fbpx

سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینئرصحافی مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا،سینئر قانون دان سردار لطیف کھوسہ بھی عدالت میں پیش ہوئے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ کیا مطیع اللہ جان کی بازیابی کے بعد اس کا بیان ریکارڈ کیا گیا؟ بازیابی کے بعد سب سے پہلے تو مطیع اللہ جان کا بیان ریکارڈہونا چاہیے تھا،آپ کے حکومتی ادارے کیا کر رہے ہیں؟

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں جواب دیا کہ بیان اب تک ریکارڈ نہیں ہو سکا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے مطیع اللہ جان کا بازیابی کے بعد بیان کیوں قلمبند نہیں کیا؟ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کی جان اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنائے،

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ مطیع اللہ جان کو دن دیہاڑے اٹھالیا گیا، کیا یہ بنانا ریپبلک ہے؟ وڈیو موجود ہے، اغوا کاروں کو شناخت کیا جانا چاہیے، پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ بھی عدالت مین پیش ہوئے اور کہا کہ معاملے کو ختم نہ کیا جائے؟اغوا کاروں کو سامنے لایا جائے، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم اس کیس کو ختم نہیں کر رہے،

اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت نے اعلیٰ ترین سطح پر معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے،حکومت نے حکم دیا ہے کہ جو بھی ذمے دار ہے اسے چھوڑا نہیں جائے گا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایجنسی یا ادارے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ قانون ہاتھ میں لے،

مطیع اللہ جان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے امید ہے کہ عدالت فری ٹرائل کو یقینی بنائے گی، وکیل کرنے کی اجازت دی جائے،میں اغوا ہوگیا تھا لہذا توہین عدالت نوٹس کےجواب کیلیےبھی مہلت دی جائے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم فری ٹرائل یقینی بنانے یہاں بیٹھے ہیں، عدالت فری ٹرائل کو یقینی بنائے گی،

مطیع اللہ جان نے عدالت مین بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرے اغوا کا توہین عدالت ازخود نوٹس کیس سے تعلق ہے،مجھےکس طرح دھمکیاں دی گئیں،کیاہوتارہا،اس کا تعلق توہین عدالت معاملےسےبنتا ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو کہنا ہے تحریری صورت میں دیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے مطیع اللہ جان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی گفتگو میں احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں، آپ کےساتھ جانبداری نہیں برتی جائے گی، توہین عدالت اور مطیع اللہ جان اغوا کے معاملے کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی

قبل ازیں  اسلام آباد ہائیکورٹ نے مطیع اللہ جان کی بازیابی اور مقدمہ درج ہوجانے پر کیس نمٹا دیا،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی، سینئر صحافی افضل بٹ عدالت مین پیش ہوئے ،افضل بٹ نے عدالت میں کہا کہ ‏ہم آپ کے شکرگزار ہیں، اگر آپ کل بروقت نوٹس نہ کرتے تو آج ہم سڑکوں پربیٹھے ہوتے، عدالت نے کہا کہ ‏قانون سازوں نے قانون میں ترمیم کرکے جرنلسٹس کیخلاف جرائم میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنےکا کہا، ڈی آئی جی وقار الدین سید نے عدالت میں کہا کہ ‏مطیع اللہ جان کے اغوا پر ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے،

جہانگیر جدون ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ ‏پولیس کوہدایات جاری کریں کہ وہ تفتیش کرکےعدالت کو بتائے واقعے میں کون ملوث ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏یہ عدالت اس کیس کی نگرانی نہیں کرسکتی،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد پولیس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ‏کل جو کچھ ہوا اس کیلئے پوری ریاست ذمے دار ہے، ‏صحافیوں کے خلاف جرائم کا خاتمہ ہوجانا چاہیے، ‏یہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے، ‏عام آدمی کو کیا تاثرجائے گا کہ یہاں پولیس وردی میں لوگ دندناتے پھررہے ہیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اسلام آباد پولیس کہاں تھی؟ دارالحکومت میں ایسے کیسے ہوگیا ؟ ‏پولیس کی وردی پہنے، پولیس کی گاڑی جیسے اشارے لگائے کون پھرتا رہا؟ ‏قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو یہاں کچھ بھی نہیں ہوگا، ملک میں انتشار پھیلے گا، ‏کسی کی اتنی ہمت کیسی ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے، ‏دن دیہاڑے جس طرح صحافی کو اٹھایا گیا، سب ادارے تباہ ہوچکے ہیں؟ یہ ریاست کی ذمے داری ہے، کارروائی کریں تاکہ آئندہ کوئی ایسا کام کرنے کی ہمت نہ کرے،

سینئرصحافی مطیع اللہ جان بازیاب ہو کر واپس گھرپہنچ گئے ,مطیع اللہ جان نے آبپارہ پولیس کو بیان قلمبند نہیں کروایا،آبپارہ پولیس نے مطیع اللہ کے اغواکا مقدمہ درج کررکھا ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی مزید تفتیش مطیع اللہ کے بیان کے بعد ہوگی، مطیع اللہ کے بیان پر تفتیشن کا دائرہ کار وسیع ہوگا،پولیس مطیع اللہ جان کا بیان ریکارڈ کرے گی

مطیع اللہ جان کے اغواء کا مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اغواء کاروں کالے رنگ کی وردی میں ملبوس تھے۔ اغواء کاروں نے گاڑیوں پر پولیس کی لائٹس بھی لگا رکھی تھیں مقدمہ مطیع اللہ جان کے بڑے بھائی شاہد اکبر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

مطیع اللہ جان گھر پہنچ گئے، تھانے نہیں آئے، آبپارہ پولیس بھی میدان میں آ گئی

مطیع اللہ جان کی بازیابی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

صحافیوں پر تشدد اور گمشدگیوں کے واقعات اب بند ہونے چاہئے،شیری رحمان

مطیع اللہ جان کے اغوا کی ویڈیو سامنے آ گئی،صحافیوں کا بازیابی کا مطالبہ

ابھی مطیع اللہ جان کے اغوا کا پتہ چلا، پولیس پتہ لگا رہی ہے ، آئی جی اسلام آباد سے بات ہوئی ہے، شیریں مزاری

مطیع اللہ جان کے اغوا پر وزیراعظم عمران خان نے بھی نوٹس لیا تھا،وزیراعظم عمران خان اور معاون خصوصی شہزاد اکبرکےدرمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ,نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نےمعاون خصوصی شہزاداکبر سےصحافی مطیع اللہ جان سے متعلق دریافت کیا،وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ مطیع اللہ جان کی فوری بازیابی کیلیےہرممکن کوشش کی جائے،

کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ