متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ میں معمولی ٹریفک تنازع جان لیوا ثابت ہوا، جہاں ایک شخص نے فائرنگ کر کے تین خواتین کو قتل کر دیا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔
اماراتی میڈیا کے مطابق واقعہ دبئی سے تقریباً 120 کلومیٹر دور واقع رہائشی علاقے میں پیش آیا، جہاں گاڑی کے راستے سے متعلق معمولی تلخ کلامی اچانک جھگڑے میں تبدیل ہوگئی۔ ملزم نے غصے میں آ کر پستول نکالا اور خواتین پر گولیاں برسا دیں۔راس الخیمہ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے فوراً بعد حملہ آور کو گرفتار کر کے اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ زخمی خواتین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ مقدمہ پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
امارات میں اسلحہ قوانین پر سختی
امارات میں اسلحے کے حوالے سے ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی نافذ ہے۔ صرف اماراتی شہری مخصوص شرائط اور کڑے سکیورٹی چیکس کے بعد اسلحہ رکھنے کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے یا استعمال کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق لائسنس کے حصول کے لیے طبی و نفسیاتی جانچ، مجرمانہ پس منظر کی جانچ اور رہائش کے تسلسل سمیت متعدد عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ماضی میں بھی فائرنگ کے واقعات
راس الخیمہ کا حالیہ واقعہ کوئی پہلا نہیں۔ 2005 میں ایک اماراتی شہری نے ٹریفک جھگڑے پر دوسرے شہری کو قتل کیا تھا جسے سزائے موت دی گئی۔ 2012 میں بنی یاس میں پولیس پر فائرنگ کرنے والے دو افراد کو عمر قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی، جبکہ 2019 میں العین میں پولیس پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور خود حادثے میں ہلاک ہو گیا۔
حکام کی شہریوں سے اپیل
اماراتی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ روزمرہ کے تنازعات میں برداشت اور صبر کا مظاہرہ کریں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے معاشرتی سلامتی اور قانون کی عمل داری کے لیے کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔