ٹھٹھہ : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نہری منصوبوں کے معاملے پر کہا ہے کہ اگر جمہوری طریقے سے بات نہ مانی گئی تو ایک منٹ میں وفاقی حکومت چھوڑ دیں گے۔
ٹھٹھہ میں ایک تقریب سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونےدیں گےاپوزیشن کے کہنے پر بلیک میل نہیں ہوں گےاور نہ ہی انہیں فری ہینڈ دینا چاہتے ہیں سندھ کاپانی دیگر صوبوں کو دینے کی تیاری ہو رہی ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ دشمن کوئی بھی منصوبہ برداشت نہیں کیا جائے گا، پانچوں دریا ہمارے ہیں، کسی نہر کی اجازت نہیں دیں گے۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ دریائے سندھ پر پہلا حق ٹھٹھہ اور سجاول کے عوام کا ہے، کینالز کے معاملے پر سازش ہو رہی ہے، صدرِ مملکت بھی اس منصوبے کی حمایت نہیں کر رہے، اور بلاول بھٹو زرداری نے 27 دسمبر کو واضح کر دیا تھا کہ اگر نہریں بنیں تو وہ عوام کے ساتھ ہوں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر کارکنوں سے رابطے تیز کر دیئے ہیں اور اس کا آغاز ٹھٹھہ سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں جا کر کارکنوں سے اسکیمیں لیں گے تاکہ عوامی امنگوں کے مطابق بجٹ بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نے ہدایت دی ہے کہ کراچی میں بیٹھ کر اسکیمیں نہ بنائیں، اسی لیے ہم میدان میں نکلے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سب سو رہے تھے، ہم کام کر رہے تھے کیا ملک نئے انتخابات کا متحمل ہو سکتا ہے؟ اگر بات نہ مانی گئی تو ہم ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حکومت چھوڑ دیں گے۔