خصوصی رپورٹ: سید شاہزیب شاہ، باغی ٹی وی، میرپور خاص
سندھ اس وقت کئی محاذوں پر شدید بحران کا شکار ہے، جہاں پانی کی قلت، صحت عامہ کی زبوں حالی، غربت، بے روزگاری، تعلیم و علاج کی عدم دستیابی اور حکومتی بے حسی نے زندگی کو بدترین حد تک متاثر کیا ہے۔ اندرون سندھ میں حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے۔
پانی کا بحران: انڈس کینال منصوبہ تنازع کا شکار
حالیہ دنوں میں انڈس کینال منصوبے اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم نے سندھ کے شہریوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ شمالی سندھ میں ہونے والے احتجاجوں نے "میدانِ جنگ” کا منظر پیش کیا، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب کو پانی کی فراہمی میں ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ سندھ، بالخصوص اندرونی اضلاع، بدترین قلت کا شکار ہیں۔ یہ معاملہ اب محض وسائل کی تقسیم کا نہیں، بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے بحران میں بدل چکا ہے۔
میرپور خاص: صحت کا ہاٹ سپاٹ، ایچ آئی وی کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا
میرپور خاص ڈسٹرکٹ اس وقت سندھ کا صحت کے حوالے سے نیا بحران مرکز بن چکا ہے۔ صرف 2024 میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 150 تک جا پہنچی ہے، جس نے انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صحت عامہ کا نظام ناکام دکھائی دیتا ہے اور ہنگامی اقدامات کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ عوامی اسپتالوں میں ادویات کی کمی، تربیت یافتہ عملے کا فقدان اور عدم توجہی نے اس مسئلے کو پیچیدہ کر دیا ہے۔
سماجی و معاشی بدحالی: 53 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے
رورل سندھ آج بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہے۔ زراعت میں جدت اور استحکام نہ ہونے کے باعث کسان اور ہاری بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ موسمیاتی تغیرات اور بارشوں کے بعد اکثر سڑکیں، کھلیان، اور بستیاں زیرِ آب آ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اندرونی سندھ میں خواتین اور بچیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ قبائلی جھگڑے اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
تعلیم و علاج تک رسائی محدود، وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ
تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکیں، اور روزگار جیسے بنیادی مسائل دہائیوں سے حل طلب ہیں۔ حکومتی منصوبہ بندی اور نچلی سطح پر ناقص گورننس کے باعث اصلاحات کا فائدہ نچلے طبقے تک نہیں پہنچ پا رہا۔ میرپور خاص سمیت اندرونی سندھ میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے اور عوام کی نظر اب عملی اقدامات پر ہے، نہ کہ صرف بیانات پر۔
آخری سوال: کیا سندھ کو اس کا حق مل پائے گا؟
سندھ کے عوام آج سوال کر رہے ہیں: کب تک ان کے وسائل پر قبضہ رہے گا؟ کب تک ان کی محرومیوں کو نظرانداز کیا جائے گا؟ کیا وفاقی حکومت اندرونی سندھ کے لیے خصوصی معاشی و ترقیاتی پیکیج لانے پر غور کرے گی؟ کیا سندھ کو وہی عزت، سہولتیں اور وسائل میسر آ سکیں گے جو ملک کے دیگر حصوں کو حاصل ہیں؟
اب وقت آ چکا ہے کہ اندرون سندھ کے عوام کو ان کا حق دیا جائے، ورنہ یہ احتجاج محض سڑکوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ایک بڑی تحریک میں بدل سکتا ہے۔