واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے احکامات واپس لے کر اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ہدایت کی کہ وہ سابق صدر جو بائیڈن کی طرف سے اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فراہمی پر عائد پابندی ختم کرے –
روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات ہفتے کو بتائی جبکہ ان کی جانب سے اس اقدام کی پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی۔
وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے انہیں جاری کردیا، ہم نے انہیں آج جاری کیا، وہ انہیں حاصل کرلیں گے، انہوں نے ان کے لئے ادائیگی کی اور وہ طویل عرصے سے ان کے لیے انتظار کر رہے تھے، وہ اسٹوریج میں پڑے تھے جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے طاقتور بم کیوں فراہم کیے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیونکہ انہوں نے انہیں خریدا تھا۔
نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی
واضح رہے کہ جو بائیڈن نے ان بموں کی فراہمی روک دی تھی کیونکہ انہیں خدشات تھے کہ ان بموں کے اسرائیل کی غزہ خاص طور پر رفح میں جاری کارروائی کے دوران عام آبادی پر اثرات ہوں گے 2ہزار پاؤنڈ وزنی ایک بم کنکریٹ کی موٹی دیوار اور کسی بھی دھات کو تباہ کر سکتا ہے، اس دھماکے سے پیدا ہونے والی شدت بہت بڑے علاقے کو متاثر کرتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی، ڈیٹا پروٹیکشن اور معاشی عدم مساوات اس دور کے چیلنج ہیں،بلاول
یاد رہے کہ روئٹرز نے گزشتہ برس رپورٹ کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ سے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی کارروائی کے بعد اسرائیل کو ہزاروں 2 ہزار پاؤنڈ بم فراہم کیے تھے لیکن ایک کھیپ روک لی تھی۔