شان پاکستان
تحریر: ظفر اقبال ظفر
پاکستان کی شان آسمانی تحفہ ہے جس کا اندازہ مسلمانیت ایمان کی روح سے اس طرح لگا سکتی ہے کہ پاکستان رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو مسلمانوں پر نازل ہوا جو رات نزولِ قرآن کی ہے، وہی رات نزولِ پاکستان کی ہے۔ یہ شانِ پاکستان کی وہ دلیل ہے جیسے کمزور سے کمزور ایمان والا مسلمان بھی فراموش نہیں کر سکتا۔ پاکستان سے محبت کرنا سنت، اس کی حفاظت کرنا فرض، اور اس سے یزیدی نظام ختم کرنا مقصدِ شہادتِ حسینؓ ہے۔
پاکستان کی آسمانی عطا کردہ شان کو برقرار رکھنے کے لیے ماضی میں جا کر اس ملک کی بنیادوں کی سچائیوں سے آج کی نسل کو واقفیت دلانا بہت ضروری ہے۔ یہ شان پاکستان کے مقدروں میں یونہی نہیں آئی۔ چلیں آپ کو قیامِ پاکستان کی بنیادوں سمیت مختلف پہلوؤں سے ملواتے ہیں۔
آج پونی صدی ہوگی آزاد ہوئے، مگر پلٹ کر قیامِ پاکستان کے وقت کو یاد کرتے ہیں تو روح غمزادہ ہو کر آنکھوں سے آنسو ٹپکاتے ہوئے اُس دشوار مرحلے کی داستان سنانے لگتی ہے۔ ایک ایسی ہجرت جو پاکستان بننے والی زمین کو اپنا خون پلا کر آباد کرنے پر مبنی تھی۔ وہ منظر حیرت و حوصلے پر مبنی تھے جب لاکھوں خاندان پاکستان کے نام پر اپنا سب کچھ ایک پوٹلی میں باندھ کر چل دئیے تھے۔
پونی صدی بیت جانے کے بعد اپنے بزرگوں کی ہجرت کا مقصد اور شانِ پاکستان کے نظریات اپنے سامنے رکھتا ہوں تو میرے اندر دورانِ ہجرت جیسے زخم نمودار ہونے لگتے ہیں۔ آزادی کے نام پر اس ملک کے لیے قربانیاں دینے والوں کی نسلوں پر غلامی کے حالات دیکھ کر خون کھولتا ہے۔ تب پاکستان بنانے میں غریبوں کا خون بہا تھا، آج پاکستان کو چلانے کے لیے غریبوں کا خون نچھوڑا جاتا ہے۔
آزادی آخر ہے کیا؟ طاقت کے استعمال سے انسانیت پر ظلم کرنے والوں سے آزادی؟ یا قانون کو اپنے مفاد میں استعمال کرکے دوسروں کا مفاد ہتھیانے والوں سے آزادی؟ یا ناانصافی کرنے والوں سے آزادی؟ یا وسائل پر قابض لوگوں سے آزادی؟ یا ایک مذہب پر دوسرے مذہب کے لوگوں کی حکومت سے آزادی؟ یا ہماری قسمت و مستقبل کے غلط فیصلے کرنے والوں سے آزادی؟ گویا تمام ظالمانہ حالات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پانے کی تحریک کا نام تھا آزادی۔ یہ وہ مقصد تھا جو قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ اور ان کے تمام ساتھیوں کی کاوشوں کا محور تھا۔
ہندوستان کی کثیر مذہبی و سیاسی قیادتیں آزادی کو انگریز کی روانگی سے منسلک کرتی تھیں اور مسلمانوں کے نزدیک آزادی کا جو مفہوم تھا اسے حضرت علامہ اقبالؒ نے ترجمانی کرتے ہوئے یوں بیان کیا کہ پاکستان دارالسلام بن جائے، ہم نہیں بلکہ اسلام آزاد ہوجائے۔
تصورِ پاکستان کا حقیقی مقصد ہی یہی تھا۔ اس نظریے کو ہندؤں نے مسلمانوں کو قائل کرنے کے لیے یہ اعلان و اقرار کیا کہ مسلمان مطالبہ قیامِ پاکستان سے پیچھے ہٹ جائیں، ہم یہاں اسلام کی آزادی اور تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ جس پر علامہ اقبالؒ نے تبسم لب سے مسلم علما کو جواب دیا کہ جو فرق آزادی اور آزادی کے مفہوم میں بیان کیا ہے اس سے کہیں زیادہ فرق اسلام اور اسلام کے مفہوم میں ہے۔
آپ حضرات کے نزدیک اسلام وہ ہے جو ہمارے دورِ ملکیت میں وضع ہوا اور تراشا گیا۔ اُس میں تو مسلمان غلام کا غلام ہی رہا۔ مسلمانوں کے نزدیک آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک خدا کے اطاعت گزار ہوں اور کسی انسان کی حکومت ان کے اوپر نہ ہو۔ اور آپ جس اسلام کو اسلام کہہ رہے ہیں، اس میں سوائے اس کے کہ آپ کو چند اقدامات یا کچھ شخصی قوانین کی آزادی ہے، اس سے آگے تو کوئی آزادی ان کو نہیں ملے گی۔ یہ فرق ہے آپ کے اسلام میں اور اُس اسلام میں جس کی خاطر ہم آزادی چاہتے ہیں۔
اس حالت کو حضرت علامہ اقبالؒ نے اپنے شعر میں یوں کہا:
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
مسلمان ہونے کی حیثیت سے انگریز کی غلامی کے بند توڑ کر اس کے اقتدار کو ختم کرنا ہمارا فرض ہے، لیکن اس آزادی سے ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم آزاد ہو جائیں بلکہ ہمارا اول مقصد یہ ہے کہ اسلام آزاد ہو اور مسلمان طاقتور بن جائیں۔ اس لیے مسلمان کسی ایسی حکومت کے قیام میں مددگار نہیں ہو سکتا جس کی بنیادیں انہی اصولوں پر ہوں جن پر انگریزی حکومت قائم ہے۔
ایک باطل کو مٹا کر دوسرے باطل کو قائم کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کلیۃً نہیں تو بڑی حد تک دارالسلام بن جائے۔ لیکن اگر آزادیٔ ہند کا نتیجہ یہ ہو کہ جیسا دارالکفر ہے ویسا ہی رہے یا اس سے بھی بدتر ہو جائے تو مسلمان ایسی آزادیٔ وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے۔ ایسی آزادی کی راہ میں لکھنا، بولنا، روپیہ خرچ کرنا، لاٹھیاں کھانا، جیل جانا، گولی کا نشانہ بننا— سب کچھ حرام اور قطعی حرام ہے۔
آزادی زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے پہ ہجرت کرنے کا نام نہیں بلکہ آزادی ظالمانہ نظام سے چھٹکارا پا کر حقوقِ انسانیت کے حصول کا نام ہے۔ عزت، سکون، تحفظ، قانون، روزگار، اور مذہبی اصولوں میں زندگی گزارنے کا نام ہے آزادیٔ پاکستان۔
وطن کے اچھے حالات ہی وطن سے محبت کرنا سکھاتے ہیں اور برے حالات ہی آزادی کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ زمینیں انسانوں پر ظلم نہیں کرتیں بلکہ انسان ہی زمین پر ظلم کرتے ہیں، یعنی لوگوں پر زمین تنگ کر دیتے ہیں۔
پاکستان کی پاکیزہ زمین کی شان تو دیکھئے، جو اپنے مقدس پن میں سجدوں کے قابل ہے۔ جس طرح اس زمین پر کیا جانے والا سجدہ خدا کو پہنچتا ہے، اسی طرح اس زمین پر ہونے والا ہر ظلم بھی خدا تک پہنچتا ہے۔
آزادی نظام کی تبدیلی سے ہی ترقی و مضبوطی پر فائز ہوتی ہے۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی، لا قانونیت، اور سب سے بڑھ کر اسلام مخالف اقدامات، اس مقدس سرزمین پاکستان کی شان کے خلاف سب سے بڑی توہین ہیں۔ اس قابلِ شرمندگی نظام سے آزادی ہی حقیقی آزادی کا مفہوم ہے۔
سچا محب وطن وہی ہے جو اس ملک کو اقبال و جناح کا پاکستان بنانے کی جدوجہد کرے۔ پاکستان کو شان خدا نے بخشی ہے، اس شان کو بڑھائے رکھنا ہماری محب وطنی ہے۔