سینئر اداکار، ہدایتکار و براڈکاسٹر محسن گیلانی نے نوجوان اداکاراؤں کی جانب سے شوبز انڈسٹری پر کی جانے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ فیلڈ محفوظ نہیں لگتی تو اسے چھوڑ دینا چاہیے-
حال ہی میں محسن گیلانی نے ’آر ٹی ایس وِد 24 پلس‘ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اداکار نے کہا کہ ڈراما انڈسٹری کا زوال اس وقت شروع ہوا جب فلم کی طرز کا ماحول ڈراموں میں آگیا، جیسے فلم میں ڈسٹری بیوٹر ہوتا تھا ویسے ہی ڈراموں میں چینل اور مارکیٹنگ کا عنصر آگیا، جو اب صرف گلیمر کو اہم سمجھتے ہیں، کہانی کا معیار گر گیا ہے، ایک لڑکی دو لڑکے، دو لڑکے ایک لڑکی، ان کہانیوں میں دکھایا کیا جاتا ہے؟ کہ ان کی شادیاں نہیں ہو رہیں اور پھر آخر میں ان کی شادی ہو جاتی ہے یہ کہانی پچھلے پندرہ سال سے چل رہی ہے اور چینلز کا یہ ماننا ہے کہ اس طرز کے ڈراموں کی وجہ سے انہیں ریٹنگ ملتی ہے۔
ان کے مطابق جیسے فلم میں ہمیشہ مرکزی کرداروں کو اہمیت دی جاتی تھی اور معاون کرداروں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی، اب یہی سب کچھ ڈراما انڈسٹری میں بھی ہو رہا ہے، معاون کرداروں کی کوئی اہمیت نہیں رہی، صرف مرکزی کردار کو ہی اہم سمجھا جاتا ہے، کچھ نوجوان اداکارائیں ایسی ہیں جو اکثر یہ تبصرہ کرتی ہیں کہ شوبز لڑکیوں کے لیے صحیح جگہ نہیں ہے، ان سے سوال ہے کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ شوبز ٹھیک نہیں ہے، یہاں غلط کام ہو رہے ہیں، تو پھر وہ اس فیلڈ کا حصہ کیوں ہیں؟ چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ اس فیلڈ میں کام کیوں کرتی ہیں، وہ بھی بن سنور کر؟
اسرائیلی وزیر کی ایرانی سپریم لیڈر کو براہ راست نشانہ بنانے کی دھمکی
انہوں نے اداکارہ ماہم عامر کی مثال دی کہ وہ ایسے افراد کو تھپڑ مار دیتی ہیں جو ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اداکار کے مطابق انہوں نے خود دیکھا ہے کہ طاقتور مردوں کو خواتین سے مار پڑی جب وہ کچھ غلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ یا تو شوبز چھوڑ دیں یا پھر اس کے خلاف بات نہ کریں. اگر انہیں اس فیلڈ میں ہراساں کیا جا رہا ہے تو انہیں اس فیلڈ کو چھوڑ دینا چاہیے اور اگر انہیں مذہب کے لحاظ سے یہ فیلڈ درست نہیں لگتی، تو بھی انہیں اس فیلڈ میں کام نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ عائشہ خان کو تقریباً چھببیس سے ستائیس سال سے جانتے تھے اور ان کے ساتھ کئی ڈراموں میں کام کر چکے تھے، اس لیے ان کے درمیان ایک خاص تعلق قائم ہو گیا تھا،اداکار نے بتایا کہ عائشہ خان مائیک پھینک دیتی تھیں جس سے ان کے ساتھی اداکاروں کو مشکل ہوتی تھی میں نے ان کو بتایا کہ کچھ نوجوان اداکاروں کو ان کا مائیک پھینکنا پسند نہیں ہے اور وہ اس سے پریشان ہوتے ہیں تو وہ میری بات کو سمجھتی تھیں۔
معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی ،وزیراعظم
ان کا کہنا تھا کہ اسی پراجیکٹ میں اداکارہ نازلی نصر ان کی بیوی کا کردار ادا کر رہی تھیں اور وہ عائشہ خان کی بہت خدمت کرتی تھیں، کبھی ان کے پیر دباتی تھیں، کبھی کپڑے پہننے میں مدد دیتی تھیں، عائشہ خان اکثر ان سے کہا کرتی تھیں، تم گواہ رہنا نازلی میرا خیال رکھتی ہے، اگر میں کبھی اکیلی رہ گئی تو نازلی کے پاس چلی جاؤں گی۔
محسن گیلانی نے بتایا کہ،وہ اکیلے رہنا پسند کرتی تھیں، ان کے بچے بھی اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے‘،محسن گیلانی نے جذباتی انداز میں بتایا کہ ایک اداکار نے ایک وائس نوٹ شیئر کی جس میں عائشہ خان بتا رہی تھیں کہ بچے مجھے پیسے بھیجتے ہیں محسن گیلانی نے سوال اُٹھایا کہ کیا ایک ماں کو بڑھاپے میں صرف پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جس نے اس قدر مشکل حالات میں اپنے بچوں کو پالا ہو؟ کیا اس کی دیکھ بھال کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے؟
پنجاب : پہلی مرتبہ جانوروں کی آلائشوں سے بائیو گیس بنانے کا کامیاب تجربہ
اداکار کا کہنا تھا کہ وہ مائیں جن کے بچے ایسے ہیں ان سے کہوں گا کہ صبر کریں اور اپنے بچوں کیلئے دعا کریں کیونکہ مائیں صرف دعا ہی دے سکتی ہیں۔