تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے ہنگامی اجلاس میں شیر افضل مروت کی پارٹی میں واپسی کے حوالے سے مشاورت کی گئی، جس میں پارٹی اراکین کی اکثریت نے ان کے حق میں رائے دی۔
ذرائع کے مطابق شیر افضل مروت پارلیمانی پارٹی کے بلانے پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران متعدد اراکین نے موقف اختیار کیا کہ شیر افضل مروت کو بھی سنا جانا چاہیے۔ اس موقع پر اسد قیصر، شہریار آفریدی اور نثار جٹ نے ان کی واپسی کی حمایت کی۔اجلاس میں شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر پارٹی کے اندر سے ہی میرے خلاف بیانات آئیں گے تو مجھے بھی جواب دینا پڑے گا، اگر اندرونی مخالفت بند ہو جائے تو میں بھی خاموش رہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے افراد ہی اگر الزامات لگائیں تو خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ "آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ نفرت کو جنم دے رہا ہے.
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے شیر افضل مروت سے کہا کہ وہ فی الحال خاموشی اختیار کریں، اور ان سے متعلق حتمی مؤقف بانی پی ٹی آئی کے سامنے رکھا جائے گا۔ اکثریتی اراکین نے ان کی حمایت کی، تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔شہریار آفریدی نے تصدیق کی کہ پارلیمانی پارٹی نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اسد قیصر نے بھی بیان میں کہا کہ فیصلے کا اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے اور اجلاس میں ہونے والی باتیں ان کے سامنے رکھی جائیں گی۔
دریں اثنا، اجلاس میں شاندانہ گلزار نے اعتراض اٹھایا کہ شہباز گل، شہزاد اکبر، عالیہ حمزہ اور دیگر رہنما بھی پارٹی قیادت کے خلاف بیانات دے چکے ہیں مگر کسی کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا، جبکہ مروت کے ساتھ رویہ مختلف اپنایا جا رہا ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان آج امن معاہدے پر دستخط کریں گے
تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے، الرٹ جاری
سعودی عرب نے غزہ پر قابض ہونے کے منصوبے کو مسترد کر دیا
سعودی عرب نے غزہ پر قابض ہونے کے منصوبے کو مسترد کر دیا
جرمنی کا اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی سے انکار، غزہ پالیسی پر کڑی تنقید