غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہو جب خوشیوں کی نوید بننے والی عید، عام شہری کے لیے یوں بوجھ، خوف اور کرب کی علامت بن گئی ہو۔ عیدالاضحیٰ جو کبھی بھائی چارے، ایثار اور قربانی کا مظہر ہوا کرتی تھی، آج بجلی کے بلوں، ہوشربا مہنگائی اور معاشی جبر کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ اس بار لاکھوں پاکستانی اس دلی کرب سے گزرے کہ وہ قربانی جیسے دینی فریضے سے بھی محروم رہ گئے اور ان کی محرومی کا سبب صرف غربت نہیں بلکہ وہ پالیسی ساز ہیں جنہوں نے نظام کو عوام دشمن بنا ڈالا ہے۔
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ نئے عالمی معیار کے مطابق روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والا فرد غریب تصور کیا جاتا ہے اور اس پیمانے پر پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ تعداد پہلے 39.8 فیصد تھی اور موجودہ معاشی دباؤ کے تحت یہ تناسب بڑھ کر 9 کروڑ سے تجاوز کر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 16.5 فیصد پاکستانیوں کی روزانہ آمدن 3 ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ 88 فیصد سے زائد عوام 8.50 ڈالر روزانہ سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ لاکھوں خالی دسترخوان، ادھوری خوشیاں اور خون کے آنسو روتی کہانیاں ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کی رپورٹ مزید افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے، جس کے مطابق رواں برس عیدالاضحیٰ پر کھالوں کے حصول میں 30 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور قربانی میں واضح کمی ہے۔ جہاں پہلے ہر گلی میں اجتماعی قربانیوں کے کیمپ لگتے تھے، اب وہ یا تو خالی نظر آئے یا صرف نام کی سرگرمیوں تک محدود رہے۔ یہ صرف ایک مذہبی روایت کا زوال نہیں بلکہ ایک معاشرتی بحران کی عکاسی ہے۔
بجلی کے ظالمانہ بل، نیپرا کی ناقابل فہم پالیسیاں اور وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں جاری سلیبز سسٹم نے لاکھوں پاکستانیوں کو معاشی طور پر دیوار سے لگا دیا ہے۔ صرف 199 یونٹس استعمال کرنے والے صارف کو 3 ہزار کا بل، اور 200 یونٹس ہوتے ہی 10 ہزار سے زائد کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس ناانصافی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایسے بلز جو نہ صرف آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ جعلی ڈیٹیکشن چارجز اور اوور بلنگ کے ذریعے لوگوں کو لوٹا جاتا ہے، آج لاکھوں پاکستانیوں کی خودکشیوں، بیماریوں اور ذہنی اذیتوں کا بنیادی سبب بن چکے ہیں۔
فیصل آباد کا حمزہ، بہاولنگر کا ساجد، ٹیکسلا کا طاہر، گوجرانوالہ کی رضیہ بی بی، اور جہانیاں کی ایک ماں،یہ سب زندہ حقیقتیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بجلی کے بل صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ ظلم کی مہر ثبت کیے ہوئے وہ فرمان ہیں جو زندگی چھین لیتے ہیں۔ ان اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ واپڈا؟ نیپرا؟ وزیر توانائی؟ یا اس پورے نظام پر جو بجائے عوام کو ریلیف دینے کے، ان کے گلے میں قرض، مہنگائی اور مایوسی کا طوق ڈال دیتا ہے؟
اور جب کوئی مظلوم آواز بلند کرتا ہے تو ریاستی ردِعمل صرف لاٹھی، آنسو گیس اور جھوٹے مقدمات کی صورت میں آتا ہے۔ گوجرہ، دیپالپور، کمالیہ، سرگودھاجیسے شہروں میں بجلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے گھروں کی روشنی اور اپنی زندگی کی بھیک مانگنے کی جسارت کی۔
ان سب کہانیوں کے بیچ سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ انصاف کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔ عدالتوں، تھانوں اور انتظامیہ کے رویے بتاتے ہیں کہ اس ملک کا غریب صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور سسٹم کو چلانے کے لیے ہے،اسے سننے والا، بچانے والا یا سہارا دینے والا کوئی نہیں۔ انصاف کے نام پر صرف فیسیں، تاریخیں اور ذلت کی راہیں ہیں۔
اس بار عیدالاضحیٰ غریب اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے لیے بہت مشکل حالات میں گزری۔ کئی گھرانوں کے حالات پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ جو لوگ گزشتہ سالوں میں دو سے تین قربانیاں کیا کرتے تھے، وہ اس بار قربانی سے قاصر رہے۔ ایک جاننے والے سے پوچھا کہ آپ نے قربانی کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’مہنگائی نے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر بجلی کے بل نے کچومر نکال دیا۔ سوچا تھا کہ اس بار اجتماعی قربانی میں شامل ہو جاؤں گا لیکن واپڈا نے 45 ہزار روپے کا بل تھما دیا۔ قربانی کے پیسے بھی بجلی کے بل کی نذر ہو گئے، اس لیے قربانی نہ کر سکا۔‘‘ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، ہزاروں بلکہ لاکھوں پاکستانی اسی طرح قربانی سے محروم رہے۔
اس عید پر لاکھوں گھروں میں موت کا سناٹا چھایا رہا۔ نہ نئے کپڑوں کی چمک دکھائی دی، نہ گوشت کی خوشبو، نہ بچوں کی ہنسی۔ بس بجلی کے بل، نوٹس اور دھمکیاں ہیں۔ عید، جو کبھی خوشیوں کی علامت تھی، اب غریب کی زندگی، عزت اور خوابوں کی قربانی بن چکی ہے۔
یہ خاموشی ٹوٹنی چاہیے۔ یہ کرب قلم سے نکل کر قانون بننا چاہیے۔ اگر بجلی کا بل کسی کی قربانی، کسی کی تعلیم، کسی کی دوا یا کسی کی زندگی چھین لے، تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بحران ہے۔ جب 44.7 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہوں اور ریاست انہیں نہ تحفظ دے، نہ ریلیف تو وہ ریاست کس کام کی؟ وہ پالیسی ساز جو صرف قرضے، مہنگائی اور نئے ٹیکسوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، کیا ان کے دل میں کبھی ایک عید نہ منا سکنے والے پاکستانی کا درد جاگا ہے؟
غریب کی عید کون کھا گیا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ جب عید بھی ہمیں خوشی نہیں دے سکتی، جب قربانی بھی بجلی کے بل کھا جائیں، جب کھالیں بھی جمع نہ ہو سکیں، جب گوشت سے زیادہ آنکھوں میں آنسو ہوں، تو پھر عید کیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ غریب کی عید کون کھا گیا؟ وہ نظام، وہ وزیر، یا وہ پوری ریاست جو خاموش تماشائی بن چکی ہے؟ یہ خاموشی کب ٹوٹے گی؟