پاکستانی نژاد معروف بزنس مین عمر فاروق ظہور نے ناروے کے مشہور ٹیبلائیڈ "ورڈنز گینگ” (VG) کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹیبلائیڈ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ عمر فاروق ظہور کو عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں کردار کے حوالے سے ہلال امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔”وی جی” کے مضمون میں ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور کو ہلال امتیاز توشہ خانہ کیس کو بے نقاب کرنے پر دیا جا رہا ہے۔ مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور 2010 میں ناروے میں نارڈیک بینک کے ساتھ "تقریباً 60 ملین نارویجن کرون” کے فراڈ میں مطلوب ہیں۔عمر فاروق ظہور نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہلال امتیاز غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں ملک میں "کروڑوں ڈالر” لانے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹیبلائیڈ کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا ہے کہ مضمون میں ان کی نیک نیتی سے کی گئی سرمایہ کاری کی کوششوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
عمر فاروق ظہور نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ناروے میں موجود حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور اس حوالے سے تحقیقات بہت پہلے ہی بند کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے 2020 اور 2021 کے دوران ناروے کے حکام کی جانب سے موصول ہونے والے خطوط کو بھی پیش کیا ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔وی جی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ استوائی گنی کے صدر اوبیانگ نگوما مباسوگو نے گزشتہ سال عمر فاروق ظہور کو ایک تمغہ دیا تھا، جسے دنیا کے بدعنوان ترین صدور میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیبلائیڈ نے اس تمغے کو ظہور کے پاکستان میں نامزد کیے جانے والے ایوارڈ سے جوڑتے ہوئے بدعنوانی سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ عمر فاروق ظہور نے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے، اور کہا ہے کہ ان کا ایوارڈ صدر مباسوگو کی بدعنوانی سے کوئی تعلق نہیں۔عمر فاروق ظہور کے وکلاء نے وی جی کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مضمون کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور حقائق کی غلط رپورٹنگ اور توڑ مروڑ کر بدنام کرنے کے لیے معافی نامہ شائع کیا جائے۔ بصورت دیگر، قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔عمر فاروق ظہور کو اگلے سال 23 مارچ کو ہلال امتیاز سے نوازا جائے گا، جس کے حوالے سے ناروے کے ٹیبلائیڈ "وی جی” نے حالیہ رپورٹ میں متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔ ظہور نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بدنام کرنے والے مواد کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

عمر فاروق ظہور کا ناروے کے ٹیبلائیڈ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج
Shares:







