سوات سے نکلنے والا خطرناک سیلابی ریلہ 78 ہزار کیوسک پانی کے ساتھ مالاکنڈ میں داخل ہو چکا ہے، ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق، سیلابی ریلہ انتہائی خطرناک نوعیت کا ہے اور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ترئی، طوطہ کان اور جالاوانان ہیڈورکس سمیت مختلف مقامات پر الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو دریا کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بارش اور سیلاب سے دیگر متاثرہ علاقوں میں شانگلہ، دیر اور ملاکنڈ میں بارشوں اور برساتی نالوں نے تباہی مچا دی ہے۔لوئر دیر کے علاقے رحیم آباد میں ایک شخص برساتی نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔خزانہ بائی پاس پر دریائے پنجکوڑہ میں پھنسے دو خواتین اور دو بچوں کو ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے محفوظ مقام پر منتقل کر لیا۔

مزید بارشوں کا خدشہ

این ڈی ایم اے نے ملک بھر کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے مزید ممکنہ سیلابی صورتحال کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ریسکیو 1122 کے ترجمان ثاقب خان کے مطابق، تمام ہنگامی ٹیمیں فُل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دریا یا ندی نالوں کے قریب نہ جائیں۔

محرم الحرام، ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق

Shares: