عید الاضحی سنت ابراہیمی ہونے کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کابھی بے مثال اور منفرد موقع ہے، جس سے مذہبی فریضے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات معاشی طور پر بھی مستفید ہوتے ہیں۔

بڑی عیدجسے قرنانی کی عید اورمعروف اوراسلامی نام عید الاضحٰی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گزرچکی ہے اورعید کے دن سے لیکراگلے تین دن تک سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جومعاشی سرگرمیاں دیکھنے میں ملی ہیں اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

جہاں پر یہ تہوار غربا و مساکین کو خوراک مہیا کرتا ہے وہاں یہ ہماری معیشت کے پہیے کو تیز رفتاری بھی بخشتا ہے۔عید قربان پر ہرسال پاکستانیوں کی کثیر تعداد سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے لاکھوں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کرتی ہے۔

عید الضحیٰ کے موقع پر عوام سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کر تے ہیں،اِس نیک عمل کا ثواب تو مسلمانوں کو ملتا ہی ہے لیکن دوسری جانب لیدر انڈسٹری اپنی 30 فیصد چمڑے کی طلب قربان ہونے والے جانوروں کی کھال سے پوری کرتی ہے۔ رواں برس کورونا کے باعث عالمی منڈی بند ہونے کی وجہ سے چمڑے کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سال 2019میں عید قربان پر 30 لاکھ سے زائد بڑے جانوروں جبکہ 23 لاکھ بھیڑ بکریوں اور 3 لاکھ سے زائد دنبوں کی قربانی دی گئی تھی۔جس سے معیشت کو 200ارب روپے سے 300 ارب روپے سے زیادہ کا سہارا ملا تھا۔

اِس شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جہاں چمڑا سازی کی صنعت سے کئی لوگوں کا روزگار جڑا ہے وہاں چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات سے 1 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی حاصل ہو تا ہے۔ عیدالالضحیٰ پر قربانی کی کھالوں سے ملک میں چمڑے کی صنعت کو بہت فروغ ملتا ہے۔جبکہ گاڑیوں میں جانور لانے اور لے جانے والوں نے کروڑوں کا کاروبارکیا۔

ایک روپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال عید قرباں پر لاکھوں جانور قربان کئے جاتے ہیں، عید الاضحی پر ہر سال 350 سے 400 ارب روپے تک کا کاروبار ہوتا ہے، مویشیوں کے علاوہ اس عید پر کھال، چارہ، چھری چاقو، قصاب، آرائشی سامان کی مد میں ہر سال معیشت کو تقریباً 4 سو ارب کا فائدہ ہوتا ہے۔

گزشتہ سال بھی عید پر عوام نے عید الاضحی پر سنت ابراہیمی کی پیروی کیلئے جانوروں خریداری اور دیگر اشیاء کے علاوہ کپڑوں اور جوتوں و دیگر اشیاءکی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ کرکے معیشت کو فائدہ دیا تھا۔

اسی طرح 2018میں عید پر تقریبا 350 ارب روپے پاکستانی معیشت میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں تقریبا 70 لاکھ جانوروں کو عید کے موقع پر ذبح کیا گیا۔ تین ارب روپے سے زائد مویشیوں کے چارے کے کاروبار نے کمائے تھے۔ کھالوں سے چمڑے کی تیاری کے لئے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملاتھا۔ سال 18-2017 میں چمڑے سے 948,363 ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔چمڑے کی مصنوعات میں ملبوسات، جوتے، دستانے، کپڑوں کے علاوہ دیگر اشیا شامل ہیں۔

عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ملک بھر میں کتنی مالیت کے جانور فروخت ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں البتہ قربانی کے بعد جمع ہونے والی کھالوں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

اس سال پورے ملک میں سنت ابراہیمی کے حوالے سے قربانی کی مد میں 3کھرب کے لگ بھگ خرچ ہوئے ہیں ۔اس میں تمام اقسام کے اخراجات شامل ہیں جانوروں کی خریداری ،مویشی منڈی کے کرائے ،ٹرانسپورٹ کے کرائے ،قصابوں کی اجرتیں اور دیگر چھوٹے اور نادیدہ اخراجات شامل ہیں ۔اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صرف کراچی میں 65ارب روپئے کے قربانی کے مویشی فروخت ہوئے ہیں پورے ملک میں صرف قربانی کے جانوروں کی خریداری میں ایک کھرب سے زائد خرچ ہوئے ہیں ۔

اسلام کے معاشی اصولوں کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ اسلام تقسیم دولت اور گردش دولت پہ زیادہ زور دیتا ہے اسی لیے اسلام میں دولت کو گن گن کر جمع کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ خرچ پر زیادہ زور دیتا ہے یعنی یہ کہ آپ کو اپنے کاروبار میں فائدہ ہورہا ہے تو اس سے مزید اپنے کاروبار کو وسعت دیں اس سے بیروزگاری کم ہوگی پھر بھی سال میں کچھ رقم بچ جاتی ہے تو اس پر زکوۃ فرض کی گئی ہے ،تاکہ دولت معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ جائے اسی طرح صدقات پر بھی زور دیا گاہے

مختلف احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے یہ بھی تقسیم دولت کی ایک شکل ہے اسی طرح تقسیم دولت کا یک اہم ذریعہ وراثت کی تقسیم بھی ہے ۔اگر ہم عید قربان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک بہت بڑی دولت لوگوں کی جیبوں سے نکل کر گردش میں آتی ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار لگ جاتاہے یا بڑھ جاتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے سنت ابراہیمی کی بیشتر چیزوں میں جن چیزوں کو برقرار رکھا ہے اس میں یہ عید قربان کی سنت ہے ۔اس سنت کی ادائیگی سے جہاں ہم اطاعت رسول ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سنت ملک کی معشیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

عید قربان کے سماجی اثرات پر بات اگر کی جائے گی تو اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح ماہ رمضان میں ہر غریب سے غریب آدمی افطاری کی شکل میں وہ چیزیں کھاپی لیتا ہے جو عام دنوں میں اسے نصیب نہیں ہو پاتی ۔اسی طرح عید قرباں میں ہر اس فرد کو دل بھر کر گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جتنا وہ عام دنوں میں نہیں استعمال کر پاتا ۔

لیکن اس کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا احسن طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ رشتے داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ غرباء و مساکین اور مستحقین میں دیا جائے اور ایک حصہ خود اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی قربانی کا تمام گوشت اپنے استعمال کے لیے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام کی تمام وہ رشتے داروں میں تقسیم کردے تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ سارا گوشت مستحقین میں بانٹ دے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔

اس سنت ابراہیمی کے سماجی پہلو میں وہ تمام مدرسے اور خدمتی ادارے بھی آجاتے ہیں جو ان اداروں کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ہر مدرسے میں قربانی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جہاں بچوں کو قران پڑھایا اور حفظ کرایا جاتا ہے اسی طرح سماجی خدمات کے ادارے بھی کھالیں وصول کرتے ہیں اورپھرسارا سال اس آمدنی سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں

ویسے تو ہر سال بقرعید میں فریج اور ڈیپ فریزر عام دنوں سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں لیکن اس سال یہ شرح پچھلے تمام برسوں سے زیادہ ہے

عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں عید پر کھالیں جبری طور پر حاصل کرنے اور کھالوں پر چھینا جھپٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے حکومت کی جانب سے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور عید پر جمع ہونے والی کھالوں کو بحفاظت گودام تک پہنچانے کے لیے ریاست کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ی

صرف لاہورشہرکی چند بڑی منڈیوں کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ اعدادوشمارسامنے آتے ہیں کہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریدوفروخت کے ماضی کے تمام ریکارڈٹوٹ گئے ،شہر کی 12 منڈیوں میں 17لاکھ 71 ہزار 338 چھوٹے بڑے جانوروں کی خریدوفروخت ہوئی جبکہ 79ارب 45 کروڑ 67 لاکھ سے زائد کا کاروبار ہوا ۔

تاہم شاہ پور کانجراں ،لکھو ڈیر،سگیاں،پائن ایونیو ،حضرت عثمان غنی روڈ پر سب سے زیادہ کاروبار ہوا ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 36اضلاع میں شہر لاہور قربانی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے نمبر ون قراردیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق 10لاکھ 72ہزار 842 چھوٹے جبکہ6لاکھ 98ہزار398 بڑے جانور فروخت ہوئے ۔

چھوٹے جانور کا 37ارب 55کروڑ 29لاکھ70ہزار ،بڑے جانور کا 41ارب 90کروڑ37لاکھ60ہزار روپے کا کاروبار ہوا۔گزشتہ برس 16 لاکھ 3 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔لکھو ڈیر منڈی میں چھوٹے بڑے 2لاکھ 30ہزار ،ایل ڈی اے سٹی 1لاکھ 17ہزار،پائن ایونیو 1لاکھ 78ہزار، کاہنہ کاچھا 1لاکھ39ہزار ،ڈیفنس نائن 1لاکھ 47 ہزار، کاہنہ رنگ روڈ1لاکھ 50ہزار ،سگیاں 2لاکھ 26ہزار، این ایف سی 1لاکھ 35ہزار، رائیونڈ مانگا منڈی 1لاکھ 11ہزار ،شاہ پور کانجراں ڈھائی لاکھ ،سندر 1لاکھ 20ہزار ،حضرت عثمان غنی روڈ سگیاں منڈی میں 1لاکھ72 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔سرکاری حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیشی نظر شہرمیں قربانی کاتناسب حج پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے زیادہ رہا،تاہم دیہی معیشت کومجموعی طورپر تقویت ملی ہے ۔

کورونا وباء نے عالمی منڈی میں نے چمڑے کی عالمی مارکیٹ کو کریش کردیا ہے اور اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹینری ایسوسی ایشن بھی بحران کا شکار ہے۔ متعدد ٹینریز بند ہوگئی ہیں اور کئی ٹینریز کے پاس اسٹاکس پڑے ہوئے ہیں اور فروخت نہیں ہورہے ہیں۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کےمطابق عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح اس بار جانوروں کی کھالوں کی قیمت خرید مزید کم ہوگی۔

گزشتہ سال گائے، بیل کی کھال 500 سے 900 سو روپے میں خریدی گئی۔ اس بار بھی 500سو سے 900 سو روپے میں خریدی گئیں۔ بکرے کی کھال گزشتہ سال50 سے 130 روپے تک میں فروخت ہوئی۔ اس باربھی یہ کھال 50 روپے 130 میں خریدی گئی ہے ۔ دنبے کی کھال گزشتہ سال 80 روپے سے 100 روپے میں خریدی گئی، اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی۔ اونٹ کی کھال گزشتہ سال 800 روپے میں خریدی گئی اور اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی

کھالوں کی قیمت گرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کھالیں یورپ تو بھیجی جارہی ہیں، تاہم ایکسپورٹ ڈیمانڈ کم ہونے پر ہم قیمت نہیں بڑھا سکتے۔ عالمی منڈی میں پاکستان صرف لیدر فراہم کرتا ہے۔ چائنا نے جب سے آرٹیفیشل لیدر بنا کر اٹلی اور ترکی کو دینا شروع کیا ہے، کھالوں کی مارکیٹ خراب ہوگئی ہے۔ اس طرح پاکستانی لیدر کی مارکیٹ اٹلی اور ترکی میں خراب ہو رہی ہے اور ڈیمانڈ کم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس طرح مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑے گا۔

کھالوں کی قیمت میں اس کمی کے باعث انہیں جمع کرنے والے فلاحی اداروں کے عطیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلاحی تنظیم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی سے غرباء اور مساکین کی ہونے والی معاونت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قربانی کی کھالیں پہلے سے زیادہ تعداد میں جمع کی جائیں اور اس شعبے میں حکومت کی جانب سے سرپرستی بھی کی جائے۔

پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینریز کی صنعت جانوروں کی کھالوں کو پروسیس کرتی ہے اور انہیں چمڑے میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں کھالوں کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چمڑے کو پروسس کرنے والی ٹینریز کے علاوہ بڑے پیمانے پر چمڑے سے مصنوعات تیار کرنے والی صنعت بھی فروغ پارہی تھی مگر گزشتہ 3 سال کے بحران نے اس صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر چمڑے کی برآمدی صنعت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔

یہ معاشی سرگرمیوں کا نقشہ پاکستان کا بیان کیا گیا ہے اگرعالم اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے توپھرتوصورت حال اوربھی دلچسپ بن جاتی ہے ، جیسا کہ امریکی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی چند دن کی عیدالاضحیٰ کی سرگرمیاں معیشت کووہ قوت بخشتی ہیں جوساری دنیا کی سال بھر کی معاشی سرگرمیاں نہیں بن سکتیں

Shares: