شانِ پاکستان
تحریر:طوبیٰ خان
جب کوئی پرندہ آزاد فضا میں پر پھیلاتا ہے، تو وہ لمحہ خود ایک نعمت ہوتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں بھی آزادی ایسی ہی ایک نعمت ہے جسے حاصل کرنے کے لیے نسلوں نے قربانیاں دی ہوتی ہیں۔ پاکستان… محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب، ایک دعا اور ایک مقصد کا نام ہے۔ یہ ملک صرف جغرافیے کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی آنکھوں کی چمک، ماؤں کے آنسو، بہنوں کی قربانی، اور ان لاکھوں دعاؤں کی قبولیت ہے جو سجدوں میں مانگی گئیں۔ یہی سب کچھ، یہی سب قربانیاں، اور یہی سب خواب، "شانِ پاکستان” کہلاتے ہیں۔

پاکستان کی بنیاد "لا الٰہ الا اللہ” پر رکھی گئی۔ یہ وہ نعرہ تھا جس نے قوم کے دلوں میں ایک نئی روح پھونکی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت اور علامہ محمد اقبالؒ کے فکرانگیز خواب نے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی پہچان دی۔ تحریکِ پاکستان ایک ایسی تحریک تھی جس کا مرکز و محور اسلام اور مسلمانوں کی جداگانہ شناخت تھی۔ یہ ملک، نظریاتی اساس پر قائم ہوا، اور یہی نظریہ، اس کی سب سے بڑی "شان” ہے۔

پاکستان نے ابتدا ہی سے علم اور عسکریت کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی۔ ہمارے سائنسدانوں، انجینئرز، اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے دنیا کو دکھایا کہ ہم کسی سے کم نہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملائے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے فخر کا باعث بنے۔ یہی نہیں، خلائی تحقیق، طب، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

پاکستان کی اصل شان اس کے وہ سپوت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں دنیا کو حیران کیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان – جنہوں نے دشمن کے غرور کو توڑا۔
ارفہ کریم – دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل، جو پاکستان کی ذہانت کی علامت بنی۔
ملیحہ لودھی – اقوام متحدہ میں پاکستان کی باوقار نمائندہ، جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی آواز بن کر دنیا کو ہمارا اصل چہرہ دکھایا۔
عبد الستار ایدھی – انسانیت کی خدمت میں پاکستان کی نرم ترین تصویر، جنہیں ساری دنیا "فرشتہ” کہتی رہی۔
یہ سب لوگ "شانِ پاکستان” کی وہ زندہ مثالیں ہیں جن پر ہم بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔

پاکستان کی تہذیب، روایات اور ثقافتیں خود اپنی مثال ہیں۔ پنجاب کی محبت، سندھ کی وفا، بلوچستان کی غیرت، خیبر پختونخوا کی دلیری، اور گلگت بلتستان کی سادگی… سب مل کر پاکستان کی ثقافتی شان کو مکمل کرتے ہیں۔
ہماری شاعری، موسیقی، لباس، کھانے، اور تہوار سب ہمارے وجود کی شناخت ہیں۔ اردو زبان خود ایک ایسی دولت ہے جو ہمیں جوڑتی ہے، اور ہماری تحریری اور ادبی وراثت کو سنوارتی ہے۔

پاکستان آج بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے، نوجوانوں کی جدوجہد، سٹارٹ اپس، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فیلڈز، اور تعلیمی میدان میں ہماری کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں۔
کراچی سے لے کر خیبر تک، پاکستان کے نوجوان اب صرف خواب نہیں دیکھتے بلکہ انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ یہی نوجوان، ہماری سب سے بڑی امید، اور سب سے بڑی "شان” ہیں۔

یقیناً ہمیں مسائل کا سامنا ہے — مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، اور تعلیم و صحت جیسے چیلنجز۔ مگر ان سے نمٹنے کی طاقت بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ جس قوم نے صفر سے ایک ملک بنایا، وہ ان بحرانوں کو بھی عبور کر سکتی ہے۔ ہمیں صرف ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

"شانِ پاکستان” صرف ماضی کی داستان نہیں، بلکہ حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امید بھی ہے۔ یہ ملک ہمیں یوں ہی نہیں ملا، اس کے پیچھے ان گنت قربانیاں ہیں۔ ہمیں نہ صرف اس کی حفاظت کرنی ہے بلکہ اسے سنوارنا بھی ہے۔
آیئے! اس یومِ آزادی پر ہم سب یہ عہد کریں کہ
ہم قلم اٹھائیں گے، علم پھیلائیں گے، خدمت کریں گے، اور اپنے پاکستان کو دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح چمکائیں گے۔

پاکستان کی شان صرف اس کی ایٹمی طاقت یا جغرافیائی اہمیت میں نہیں، بلکہ اس کی اصل شان اُس قوم میں ہے جو سختیوں کے باوجود اپنی امید نہیں چھوڑتی۔ ایک دیہاڑی دار مزدور، جو پسینے میں شرابور ہو کر اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا خواب دیکھتا ہے؛ ایک استاد، جو کم تنخواہ کے باوجود بچوں کے ذہنوں کو روشن کرنے کا عزم رکھتا ہے؛ ایک فوجی، جو ہر لمحہ سرحد پر کھڑا ہے تاکہ وطن کی نیندیں محفوظ رہیں — یہی سب لوگ پاکستان کی حقیقی شان ہیں۔
ایک عام شہری کا دیانتداری سے جینا، چھوٹے تاجر کا حلال رزق کمانا، ایک طالب علم کا علم کی تلاش میں محنت کرنا — یہ سب وہ روشن چہرے ہیں جو کسی قوم کی اصل شناخت بنتے ہیں۔ آج اگر ہم پاکستان کی ترقی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اسی کردار سازی کی طرف لوٹنا ہوگا جس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے رکھی تھی۔

پاکستان کی خواتین بھی شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہیں۔ تحریکِ آزادی میں فاطمہ جناحؒ کا کردار، ادب میں بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب کے ہم قدم خواتین کردار، اور آج کی جدید پاکستانی خواتین — ڈاکٹرز، اساتذہ، پائلٹ، وکیل، سائنسدان — سب اپنی جگہ ایک نشانِ فخر ہیں۔

دیہاتی عورت ہو یا شہری، ماں ہو یا بیٹی، استانی ہو یا طالبہ — وہ اپنی محنت، قربانی اور خلوص سے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ ان کے بغیر نہ گھر مکمل ہوتا ہے، نہ معاشرہ اور نہ وطن۔

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے وجود کو ہمیشہ چیلنج کیا گیا، کبھی اندرونی سازشوں سے، تو کبھی بیرونی دشمنوں سے۔ مگر ہر مرتبہ قوم نے متحد ہو کر یہ پیغام دیا کہ ہم ایک جسم ہیں، ایک قوم ہیں، ایک دل کی دھڑکن ہیں۔ جب زلزلے آئے، جب سیلاب آئے، جب دشمنوں نے وار کیے — پاکستانیوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ثابت کیا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔
"شانِ پاکستان” کسی نعرے یا علامت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل جذبے، قربانی، اور امید کا نام ہے۔ ایک خواب تھا جو اقبال نے دیکھا، ایک حقیقت تھی جو جناح نے بنائی، اور اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے پروان چڑھائیں۔

یہ ملک ہمارا فخر ہے، ہماری شناخت ہے، اور ہمارے بچوں کا مستقبل بھی۔ ہمیں تعلیم، اخلاق، عدل، اور خدمت کے ذریعے اس سرزمین کو وہ شان دینا ہے جو اس کا حق ہے۔

خدایا! ہمارے اس وطن کو سلامت رکھ،
اس کی ہوائیں، اس کی فضائیں، اس کے دریا، اس کی مٹی —
سب کو امن و سکون عطا فرما۔
ہمیں ایسا بننے کی توفیق دے کہ دنیا دیکھے،
کہ پاکستان نہ صرف ایٹمی طاقت ہے بلکہ اخلاقی اور تہذیبی طاقت بھی ہے۔
آئیے! ہم سب وعدہ کریں:
سچ بولیں گے
وطن سے محبت کریں گے
فرقہ واریت، نفرت، اور انتشار سے بچیں گے
اور پاکستان کو دنیا کا فخر بنائیں گے۔
کیونکہ… پاکستان ہے، تو ہم ہیں!
پاکستان زندہ باد

Shares: