شان پاکستان
تحریر:سیدہ فاطمہ
اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمارا ملک پاکستان ہےجو ہمارے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اور لاکھوں مسلمانوں کی جان و مال کی قربانیاں دینے کے بعد حاصل ہوا ۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے ملک پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔پاکستان ہمارا ملک بہت ساری خوبصورتیوں سے مالا مال ہے۔ قومی زبان ، قومی ترانہ ، عظمت ، وقار ، تاریخ ثقافت ، قدرتی حسن ، قدرتی خزانے،مساجد ،پاکستان میں کئی تاریخی اور خوبصورت مساجد ہیں جو اس کی اسلامی شناخت کو ظاہر کرتی ہیں ۔

پاکستان کی سرزمین پر کئی عظیم تہذیبوں نے جنم لیا ،جن میں وادی سندھ کی تہذیب بھی شامل ہے۔پاکستان کی معیشت زراعت ،صنعت اور خدمات پر مشتمل ہے۔سیاست ، پاکستان ایک جمہوری ریاست ہےاور اس کا نظام حکومت پارلیمانی ہے ۔

پائیدار ترقی کے لیے امن کی ضرورت ہے ـ غربت کا خاتمہ ، بھوک کا خاتمہ ، بہتر صحت ، آسودہ زندگی ، معیاری تعلیم ، صنعتی مساوات ، صاف پانی اور صفائی ، باکفایت اور صاف توانائی ، معقول روزگار اور معاشی نمو ، پائیدار شہر اور آبادیاں ، ذمہ دارانہ تصرف اور پائیدار ، صنعت جدت پسندی اور انفراسٹرکچر ، عدم مساوات میں کمی ، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدام ، زیر آب حیات ،زمین پر زندگی ، امن ، انصاف اور مضبوط ادارے ، مقاصد کے لیے شراکت داری ۔

ان تمام شرائط پر عمل کرنے کے بعد ہی پائیدار ترقی کے لیے امن کی ضرورت مکمل ہو سکتی ہے۔امن کے لیے قوم میں اتحاد اور یکجہتی قائم کرنے کے بعد ہی ملک پاکستان میں پائیدار ترقی ہو سکتی ہےـ!

قدرتی حسن ، پاکستان میں ہمالیہ ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے ، سرسبز و شاداب وادیاں ، صحرا اور ساحل سمندر جیسی متنوع قدرتی خزانے خوبصورتیاں پائی جاتی ہیں۔پاکستان کی ثقافت بہت امیر اور متنوع ہے، جس میں مختلف زبانیں ، روایات اور فنون لطیفہ شامل ہیں ۔پاکستانی عوام محنتی ، مہمان نواز اور بہادر سمجھے جاتے ہیں ۔

ہمارا پرچم ملک پاکستان کی شان ہے۔ ہم سب پاکستانی قوم جشنِ آزادی جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔ اپنے گھر ، سکولوں ، گلیوں کو سجاتے ہیں ۔ کپڑے بناتے ہیں اور اسٹیکرز بھی خریدتے ہیں ۔

ہمیں اپنے وطن سے محبت کرنے کے لیے خدمات انجام دینی چاہیے ۔ امن ، اتحاد ، بھائی چارہ قائم کرنے کے بعد ہی ہمیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔!
پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الااللہ

پہلے ہمیں پاکستان کا مقصد سمجھنا چاہیے ۔ ہمارا ایمان ، عقیدہ درست ہونا چاہیے تاکہ آزاد ملک پاکستان کی حفاظت ، خدمات ایمانداری سے انجام دیں ۔ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ معاشرتی ، اقتصادی اور سماجی نظام قائم کرنا ضروری ہے ۔ تعلیمی اداروں کا نظام اعلیٰ ہونا چاہیے تاکہ تعلیم ہر فرد کا حق ادا ہو جائے ۔ شہری کو انصاف ملے ، غربت کا خاتمہ ہو، کوئی بھوکا ، پیاسا نہ سوئے ۔ ہر فرد کی انفرادی اور اجتماعی آزادی ، عزت نفس ،حقوق اور انصاف کی فراہمی سے جڑی ہوتی ہے ۔

ہماری پاکستانی افواج ہمارے ملک پاکستان کی شان ہے ۔

معاشرے میں انسان کی شخصیت کی پہچان اس کے اچھے اخلاق سے نمایاں ہوتی ہے ۔ انسان کی شخصیت ہی اس کے کردار کا آئینہ ہوتی ہےـ!

ایک خوبصورت معاشرہ کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے اور صبر وتحمل کے ساتھ سب کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔!

جب ہمارا ہر کام اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہو جائے گا تو دنیا آخرت میں کامیابی حاصل ہو جائے گی ـ
"پیارے نبی محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔!”ہمیں بھی سیرتِ مبارکہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔

ایک خوبصورت معاشرہ کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے اور صبر وتحمل کے ساتھ سب کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔!

پاکستان کی معیشت زراعت ، صنعت اور خدمات پر مشتمل ہے۔ 14اگست ہمیں یاد دلاتا کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ۔
دلانے کا دن ہے بلکہ یہ بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا باقی ہےـ آ زادی کی حفاظت اور اس کے ثمرات کو ہر شہری تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ـ

ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے درپیش مسائل کا سامنا کریں گے اور اسے حقیقی معنوں میں آزاد اور خوشحال بنائیں گے ـ صرف اسی صورت میں ہم اپنے اسلاف کے خواب کو پورا کر سکیں گے اور 14اگست کو ایک حقیقی آزادی
کا دن قرار دے سکیں گے ـ کیونکہ آزادی محض ایک لفظ تاریخ کا حصہ نہیں ، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس کا مقصد ہر شہری کو آ زادی اور انصاف فراہم کرتا ہے ۔ 14اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اس مقصد کے حصول کے لیے وقف کرنی ہیں ـ!

ہمارے اسلاف نے جو خواب دیکھا تھا وہ ایک فلاحی ریاست کا تھا جہاں ہر شہری کو انصاف ملے ، جہاں کوئی بھوکا پیاسا نہ سوئے ، جہاں تعلیم ہر فرد کا حق ہو اور جہاں قانون کی حکمرانی ہوـ لیکن آ ج ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے کہ ہم اس خواب کی کتنی تکمیل کر پائے ہیں۔ 14 اگست کا دن ہمیں ہر سال ملک پاکستان کی آ زادی یاد دلاتا ہے۔

ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے درپیش مسائل کا سامنا کریں گے اور اسے حقیقی معنوں میں آزاد اور خوشحال بنائیں گے ۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنے اسلاف کے خواب کو پورا کر سکیں گے اور 14 اگست کو ایک حقیقی آزادی کا دن قرار دے سکیں گے ۔

آزادی محض ایک لفظ تاریخ کا حصہ نہیں ، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے۔!

Shares: