وفات کے 14 برس بعد شادی کرنے والا شخص

وفات کے 14 برس بعد شادی کرنے والا شخص

موت و حیات کا سلسلہ انسان کی زندگی کا ناقابل تردید پہلو ہے مگر جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں اب فوت شدہ لوگوں کی شادیاں بھی ہونے لگیں۔

پاکستان ایسا ملک بن گیا جہاں موت کے بعد بھی شادی ہو سکتی ہے اور یہی وہ اسلامی ملک بھی ہے جہاں بہت سے لوگ بغیر شادی کے ماں باپ بن رہے ہیں۔

یہ سب انکشاف اس وقت ہوا جب ایک شہری اپنے بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ب فارم CRC) کے حصول کے لیے نادرا میگا سینٹر لاہور پہنچا۔ جب سینٹر میں موجود آفیسر نے شہری کی درخواست پر اس کا ڈیٹا سسٹم میں انٹر کیا تو 14 برس سے شادی شدہ 3 بچوں کے باپ کو معلوم ہوا کہ وہ تا حال کنوارا ہے کیونکہ نادرا کے پاس اس کی شادی کا اندراج نہیں جبکہ شہری نے اپنا نکاح نامہ نادرا سے رجسٹرڈ کروا رکھا ہے اور نادرا سے ہی تینوں بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ بھی بنوا رکھے ہیں۔ اب مسئلے کا حل یہ بتایا گیا کہ آپ شناختی کارڈ کی تجدید کروائیں اور نیا کارڈ بننے پر بچوں کا ب فارم حاصل کرنے کے لیے درخواست دیں۔ (بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کام بھی محض 100 روپے فیس ادا کر کے شناختی کارڈ میں ترمیم کی درخواست کے تحت ہو سکتا تھا۔) بہرحال تجدید شناختی کارڈ کی درخواست دی تو معلوم ہوا کہ شہری کے والد جن کو فوت ہوئے 14 برس بیت چکے، نادرا ریکارڈ میں تاحال کنوارے ہیں۔ اگرچہ نادرا ریکارڈ میں ان صاحب کی اہلیہ اور بچوں کا ریکارڈ ایک ہی فیملی ٹری میں موجود ہے اور اہلیہ کی زوجیت اور ہر بچے کی ولدیت میں نام موجود ہے مگر چونکہ 2001 میں قائم ہونے والے ادارے نادرا میں شادی شدہ ہونے کا اندراج نہیں کروایا تھا لہذا تاحال کنوارہ ظاہر کیا گیا۔

اس سارے مسئلے کا حل یہ تجویز ہوا کہ اب والد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوا کر شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی درخواست دی جائے ۔ ریکارڈ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہ عمل پہلے سے اس شہری کے بھائی کی طرف سے کیا جا چکا ہے مگر تاحال ریکارڈ درست نہ کیا جا سکا۔ تاہم نادرا آفس میں ایک بار پھر فوت شدہ والد کی ازدواجی حیثیت تبدیل کرنے کی درخواست دائر کردی گئی ہے جس پر عمل درآمد 4 سے 5 ماہ میں متوقع بتایا گیا ہے ۔ اس کے بعد ریکارڈ کی درستی کی امید کی جا سکتی ہے۔

نادرا کے ریکارڈ میں آنے والے ایسے مسائل سے نہ جانے کتنے شہری پریشانی سے دوچار ہیں اور افسران شہریوں کو درست معلومات بھی فراہم نہیں کرتے جس سے یہ مسائل اور بھی بڑھ رہے ہیں۔ جب ادارہ 2001 میں بنا تو پہلے سے موجود ریکارڈ کی توثیق کارڈ کے اجراء کے موقع پر کیوں نہ کی گئی؟ اب جب کوئی دنیا میں نہیں رہا تو اس کے ریکارڈ میں سقم نکال کر لوگوں کو مزید پریشان کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ عہدیداران سے ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اصلاح کے لیے کوشش کی درخواست ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.