شانِ پاکستان . صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے
تحریر: فیضان شیخ
ملک صرف زمین کے ٹکڑے نہیں ہوتے۔ بعض اوقات وہ خواب ہوتے ہیں — خون سے سینچے گئے، قربانیوں سے بوئے گئے، اور امیدوں سے اگائے گئے۔ پاکستان بھی ایک ایسا ہی خواب ہے۔ ایک نظریے کا خواب، ایک وعدے کی تعبیر، ایک عقیدے کی زمین۔

مگر سوال یہ ہے:
کیا ہم اس خواب کے حقیقی وارث ہیں یا صرف اس کے نعرہ باز؟
کیا "شانِ پاکستان” ایک احساس ہے، یا محض ایک نعرہ؟
کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ اس دو لفظی نعرے میں کتنا گہرا مفہوم پوشیدہ ہے؟

یہ تحریر کسی نعرے کا پرچار نہیں، بلکہ ایک سوال ہے۔ ایک صدا ہے۔ ایک آئینہ ہے — جو ہر پاکستانی کو اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے۔ ایسا چہرہ جو کبھی جذبے سے روشن تھا، مگر آج مصلحتوں، مایوسیوں اور مفادات کی دھند میں گم ہو چکا ہے۔

پاکستان کی "شان” صرف اس کے ترانے، پرچم یا تقریبات میں نہیں، بلکہ اس کی روحانی، فکری، اور اخلاقی بنیادوں میں ہے۔ ان خوابوں میں ہے جو ایک کسان نے اپنے کھیت میں کاٹے، ان دعاؤں میں ہے جو ایک ماں نے اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد آنکھوں میں چھپا لیں، ان سسکیوں میں ہے جو شہداء کی بیواؤں نے رات کی تنہائی میں اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روکی تھیں۔

وہ ماں، جو بیٹے کے خون میں بھی صبر کے آنسو بہاتی ہے — شانِ پاکستان ہے۔
وہ مزدور، جو پسینہ بہا کر دیانتداری سے نوالہ کماتا ہے — شانِ پاکستان ہے۔
وہ معلم، جو تنخواہ کی پروا کیے بغیر نسلوں کو سنوارتا ہے — شانِ پاکستان ہے۔
اور وہ نوجوان، جو بیرونِ ملک جا کر محض کامیاب ہی نہیں ہوتا، بلکہ پاکستان کا وقار بھی بلند کرتا ہے — یہی پاکستان کی اصل شان ہے۔

لیکن افسوس، آج ہم نے اس "شان” کو صرف تصویروں، بینروں، اور میڈیا کے نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے عمل کو الفاظ کی جگہ دے دی، اور نظریے کو مفاد سے بدل دیا۔ ہم جشنِ آزادی مناتے ہیں، مگر آزادی کی روح کو بھلا بیٹھے ہیں۔

اگر قانون صرف غریب پر لاگو ہو،
اگر انصاف طاقت کے قدموں میں جھک جائے،
اگر تعلیم کاروبار بن جائے،
اور اگر سیاست ذاتی مفادات کی غلام ہو جائے —
تو پھر قومیں صرف وجود رکھتی ہیں، وقار نہیں۔

ہم نے اپنے قومی ہیروز کو نصاب کی کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ ان کے کردار کو اپنانے کے بجائے صرف ان کی تصویریں لگاتے ہیں۔ ہم قائداعظم کے اقوال پڑھتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے۔ علامہ اقبال کے خوابوں کو اشعار کی صورت میں سنبھال رکھا ہے، مگر ان کی روح کو اپنے نظام سے نکال چکے ہیں۔

شانِ پاکستان وہ وقت تھا جب ایک بے سروسامان قوم نے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت برداشت کی۔ وہ وقت تھا جب لکڑی کی چارپائیوں پر لیڈر بیٹھتے تھے اور راتوں کو چراغوں کی روشنی میں فیصلے ہوتے تھے۔ آج وہی ملک کروڑوں کے فرنیچر، اربوں کی گاڑیوں، اور کھربوں کے وعدوں میں الجھ کر اپنی اصل کو بھول چکا ہے۔

ہمیں ہر سطح پر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارا کردار اس شان کے لائق ہے؟
کیا ایک دکاندار ایمانداری سے تولتا ہے؟
کیا ایک استاد اپنی ذمہ داری سمجھ کر پڑھاتا ہے؟
کیا ایک عالم لوگوں میں اخلاق بانٹتا ہے، نفرت نہیں؟
کیا ایک سیاستدان عوام کی خدمت کو ترجیح دیتا ہے، اقتدار کو نہیں؟

تلہ گنگ کی پنجابی میں ایک پرانی کہاوت ہے:
"اے داند کہڑا، جیڑا میلہ کراہ وچ نہ کھلووے؟”
یعنی وہ بیل کیا بیل، جو اصل وقت میلہ کروائے بغیر صرف ڈیرے میں شوخی دکھاتا پھرے؟

آج ہم سب وہی بیل ہیں — صرف ڈیرے میں شوخی دکھانے والے! ہم صرف تقاریب، بینرز، اور سوشل میڈیا پر چمک دکھاتے ہیں۔
جب اصل میدانِ عمل آتا ہے — تو یا ہم خاموش ہو جاتے ہیں، یا پسپائی اختیار کرتے ہیں۔

قوموں کی عظمت صرف ان کے ہتھیاروں سے نہیں، ان کے نظریات سے ہوتی ہے۔
ہم ایٹمی طاقت ضرور ہیں، مگر کیا ہم اخلاقی قوت بھی ہیں؟
کیا ہم سچ برداشت کر سکتے ہیں؟
کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کر سکتے ہیں؟
کیا ہم اصلاح کے لیے قدم بڑھا سکتے ہیں؟

پاکستان کی اصل شان اس کے ادارے ہیں —
آزاد عدلیہ، باوقار پارلیمان، بااخلاق میڈیا، اور جواب دہ بیوروکریسی۔
اگر یہ سب کمزور ہو جائیں، تو جھنڈے کا سایہ لمبا ضرور ہوتا ہے، مگر سایہ کبھی ستون نہیں بنتا۔

"شانِ پاکستان” ہر اس فرد سے شروع ہوتی ہے جو ایمانداری، دیانت، سچائی اور محنت کو اپنا شعار بناتا ہے۔
وہ شہری جو قطار میں کھڑا ہونا سیکھتا ہے،
وہ طالبعلم جو نقل نہیں کرتا،
وہ اہلکار جو رشوت کو حرام سمجھتا ہے،
اور وہ رہنما جو اقتدار کو امانت مانتا ہے — یہی وہ لوگ ہیں جو شانِ پاکستان کو زندہ رکھتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان صرف ایک شناختی کارڈ پر لکھا ہوا نام نہیں، یہ ایک طرزِ زندگی ہے۔
ایک نظریہ، جو ہر قدم، ہر فیصلے، اور ہر سانس میں جھلکنا چاہیے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا:
کیا ہم پاکستان کو صرف سوالوں کی زد میں رکھنا چاہتے ہیں؟
یا ہم خود کو اس کا جواب بنانے پر تیار ہیں؟

پاکستان کسی ایک قوم، زبان، یا علاقے کا نام نہیں — یہ ایک اجتماعی خواب ہے۔
ایک ایسی تعبیر، جو ہر پاکستانی کے خلوص، قربانی، اور دیانت سے جُڑی ہے۔

یاد رکھیں، یہ تحریر کوئی قصیدہ نہیں۔
یہ تعریف کا ترانہ نہیں۔
یہ تلخ سچ کی روشنی ہے، جو اندھیرے میں جلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ ہم سب کے لیے دعوتِ فکر ہے —
کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ "شانِ پاکستان” صرف ایک خواب بن جائے…
اور ہم صرف خواب دیکھتے رہ جائیں۔

Shares: