fbpx

سپریم کورٹ میں کن ججوں کا راج، چیف جسٹس نے بتائی دل کی بات

سپریم کورٹ میں کن ججوں کا راج، چیف جسٹس نے بتائی دل کی بات.
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ میں لندن میں پڑھائی کے لیے گیا تو وہاں گاوَن ملا جس میں ایک ہڈ تھا۔میں نے پوچھا یہ ہڈ کیوں ہے؟ہڈ کا مطلب یہ تھا کہ وکیل پیسے نہیں لیا کرتا تھا، لوگ ہڈ میں پیسے یا آٹا ڈال دیا کرتے تھے۔

ملتان ۔29 نومبر (اے پی پی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ججوں کو معاشرے میں عزت ان کے فیصلوں سے ملتی ہے۔اگر جج انصاف نہیں کریں گے تو عوام ان کی عزت کیوں کریں۔اگرجج بھی ساری بحث سننے کے بعد فیصلہ نہ کریں تو جج اور نائب قاصد میں کوئی فرق نہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن ملتان کے زیراہتمام” دی ملتان کلوکیم(The Multan Colloquium) “ کے موضوع پر منعقدہ سیمینارسے خطاب کے دوران کیا۔

اس موقع پرچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سرائیکی میں خطاب کیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ ججوں اورکیسوں کی تعداد میں بڑے فرق کی وجہ سے غیرمتوازن صورتحال کاسامنا ہے۔ ماضی میں کیس کم تھے اور جج تسلی سے سن لیتے تھے۔ہر وکیل کی خواہش ہوتی ہے کہ جج انہیں سنیں۔ جج صاحبان زیادہ کیسز نمٹانا چاہتے ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔زیادہ کیسوں کی وجہ سے جج صاحبان وکلاءکوزیادہ وقت نہیں دے پاتے۔انہوں نے کہاکہ بطور جج کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فیصلے کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ نئے وکلا کی تعدادزیادہ ہیں اور ان کی رہنمائی کے لیے سینئر وکلا کم ہیں۔ماضی میں سینئر وکلا زیادہ تھے جو اپنے جونیئرز کو اچھی طرح سکھاتے تھے۔انہوں نے کہاکہ ہم کوئی ایسا نظام وضع کرنا چاہتے ہیں کہ جونیئروکلا سینئرز سے رہنمائی حاصل کرسکیں۔انہوں نے مزید کہاکہ پہلے ہر جونیئر کو سینئر وکیل کے ساتھ سیکھنے کی جگہ مل جاتی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے دور میں ملتان بنچ میں سینئر اور جونیئرز میں احترام کا رشتہ تھا۔ججز کے سامنے کوئی بولنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔اب عدالتوں میں اکثر ناخوشگوار واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکالت پیسہ بنانے کے لیے نہیں خدمت کے لیے کی جاتی تھی۔علم سیکھنے اورسکھانے کی روایت کوآگے لےکرچلناہوگا۔ ہمیں اپنے ماضی کے بارے میں سب معلوم ہونا چاہیے۔ اچھا وکیل ہونے کے لیے تاریخ، ریاضی اور ادب پر عبور ضروری ہے ورنہ آپ جج کے سامنے کیس پیش نہیں کرپائیں گے۔ جونیئر وکلاءکی تربیت کے لئے ہر کیس میں ایک سینئر وکیل کے ساتھ دو جونیئر ہونے چاہئیں تاکہ کوئی نوجوان سینئر وکیل کی تربیت سے محروم نہ ہوسکے۔نئے وکلا کو سنیئر ز سے ٹریننگ لینا انتہائی ضروری ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ میں لندن میں پڑھائی کے لیے گیا تو وہاں گاوَن ملا جس میں ایک ہڈ تھا۔میں نے پوچھا یہ ہڈ کیوں ہے؟ہڈ کا مطلب یہ تھا کہ وکیل پیسے نہیں لیا کرتا تھا، لوگ ہڈ میں پیسے یا آٹا ڈال دیا کرتے تھے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ میرا تعلق ملتان سے ہے۔ کوئی اپنے گھر آئے تو وہ مہمان نہیں ہوتا۔میں نے کئی سال یہاں گزارے ہیں۔ میں 9جنوری 1981 کو ڈی جی خان سے ملتان آیااور لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے قیام کے پہلے ہی دن عدالت میں بطور وکیل پیش ہوا۔ملتان کے وکلا اور جج صاحبان سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ملتان بنچ کا ٹیبل ٹینس چیمپئن بنا۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ملتانی ججوں کا راج ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جونیئر ترین جج دونوں کا تعلق ملتان سے ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ سردار لطیف کھوسہ ملتان میں ہماری کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔

تقریب سے سپریم کورٹ کے جج مسٹرجسٹس امیر الدین ، لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس جواد حسن، لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس مامون الرشید اورلاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے بھی خطاب کیا۔