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے، پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے چناب کا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی جانب بڑھ رہا ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے،دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پرپانی کا بہاؤ 1 لاکھ 71 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سیالکوٹ میں موسلا دھار بارش، شاہراہیں اور گلیاں دوبارہ ڈوب گئیں
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے،دریائے راوی میں بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے،بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔