سعودی خواتین کو ملی اب اور آزادی

سعودی عرب جدت پسندی کی طرف گامزن ،سعودی خواتین اب مرد سرپرستوں کی اجازت کے بغیر دنیا کی سیر کر سکتی ہیں اور انہیں اپنے نابالغ بچوں کا سرپرست بننے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عربی اخبار ’عکاظ ‘ کے مطابق سعودی عرب جدت پسندی کی طرف گامزن ،سعودی خواتین اب مرد سرپرستوں کی اجازت کے بغیر دنیا کی سیر کر سکتی ہیں اور انہیں اپنے نابالغ بچوں کا سرپرست بننے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔
’’ملک میں نئے قانون کے تحت 21 سال کی عمر کے بعد خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے مرد سرپرست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل بالغ خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے والد، بھائی یا شوہر سے اجازت لینی پڑتی تھی‘‘۔ خواتین پر اس طرح کی پابندی کی دیگر ممالک میں سخت تنقید ہو رہی تھی۔
اخبار کے مطابق حالیہ قانون کے بعد خواتین، مردوں کی طرح اپنے بچے کی سرپرست ہونگی اور اب وہ اپنے نوزائیدہ بچوں کی پیدائش پر انتظامیہ کے متعلقہ دفتر میں رجسٹر کرا سکتی ہیں۔سرکاری اخبار کے حوالے سے فرانسیسی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت جنس کی تفریق کے بغیر اب ہر اس شہری کو پاسپورٹ جاری کردے گی جو اس سلسلے میں درخواست دے گا۔

واضح رہے اس سے پہلے سعودی قانون کے مطابق تمام عمر کی خواتین پر لازم تھا کہ پاسپورٹ بنوانے اور بیرون ملک سفر کے لیے اپنے خاندان کے کسی فرد یعنی نگراں جیسے والد، شوہر یا بھائی کو ضرور ساتھ لے کر جائیں یا پھر کم از کم ان کی اجازت کے ساتھ سفر کریں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.