باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 17 سال بعد سوات کا سیدو شریف ایئرپورٹ پروازوں کے لیے بحال ہوگیا۔

ایئرپورٹ پر قومی ایئر لائن کی پہلی پرواز لینڈ کرگئی۔سوات ایئرپورٹ پر پی آئی اے کی پرواز پی کے 650 اسلام آباد سے سوات لینڈ کرگئی۔ پرواز میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان،مراد سعید اور غلام سرور بھی تھے

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فلائٹ آپریشن کے حوالے سے رن وے کی بحالی، آپریشنل اسٹاف کی تعیناتی سمیت دیگر انتظامات مکمل کئے۔

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا کہنا ہے کہ سوات ایئرپورٹ سے دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی پروازوں کا آغاز ہوگا،سوات کے لیے قومی پرواز کی بحالی پر خوشی ہے ،

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور کا کہنا تھا کہ سوات میں قدرتی آفات کے باعث تباہ کاریاں بھی ہوئیں،قومی پرواز کی بحالی کااقدام خوش آئند ہے،17 سال بعد پی آئی اے کی پہلی پرواز سوات پہنچی، سوات سے دیرینہ تعلق ہے، بچپن سے سیروتفریح کیلئے آتا رہا، سوات میں زلزلہ آیااور تباہی بھی ہوئی

پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 2004 سے سوات میں فضائی آپریشن بند تھا۔ ابتدائی طور پر اسلام آباد سے سوات کے لیے ہفتے میں 2 دن پروازیں چلائی جائیں گی۔ اسلام آباد سے سوات کی فلائٹس کراچی اور لاہور سے آنےوالی فلائٹس کے ساتھ کنکٹ ہوں گی۔

دوسری جانب پی آئی اے کی پرواز سوات ایئر پورٹ پر لینڈ تو کر گئی لیکن اس پرواز کے اخراجات کس نے ادا کئے جس میں وفاقی وزرا سوار تھے ،اگر یہ کمرشل فلائٹ تھی تو وفاقی وزرا اس میں کیا کر رہے تھے ، وزرا اور حکومتی آفیشیل کے اس فلائٹ میں جانے کے اخراجات کس نے ادا کئے، ایک طرف ملک میں کرونا پھیل رہا ہے اور 65 سال سے کم عمر پاکستانی شہریوں کو کرونا ویکسین خرید کر لگوانا پڑ رہی ہے، حکومت کی طرف سے شہریوں کو مفت ویکیسن لگانے کا اعلان تو کیا گیا لیکن تاحال بزرگ شہریوں کے علاوہ کسی کو ویکسین نہیں لگائی جا رہی

مہنگائی میں گھری عوام کو سوات ایئر پورٹ کی بحالی کا لولی پوپ حکومت کی طرف سے دیا جا رہا ہے جو کسی صورت بھی درست نہیں،وزیراعظم کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے دوسری جانب صدر مملکت عوام کو مزید گھبرانے کے لئے آرڈیننس جاری کرتے ہیں،اپوزیشن کا یہ دعویٰ کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس کیوں جاری ہوتے ہیں درست ہے، جب بھی حکومت کا دل کرتا ہے آرڈیننس جاری ہو جاتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ اس حکومت کو پارلیمان نہیں بلکہ آرڈیننس ہی چلا رہے ہیں

سوات ایئر پورٹ کی بحالی خوش آئند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پی آئی اے کی اس پرواز میں وفاقی وزرا کا سفر فوٹو شوٹ کے لئے تھا یا ایئر پورٹ پر درخت لگانے کے لئے، عوام کو اس پرواز سے کیا ریلیف ملا؟ کچھ بھی نہیں.

ایک طرف پی آئی اے کو وفاقی وزیر ہوا بازی نے پائلٹ کے لائسنس کے حوالہ سے پارلیمنٹ میں بیان دے کر پوری دنیا میں نقصان پہنچایا جس کا ابھی تک ازالہ نہیں ہو سکا، دوسری جانب پرواز کی بحالی میں وزرا کا سفر،فوٹو شوٹ،تقریب، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیر ہوا بازی پی آئی اے کو مزید تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے لیے تلے ہوئے ہیں

Shares: