اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین نے غزہ کی پٹی کے قریب سمندر میں کشتیوں پر مارچ کرتے ہوئے حکومت سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ مارچ میں شریک افراد نے پیلے رنگ کے پرچم لہرائے جو یرغمالیوں اور جنگی قیدیوں کی علامت تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق "شایئٹٹ فلوٹیلا” کے نام سے یہ بحری قافلہ عسقلان کی بندرگاہ سے روانہ ہوا اور غزہ کی ساحلی حدود کے قریب پہنچا، تاکہ یرغمالیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ مارچ کا مقصد یرغمالیوں کے اہلخانہ کو غزہ میں قید اپنے پیاروں کے قریب لا کر دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ جنگ سے ان کی زندگیاں مزید خطرے میں ہیں۔شرکاء نے اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا کہ غزہ پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے یرغمالیوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اصل کامیابی یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی ہے، نہ کہ جنگ کا تسلسل۔
مظاہرین نے نیتن یاہو حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ فوری طور پر روکے اور مذاکرات کے ذریعے یرغمالیوں کو محفوظ طریقے سے بازیاب کرائے۔
پی سی بی نے قومی کرکٹرز کو لیگز کھیلنے کی این او سی جاری کر دی
غزہ پر اسرائیلی حملے، مزید 13 فلسطینی شہید، قحط سے 4 جانیں اور چلی گئیں
عالمی منڈی میں سونا مہنگا، پاکستان میں بھی قیمت بڑھ گئی
ٹرمپ انتظامیہ سخت، یونیورسٹیوں پر داخلوں کا ڈیٹا فراہم کرنا لازم