دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کی جنگ ہفتوں نہیں مہینوں نہیں…. سالوں تک چلتی ہے. اور ہمارے وہ اسلاف جن کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں چاہے وہ محمد الفاتح ہوں، محمود غزنوی یا سلطان ایوبی … یہ تمام فاتحین جب بھی جنگ شروع کرتے تھے تو عمریں گزر جاتیں تھیں تب جا کر قسطنطنیہ، سومنات کے مندر، یروشلم( مسجد اقصی) جیسی فتوحات حاصل ہوتیں تھیں .

اگر یہی فاتحین ایک وقت میں زیادہ دشمنوں سے لڑائی کریں تو کسی مخصوص علاقے کی فتح اور زیادہ دور چلی جائے.

چلیں چھوڑیں میں ان کی بات نہیں کرتا جو پانچ وقت کی بجائے سات وقت (تہجد، اشراق ) کے نمازی تھے اور ان کا ایمان بہت ہی زیادہ… ہماری سوچ سے زیادہ مضبوط تھا. میں تو پاکستان اور پاک فوج کی بات کرتا ہوں جن میں پانچ وقت کے نمازی بھی مشکل سے ہوں گے . واللہ اعلم

پاکستان نائن الیون سے لیکر گزشتہ سال تک حالت جنگ میں رہا. کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کبھی تکفیریوں، خارجیوں کے خلاف. اس سال اسے کچھ سانس ملا تو اس نے چوروں کو اکٹھا کر کے احتساب شروع کر کے معیشت مضبوط کرنے کی کوشش کی …اور ساتھ ہی عالمی برادری سے تعلق مضبوط بنانے کے لیے اور اپنے آپ کو امن پسند و شریف ثابت کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری مجاہدین کے ہاتھ روک دئیے.

اسی دوران بھارت میں انتخابات ہوئے تو مودی نے یہ وعدہ دے کر ووٹ حاصل کیے کہ دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو میں کشمیر کے معاملے کو حل کر کے چھوڑوں گا. ایک طرف مجاہد محصور… دوسری طرف بھارتی حکومت آزاد….! اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کشمیر میں جارحانہ اقدام اٹھا لیا. جو لوگ بصیرت رکھتے تھے وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ مودی نے کشمیر کے معاملے پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کن کارنامہ سرانجام دے ہی دینا ہے. اور ایسے کارنامے مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوا کرتے ہیں. (اگر مجاہدین کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ ہوتے تو بھی مودی حکومت یہی فیصلہ کرتی بھارتی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق )

اب جب بھارتی حکومت نے کام کر ہی دیا تو پاکستان بھلا کیا کر سکتا تھا. ایک حل یہ تھا جس کا مطالبہ کیا جاتا رہا کہ مجاہدین آزاد کر دو کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا لیکن اس صورت میں بات صرف کشمیر کی نہیں ایف اے ٹی ایف کی بھی تھی. مجاہدین آزاد کرنے کی صورت میں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ جاتا. اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ فی الحال اتنا ایمان نہیں کہ صرف اللہ کی ذات پر یقین کر کے دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے مجاہدین کو دوڑا دیا جاتا. اور اگر دوڑا دیا جاتا تو اس ایمان اور وسائل کے ساتھ مجاہدین جا کر مودی کی گردن تو اتار لیتے شاید… لیکن مودی کے تخت پر بیٹھ کر فیصلہ تبدیل کروانا ممکن نہیں تھا.

پھر یہی فیصلہ کیا گیا کہ آخری حد تک جانا چاہیے اور آخری ممکنہ حد یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر پیش کیا جائے… ساری دنیا سے پوچھا جائے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت میں شامل ہونا چاہتا ہے تو دو دن سے نیٹ سروس کیوں بند ہے…. ساری دنیا کو دکھایا جائے کہ کشمیر کی گلیوں میں بھارت کا حصہ بن جانے کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں کہ ترنگے… اور اس کے بعد ساری دنیا کے سامنے کشمیر پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کی جائے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ پہلے جو بھارت الزام لگاتا تھا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں فریڈم فائیٹر بٹھا رکھے ہیں وہ الزام غلط ہے اور فریڈم فائیٹر نہ ہونے کے باوجود کشمیری پھر بھی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں.

کشمیر یقیناً پاکستان کی شاہ رگ ہے… اور اس کی سلامتی یقیناً پاکستان کی سلامتی ہے. بات یہ نہیں کہ شہہ رگ دشمن کے حوالے کر دی گئی… وہ تو پہلے ہی دشمن کے ہاتھوں میں تھی. بات یہ ہے کہ پہلے دشمن نے شہہ رگ دبوچی ہوئی تھی اب دشمن کہتا ہے کہ یہ شاہ رگ میری ہے تمہاری نہیں. اور اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم عالمی برادری کو سمجھائیں کہ یہ شہہ رگ ہماری ہے بھارت کی نہیں.

اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی انتہائی کوشش کے باوجود عالمی عدالت میں پاکستان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ فریڈم فائٹر کو آگے لا رہا ہے. پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں ہونا چاہتا اور ہر حد تک جانے کے لیے تیار بھی ہے. یعنی پاکستان اپنا سافٹ ایمیج سب کے سامنے رکھ کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ کشمیر میری خواہش ضرور ہے(دو قومی نظریہ کی وجہ سے ) لیکن میں زبردستی نہیں چھین رہا بلکہ شہہ رگ خود زور لگائے گی.

جو احباب افغان مجاہدین کا موازنہ پاکستانی فوج یا پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ کر رہے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ علاقائی و جغرافیائی موازنہ بھی کر لیں. افغانستان میں بیس کیمپس ، افغانیوں کے گھر اور میدان جنگ ایک ہی جگہ پر ہیں … اور بات مجاہدین کے لیے فائدہ مند ہے. کشمیر میں مجاہدین کے بیس کیمپ پہلےتو تھے نہیں اور اگر چند ایک تھے تو وہ بھی میدان جنگ سے انتہائی فاصلے پر. جو لوگ تحریک آزادی کے ساتھ تھوڑا بہت لگاؤ رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشمیر میں بیس کیمپ سے میدان جنگ تک کا سفر کتنا طویل اور کتنا پرکٹھن ہے.

اس کے علاوہ افغانیوں کا بچہ بچہ راکٹ لانچر، کلاشنکوف چلانے میں ماہر ہے لیکن کشمیری بھائیوں میں جرات و شجاعت کی اتنی اور ایسی زبردست لہر برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی جس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیاتھا . بہر حال بیس کیمپ جو پہلے تھے اب نہیں رہے… تمام کشمیری قیادت جیل میں ہے. تو ایسی صورت میں افغانیوں سے کشمیریوں یا پاکستان کا موازنہ کرنا سراسر ناانصافی ہے

اب آخری بات کہ پاکستان نے اس معاملے کو ستر سال تک کیوں لٹکائے رکھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اس لیے دنیا کے سامنے سٹینڈ نہیں لے سکا کیونکہ 1947 میں کشمیری مسلمان قیادت نے دوقومی نظریہ کو سائیڈ پر رکھ بھارت کا ساتھ دے دیا اور اسی وجہ سے اس وقت سے اب تک پاکستان دفاعی پوزیشن پر رہا . جب کشمیری حکومت خود انڈیا کے ساتھ ہو گئی تھی تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گئی.

لیکن دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اس نے کشمیریوں کا ساتھ پھر بھی نہیں چھوڑا. اور کیسا اور کہاں کہاں ساتھ دیا اس کا جواب میں نہیں دے سکتا کشمیر کی گلیوں میں لہراتے پاکستان پرچم بتا سکتے ہیں. اب جب کہ تمام حریت قیادت(سب اس وقت جیل میں ہیں یعنی بھارت کے پے رول پر نہیں ) کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی بھی سمجھ چکی ہیں کہ عافیت دو قومی نظریہ میں ہی تھی تو پاکستان بھی اب مکمل طور پر سامنے آئے گا اور انہیں عافیت دینے کی مکمل کوشش کرے گا. اور اس بار اس کی لڑائی صرف بھارت سے ہو گی… نام نہاد مسلمانوں یا غداروں سے نہیں. اور دو قومی نظریہ ہی ان شا اللہ اس بار کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کرے گا.

پاکستان اپنی شہہ رگ بچانے کے لیے محدود وسائل اور محدود ایمان کے ساتھ زور لگا رہا ہے اور لگاتا رہے گا لیکن شاہ رگ کس کی ہے اس کا فیصلہ شہہ رگ اب خود کرے گی… شاہ رگ سے بہتا ہوا خون کرے گا اور یہ فیصلہ کیا ہو گا یہ وقت بتائے گا. باقی جہاں تک بات ہے بھارت سے جنگ کر کے کشمیر فتح کرنے کی تو جتنی بار کوشش اور جتنا وقت ہمارے اسلاف نے کسی ایک ملک کو فتح کرنے میں لگایا… اتنا تو لگ ہی سکتا ہے. بس ذرا کشمیریوں کو سنبھلنے کا موقع دے دیں…. کہ یہ شہہ رگ اپنے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.

فی الحال تو اس شہہ رگ کی طرف سے( چند بناوٹی وڈیوز اور پکچرز کے علاوہ) صرف ایک ہی کنفرم ٹویٹ سامنے آئی ہے.

جب انٹرنیٹ سروس بحال ہو گی تب پتہ چلے گا کشمیر کی گلیوں اور شہداء کی قبروں پر کون سا پرچم لہرا رہا ہے. دور سے اور سالوں سے آزادی کے سبز باغ دکھانے والے پاکستان کا پرچم یا ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں گھر، سہولیات اور وسائل مہیا کرنے کے وعدے دینے والا ہندوستانی ترنگا…. !

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.