شانِ پاکستان
تحریر:رباب گل
جب وطن کی بات ہو، تو ہر محبِ وطن کا دل جوشِ محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ہمارے جذبات، ہمارے خواب، ہماری پہچان اور ہماری روح کی آواز ہے۔ جب ایک بچہ اس پاک سرزمین پر جنم لیتا ہے، وہ صرف ایک فردِ وطن نہیں ہوتا بلکہ ایک چراغ ہوتا ہے، جو آگے چل کر اس ملک کی روشنی بنے گا۔ اگر اسے گھر سے وطن کی محبت کا سبق ملے تو وہ چاہے ابھی دنیا کے علوم سے ناآشنا ہو، لیکن اتنا ضرور جانتا ہے کہ جب کوئی کہے "پاکستان”، تو اُس کا جواب "زندہ باد” کے نعرے سے دینا ہے۔

پاکستان کا قومی ترانہ جب کسی محفل میں گونجتا ہے تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جسم میں ایک عجب سا جوش دوڑنے لگتا ہے، آنکھیں چمکنے لگتی ہیں اور سینہ فخر سے تن جاتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو سرحدوں سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں بھی ویسے ہی بیدار ہوتا ہے، جیسے وہ وطن کی مٹی میں سانس لے رہے ہوں۔ یہ مٹی اتنی پیاری ہے کہ پردیس کی چمک دمک بھی اس کے مقابلے میں ماند پڑ جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل کی وہ دولت عطا کی ہے، جس پر دنیا رشک کرتی ہے۔ یہاں کے میدان ہوں یا پہاڑ، سمندر ہو یا صحرا، دریا ہو یا سونا اگلتی زمین ہر منظر قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ ایسی زمین جو گندم، چاول، مکئی، کپاس، گنا، سبزیاں اور لذیذ پھلوں سے بھری پڑی ہے۔

یہی نہیں، یہاں کی معدنیات، قدرتی گیس اور توانائی کے ذخائر دنیا کے لیے حیرت کا باعث ہیں اس خطے کو رب العالمین نے ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ دنیا رشک کرتی ہے، جو ہمارے پاس قدرتی طور پہ موجود ہے سارے یورپین ممالک اس طرح کی مصنوعی سجاوٹیں بنا کر دنیا کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔

مالکِ کریم نے پاکستان کی سر زمین اس قدر خوبصورت بنائی کہ یہاں کونسی نعمت جو نہیں ہے سمندر ،دریا ، معدنیات ، پہاڑ ، صحرا اور سونا اگلتی زمین سے نوازا ہے کوئی ایسی فصل نہیں جو یہاں نہیں ہوتی گندم ، باجرہ ، مکئی ، گنا ، کپاس ہر طرح کی سبزیاں اور پھل یہاں اس زمین پہ اگتے ہیں ۔ دوسرے ممالک ہمارے ملک سے اشیاء فروخت کرتے درآمدات برآمدات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور اس طرح ملکی معیشت بھی بہتر رہتی ہے اور دوستانہ تعلقات بھی بحال رہتے ہیں ۔۔

پاکستان کی معیشت کا پہیہ بھی اسی زرخیز زمین اور محنتی عوام کے باعث رواں دواں ہے۔ درآمدات و برآمدات کے ذریعے ہم نہ صرف دنیا سے روابط استوار کرتے ہیں بلکہ اپنے اقتصادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں، جن میں سب سے نمایاں چین ہے جس کی دوستی آزمائشوں کے ہر لمحے میں ہمارے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔ یہی ہماری اصل پہچان ہے۔ جب کوئی پوچھتا ہے کہ "پاکستان کا مطلب کیا ہے؟” تو ہم سینہ تان کر، فخر سے کہتے ہیں:
"لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”۔

یہی کلمہ ہماری رگوں میں لہو بن کر دوڑتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر مذہب، ہر قوم، ہر رنگ اور ہر نسل کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد، ہندوؤں کے مندر، عیسائیوں کے گرجا گھر اور سکھوں کے گردوارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان میں ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہ وسعتِ قلبی اور رواداری شاید ہی کسی اور ملک میں دیکھنے کو ملے۔

پاکستان چار خوبصورت صوبوں پر مشتمل ہے اور ہر صوبہ اپنی ثقافت، زبان، لباس، رسم و رواج اور قدرتی تحائف کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، محبت کرنے والے اور باہمی احترام کے جذبے سے سرشار ہیں۔ پاکستان وہ خوش نصیب ملک ہے جسے چار حسین موسم عطا ہوئے ہیں، ہر موسم اپنے ساتھ رنگ، خوشبو اور ذائقے کی ایک نئی دنیا لے کر آتا ہے۔

یہ وطن بڑی قربانیوں سے حاصل ہوا۔ ماؤں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائیوں کو شہادت کے لیے رخصت کیا اور جوانوں نے اپنے خون سے اس پاک پرچم کی لاج رکھی۔ 14 اگست 1947 صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ایک خواب کی تعبیر ہے، ایک نئی صبح کی امید ہے، جو قربانیوں کی سرخی سے روشن ہوئی۔

اس وطن عزیز کے لیے کئی ماؤں نے اپنے لخت جگر قربان کیے، کئی بچے یتم ہوئے اور یہ سر زمین 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے حصے میں آئی ۔لوگ رشک کرتے ہیں اس سر زمین پہ کے جنت کے خطوں میں سے ایک خطہ ہے یہ ملک کشمیر کی وادیوں اور حسین مناظر سے مالا مال یہ ملک اور اس اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ پاکستانی پرچم کے سائے تلے ایک مٹھی ہیں کی مانند ہیں ۔۔

پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ہے، جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر پل تیار رہتی ہے۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ اٹھائی، ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس سرزمین کو بچایا۔ ہماری فوج صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان، قربانی اور غیرت سے لیس ہے۔

پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور یہی طاقت دشمن کو حملے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ چاہے ہم میں اختلافات ہوں، لیکن جب بات پاکستان کی عزت اور سالمیت کی ہو، تو ہم سب ایک پرچم تلے، ایک قوم بن جاتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ اس اتحاد اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے، جب بچے، جوان، بوڑھے سب وطن کے لیے یکجان ہو گئے۔

ہمیں اپنے پاکستان پر فخر ہے اور ہم دعا گو ہیں کہ رب العالمین اس وطن کو ہمیشہ سلامت رکھے، ترقی دے اور ہم سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔

اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین، ثم آمین۔

Shares: