سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) چیمبر آف کامرس کا بجٹ 2025-26 مسترد، 19 جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان،اکرام الحق، ریاض الدین شیخ، تاجر برادری کا ایف بی آر، IMF اور 37A/37B پر شدید ردعمل

ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کی طرح سیالکوٹ کے تاجروں نے بھی قومی بجٹ 2025-26 کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس کا اظہار سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اکرام الحق نے ایک اہم اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، جس میں بزنس کمیونٹی کی بڑی تعداد شریک تھی۔

اجلاس میں سینیئر نائب صدر شہباز وسیم لودھی، نائب صدر عمر خالد، چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد خلیل، چیئرمین میڈیا کمیٹی محمد اعجاز غوری، چیئرمین پولیس کمیٹی لالہ ظفر، شیخ خالد اور صحافی برادری بھی موجود تھی۔

صدر اکرام الحق نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ”پورا ملک سراپا احتجاج ہے، مگر وزیر خزانہ اور دیگر حکام ایک ایسے بجٹ پر مُصر ہیں جو مکمل طور پر بزنس کمیونٹی کے خلاف ہے۔ کاروباری طبقے کو 37A اور 37B جیسے کالے قوانین کے تحت دبایا جا رہا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائیں گے، یہ ملک بھر کے تاجروں کا متفقہ فیصلہ ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومتی رویہ یہی رہا تو بزنس کمیونٹی مجبور ہو کر سڑکوں پر نکلے گی۔ ایف بی آر سے متعلق شکایات پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا کہ

"کاروباری طبقہ سالوں سے ایف بی آر کے ہتھکنڈوں کا نشانہ بن رہا ہے، مگر اصلاحات کے بجائے مزید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔”

اس موقع پر اتحاد فاؤنڈرز گروپ کے چیئرمین ریاض الدین شیخ نے کہا کہ”ہم حکومت کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ EFS کا اصل اور مؤثر ماڈل بحال کیا جائے۔”

اجلاس کے اختتام پر مرکزی انجمن تاجران سیالکوٹ اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے متفقہ طور پر 19 جولائی 2025 بروز ہفتہ کو شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو احتجاج کا دائرہ ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی پالیسی سازوں پر عائد ہو گی۔

Shares: