سکھر (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی ہدایات پر سکھر رینج میں جرائم کے سدباب اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی زیر صدارت رینج آفس سکھر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منشیات فروشوں، عادی مجرموں، اشتہاری ملزمان اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشنز، تھانوں کی کارکردگی، افسران کی تعیناتی اور ترقی، سرکاری وسائل کے استعمال، اور محکمہ جاتی نظم و ضبط پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس میں ایس ایس پی گھوٹکی انور کھتران، ایس ایس پی خیرپور حسن سردار نیازی، ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل، ڈی ایس پیز، آفس سپرنٹنڈنٹ، پی ایس اور رینج آفس کے تمام ہیڈز آف برانچز نے شرکت کی۔

ڈی آئی جی سکھر کی جانب سے اجلاس میں مندرجہ ذیل احکامات جاری کیے گئے:

* تمام آرگنائزڈ کرائمز اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
* انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے روپوش اور اشتہاری ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔
* ہر ماہ منشیات اور مجموعی جرائم کے خلاف کارکردگی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
* صرف اہل اور قابل افسران کو ایس ایچ اوز تعینات کرنے کے لیے پول تشکیل دیا جائے، اور ہوم ڈسٹرکٹ افسران کو ایس ایچ او نہ لگایا جائے۔
* محکمانہ کورسز کے دوران افسران کو کسی بھی تھانے یا پولیس پوسٹ پر تعینات نہ کیا جائے۔
* پولیس کانسٹیبلز کو پوسٹ انچارج تعینات کرنے کی ممانعت کی گئی۔
* ماوا اور گٹکا استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں کی فہرست بنا کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
* تھانوں، دفاتر اور پولیس لائنز میں موجود غیر حاضر یا ویزا پر تعینات اہلکاروں کی فہرستیں تیار کی جائیں۔
* ترقی کے منتظر افسران کی سالانہ رپورٹس مکمل کر کے جلد از جلد ڈیپارٹمنٹل پروموشن بورڈ کا اجلاس بلایا جائے۔
* ہائی ویز پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ہالٹنگ پوائنٹس اور ٹول پلازوں پر نصب کیمروں و سولر سسٹمز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔
* کچے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں مصروف اہلکاروں کو کچا الاؤنس فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔
* تمام تھانوں پر CCTV کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔
* 4 اگست کو شہدائے پولیس کے لیے ہونے والے پروگرامز میں خصوصی اقدامات کیے جائیں اور شہدا کی فیملیز و ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
* لسٹڈ مجرموں، ٹارگٹیڈ آفنڈرز، نارکوٹکس پیڈلرز اور عادی مجرموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔
* آن لائن حاضری کو یقینی بنایا جائے، غیر حاضر اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی۔
* تھانوں میں منشی کے لیے صرف سینئر اہلکار تعینات کیے جائیں، کانسٹیبلز کو نہ لگایا جائے۔

آئی جی سندھ کی ہدایات کے مطابق شہریوں سے بدتمیزی یا بد اخلاقی کی کسی بھی شکایت پر فوری ایکشن لیا جائے گا اور سخت محکمانہ سزائیں دی جائیں گی۔ ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے تینوں اضلاع گھوٹکی، خیرپور اور سکھر کی پولیس کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس کو قانون نافذ کرنے کے عملی اقدامات کے لیے سنگ میل قرار دیا گیا۔

Shares: