fbpx

صرف قیادت نہیں اپنی عادت بھی بدلیں تحریر : راجہ حشام صادق

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب
عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو خستہ حال قوم کو امید لگ گئی کہ اب سب کچھ سیٹ ہوجائے گا۔

ہچکولے گھاتی کشتی یا دور بہت دور کہیں بجتی شمع کے پروانے ادھر کو ہی لپکے۔اور تصوراتی امیدوں اور خیالات کا مرکز عمران خان جیسے ہی کرسی پہ بیٹھے گا۔

ادھر بنجر زمین میں سبزہ اگنے لگے گا، دوبٹتی معیشت سنبھل جائے گی، چوری، ڈاکا، رشوت ،مہنگائی وغیرہ سب ختم ہوجائے گی ۔

نوکریوں کی کمی کا مسئلہ ایسے حل ہو جائے گا۔کہ دوسرے دن ہی سب بے روزگاری کام پے ہوں گے۔

عدالت سے مظلوم جیت کر نکلے گے۔ کینہ،بغض،حسد اور وعدہ خلافی ختم ہوجائے گی۔ لوگ مل جل کر رہنے لگیں گے۔تاجر ایماندار اور دکاندار دیانتدار ہوجائے گا۔

ایسے جیسے ہر طرف امن و سکون ہوجائے گا تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی۔
مگر پھر ہوا کیا؟

مہنگائی بھی ویسی رہی باقی کے حالات بھی ویسے ہی رہے؟

تو جناب اگر قیادت ہی بدلنے سے سب مسائل حل ہونے ہوتے تو کب کے ہو گئے ہوتے۔ اسلئے قیادت کے ساتھ ساتھ عادت بھی بدلیے۔

یاد رکھیں کوئی آسمان سے نہیں اتر گا جو اپنے پیشے سے ایمانداری کرے گا، جھوٹ نہیں بولے گا، وعدہ خلاف نہیں کرئے گا، انصاف قائم کرے گا،لین دین مین کھرا ہوگا، جو دکھائے گا وہی بیچے گا،رشوت نہیں لے گا اور قانون کو اپنے اور دوسرے کے لیے ایک جیسا رہنے دے گا۔

اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے۔اور اچھائی، برائی، نیکی اور بدی کا راستہ دکھا کر بھیجا ہے۔ اب اچھائی کے راستے پر چلتے ہوئے شیطان کی پیروی کرو گے تو کامیاب کیسے ہو گے؟

وہ تو ایسے ہی ہوگا کہ کوئی طلب علم اردو کے پرچے میں انگریزی سبجیکٹ کی تیاری کرکے چلا جائے۔

ہم ہر چیز کو ٹھیک دیکھنا چاہتے ہیں مگر جب خود کو ٹھیک کرنے کی بات آتی ہے تو خرابی بلکل نظر نہیں آتی وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ صرف میرے کرنے سے کیا ہوجائے گا۔
میرے عزیز ہم وطنوں صرف قیادت نہیں اپنی عادت بھی بدلیں۔
ہماری قوم کو سوچنا ہوگا اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔ اس وقت اللہ نے ہم کو ایک لیڈر دیا ہے کچھ وہ کر رہا ہے کچھ تم بھی کر کے دیکھ لو۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو

@No1Hasham