شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

شوپیاں انکاؤنٹر،کشمیری نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں فیک انکاؤنٹر میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کے والدین نے بھارتی فوج کے اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے

بھارتی فوج نے 18 جولائی کو شوپیان کے علاقے ایمشی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کوشہید کرنے کے بعد انہیں عسکریت پسند قرار دیا تھا ۔ تاہم بعد میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ نے ان کی شناخت امتیاز احمد ، ابرار احمد اور محمد ابرار کے نام سے کی تھی جو جموں خطے کے ضلع راجوری سے مزدوری کی غرض سے وادی کشمیر آئے تھے۔

اہلخانہ نے بھارتی فوج کی طر ف سے جاری کردہ تصویروں کے ذریعے اپنے پیاروں کی شناخت کی تھی۔ قابض بھارتی فوج نے گذشتہ روز اعتراف کیا کہ یہ نوجوان راجوری کے رہائشی تھے۔

مقتول نوجوانوں کے ایک رشتہ دار محمد سلیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تینوں مزدوری کی تلاش میں شوپیان گئے تھے جہاں بھارتی فوج نے انہیں جعلی مقابلے میں مار دیا۔ ڈی این اے نمونوں کی جلد از جلد تصدیق ہونی چاہئے تاکہ ہمیں اپنے بھائیوں کی لاشیں مل سکیں ۔

شہید نوجوان امتیاز احمد کے والد صابر حسین نے کہا کہ بھارتی فوج کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے قتل کے اس گھناؤنے جرم میں ملوث اپنے اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا اعلان کرے۔ میں اپنے بیٹے اور دو بھتیجوں کے لئے انصاف چاہتا ہوں ۔

مقتول نوجوانوں کے چچا لال حسین نے کہا کہ ان کے تین مطالبات ہیں، ہمیں اپنے پیاروں کی میتیں لوٹائی جائیں تاکہ ہم آبائی قبرستان میں انکی تدفین کرسکیں ، جعلی مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو پھانسی کی سزا دی جائے اور یہ بیان واپس لیا جائے کی ہمارے لڑکے عسکریت پسند تھے۔

شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.