شانِ پاکستان
تحریر: زید محسن
کسی بھی قوم کیلیے ملک کا وجود اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی ملک کیلئے قوم کا وجود لازم ہے۔ یہ علمِ مدنیت کا مسلّمہ قانون ہے کہ کرہ ارض کا کوئی خطہ اس وقت ایک مخصوص ملک کہلانے لگتا ہے، جب اس میں ایک مخصوص تعداد میں افراد آ بستے ہیں، اور وہ افراد جو زمین کے کسی حصے پر آ بستے ہیں، ان کیلئے وہ حصہ ملک ہو جاتا ہے اور وہ افراد اس ملک کی قوم بن جاتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوم و ملک لازم و ملزوم ہیں۔

ایک دوسرے کے بغیر ان دونوں کا وجود یا تو ہوتا نہیں ہے، اگر ہوتا ہے تو خطرے میں ہوتا ہے۔ ہاں البتہ ترجیحات کے حوالے سے تفاوت ہو جاتا ہے کہ کبھی قوم کو ملک کی زیادہ ضرورت پڑ جاتی ہے اور کبھی ملک کو قوم کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔

ایک وقت تھا کہ ہم افراد کی صورت میں ایک ملک کی تلاش میں تھے کیونکہ جس ملک کی ہم قوم تھے وہاں ہماری قومیت خطرے سے دوچار تھی، سو کل ہمیں ایک ملک کی ضرورت تھی، جو پاکستان کی صورت حاصل ہوا اور آج اس ملک کو قوم کی ضرورت ہے جو پاکستان کی شان اور آن کو بڑھائے اور خود شانِ پاکستان بن جائے۔

کسی بھی ملک کی شان کا انحصار اس کی قوم پر ہوتا ہے اور خود قوموں کی شان افراد کے ہاتھوں بڑھتی ہے، جیسا کہ اقبال رحمتہ اللّٰہ علیہ نے فرمایا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

اس شعر کے ذریعہ اقبال قوم کے ہر ہر فرد کے اندر اس جذبے اور شعور کو اجاگر فرما رہے ہیں کہ جب قوم کا ہر ایک فرد اپنے حصے کا کام کرتا ہے تو تقدیرِ اُمم و ممالیک بدلنا شروع ہوتی ہے۔ پھر ملک کی شان و شوکت بڑھتی ہے اور قوموں کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔

اگر ہم اس تناظر میں دیکھیں تو اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان کی شان و شوکت کی اصل ضمانت بھی قوم ہی ہے اور شانِ پاکستان بھی قومِ پاکستان ہی ہے۔

قوم کا ہر وہ شخص جو تعمیر و ترقی میں ذرا برابر بھی حصّہ ملا رہا ہو، چاہے وہ تندور پر بیٹھا نان بائی ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کو پیٹ بھر کر جینا نصیب ہوتا ہے۔ چاہے وہ کھیت میں کام کرتا کسان ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کی خوراک کا بندوبست ہوتا ہے۔ چاہے وہ گھر بنانے والا دیہاڑی دار مزدور ہو کہ جس کے ذریعہ سے قوم کو سر ڈھانکنے کی جگہ ملتی ہے۔ چاہے وہ مختلف قسم کی تجارت کرنے والا تاجر ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کے پیسے کا پہیہ گھومتا ہے۔ چاہے وہ چھوٹی بڑی نوکریاں کرنے والا کوئی فرد ہو کہ جس کے ذریعہ سے قوم کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ چاہے وہ مسند پر بیٹھا ہوا عالمِ حق ہو کہ جس کی راست گوئی اور تربیت سے قوم کے دین کی حفاظت ہوتی ہے۔ چاہے وہ انتظامی امور سے متعلقہ کوئی فرد ہو کہ جس کے ذریعے قوم کے انتظامات چل رہے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ برّی، بحری یا فضائی سرحدوں پر پہرا دیتا محافظ ہو کہ جس کے ذریعے قوم کی حفاظت ہوتی ہے۔

الغرض، ہر وہ شخص جو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ملا رہا ہے اور تخریب و انہدام سے بچا رہا ہے، وہ نہ صرف شانِ پاکستان کو بڑھا رہا ہے، بلکہ خود بھی شانِ پاکستان اور ملک و قوم کا ستارہ بنتا جا رہا ہے۔

اس کے بر خلاف وہ شخص جو ملک کی ترقی کی بجائے نقصان اور انہدام کو اپنی زندگی کا حصّہ بنا رہا ہے اور اس کی ترجیحات میں ملکی اور قومی مفاد بعد میں اور تنظیمی یا انفرادی مفاد پہلے ہے، وہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے پاکستان کی شان کو گھٹانے کیلئے کوشاں ہے۔ چاہے وہ بغاوت پر اترا ہوا ہتھیار اور اسلحے سے لیس باغی ہو۔ چاہے وہ حکومتی عہدوں پر بر اجمان رشوت خور اور میرٹ کا قاتل عہدے دار ہو۔ چاہے وہ وردی میں ملبوس لیکن غیروں کے ہاتھوں فروخت شدہ ذہنیت رکھنے والا غدار فوجی ہو۔ چاہے وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا وہ فرد ہو جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہو۔ چاہے وہ پاکستان سے باہر بیٹھ کر تخریب کاری میں ملوث باغی ہو یا غیر ذمہ دار شہری ہو۔

الغرض جو کوئی بھی ذاتی مفاد کیلیے قومی و ملی نقصان کا باعث بن رہا ہے، یا ملک کو خطرات کی طرف دھکیل رہا ہے، یا کسی بھی انداز سے ملک و قوم کے سر کو نیچا کرنے ذریعہ بن رہا ہے وہ شانِ پاکستان میں کمی کا ذمہ دار ہے، کیونکہ ملک میں رہتے ہوئے یا بیرونِ ملک ہوتے ہوئے کوئی بھی اقدام فرد کا ذاتی اقدام نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک قوم کا تشخص بن جاتا ہے اور قومیں ملک کے نام سے موسوم ہو جاتی ہیں اور پھر جب جب قوم کے کسی برے عمل کا تذکرہ ہوتا ہے تب تب ملک کے اوپر تنقیدی انگلی اٹھ جاتی ہے۔

اسی لئے اگر شانِ پاکستان مطلوب ہے تو ہمیں بحیثیتِ مجموعی و انفرادی اپنے کردار، گفتار، اطوار اور اقدار پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ ہم ہی پاکستان ہیں اور ہم ہی پاکستان کی شان بڑھانے یا گھٹانے کا ذریعہ ہیں۔

اور ایک آخری بات یہ بھی سمجھ لینی چاہیے کہ جس قدر پاکستان کی شان بڑھے گی اور جس قدر وطنِ عزیز کا نام بلند و بالا ہوگا، اسی قدر ہر ایک پاکستانی کی شان و شوکت میں بھی اضافہ ہوگا اور اتنا ہی معزز تر ہر پاکستانی بھی ہو جائے گا۔ سو بات وہی ہے کہ قوم کی شان و آن، ملک کی شان و شوکت میں ہے اور ملک کی شان، وقار و عظمت قوم کی شان و رفعت میں کیونکہ یہ دونوں ہی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ ان دونوں کی بقا بھی یکجا اور فنا بھی یکجا!

سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے!

Shares: