ورلڈ ہیڈر ایڈ

پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

2016 یا 2017 کی بات ہے حسب عادت دوست کے ساتھ اتوار کے روز ملاقات کی غرض سے اکھٹ ہوا ہنسی مزاح جگت بازی جاری تھی کہ نظریہ پاکستان پر بات شروع ہوئی اتنے میں ایک دوست کہنے لگا عثمان بھائی آپکا وقت درکار ہے میں نے پوچھا خیریت کہنے لگا بھائی آپ جیو نہیں دیکھتے یا جنگ اخبار کو نہیں پڑھتے میں نے نا میں جواب دیا اور وضاحت طلب کی تو معلوم ہوا جیو نیوز کی جانب سے ایک نیا فتنہ جو نظریہ و اساس پاکستان یا یوں کہا جائے کہ تعبیر پاکستان سے لے کر تعمیر پاکستان تک کے خلاصہ کو بڑے احسن انداز سے
"پاکستان کا مطلب کیا پڑھنا لکھنا اور کیا” کی کیمپین شروع کر چکا تھا نوجوان نسل اور ابتدائی تعلیم کی شروعات کرنے والے معصوم پھول انکا نشانہ تھے کچھ حد تک وہ کامیاب ہوتا نظر آرہا تھا
لبرل و پاکستان مخالف اس کیمپین کے حامی تو تھے ہی ہمارا اصلی دشمن بھارت بھی کیمپین کا حصہ بن رہا تھا سوشل میڈیا پر گرفت پکڑ رہا تھا خیر اسی اثناء میں سوال کیا میں کیا خدمت کر سکتا ہوں
جواب ملا کہ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے زیر اہتمام پاکستان کی گلی گلی نگرنگر نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے اور
” پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی کیمپین شروع کی ہے آپ اس میں ساتھ دیں بس آہ بھر کر ارادہ کیا اور اس ارداہ کے ساتھ حامی بھر لی کے
ان شاء اللہ نظریہ پاکستان کو خود بھی سمجھنا ہے اور سمجھانابھی ہے اپنے شہر کے ایک کونے سے آغاز کیا لوگوں نے بھرپور ساتھ دیا پروگرام کروانے کی حامی بھری تھکاوٹ تو بہت ہوتی مگر دل خوش تھا کہ پاکستان کے لئے نا ہونے کے برابر اس تعمیر شدہ پاکستان کی تزئین و آرائش کے لئے تھوڑا سا کام کر گیا۔
واللہ حقیقت بات ہے پہلے پروگرام میں نے سفید داڑھی والے چند بزرگوں کے آنسو دیکھے کہنے لگے پتر جئے ٹائم ہے تے گل سن جا پھر ایک داستان سنائی

23 مارچ 1940 کا دن بہت تاریخی تھا جب برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو و مسلم مسئلے کا حل نکالتے ہوئے تقسیم برصغیر کے ذریعہ سے الگ ملک پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔یہ وہ دن تھا جب جب رنگ و نسل کے سارے بت خانے توڑ کر مخالف عقائد کے سارے ماننے والے مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقائی و خاندانی ثقافتوں کے حامل تمام مسلمان ایک کلمہ توحید کی بنیاد پر پرچم پاکستان کے سائے تلے اکھٹے ہونے کا اعلان کیا۔
اس وقت کسی جٹ نے جٹستان، کسی آرائیں نے آرائیں آباد کی بات نہیں کی تھی نا پنجاب سے پنجابستان کی آواز آئی تھی نا کسی پٹھان، سندھی یا بلوچی نے اپنے نام سے منسوب ملک کئ بات کی تھی یہاں تک کہ سنی تھا یا شعیہ وہابی تھا یا دیو بند کسی نے بھی اپنے عقائد کی ترجیح کی بات نہیں کی تھی مذہبی و سیاسی طور پر انکی صفوں میں کسی قسم کا انتشار کی لہر نہیں تھی بلکہ یہ پیغام تھا
” ہماری صف بھی ایک ہے کیونکہ ہم سب کا رب ایک ہے سب ایک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور انہی پر نازل کتاب قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں
کیا تھا اس یکجہتی کی آواز سے برصغیر میں موجود دشمنوں کو ایک پیغام گیا یہ سب اتفاق کی رسی میں آ چکے ہیں اب ہماری تدبیروں کا فائدہ نہیں یہ ایک صف کی شکل میں ایک آواز بن چکے ہیں اب پاکستان کا معرض وجود لازم ہو چکا ہے

بتاتے بتاتے اس بات پر رو پڑے پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وطن ِ عزیزکی بنیادیں استوارکرنے کے لئے متحدہ مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ،گوشت گارے کی جگہ ،اورخون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے۔جن کی عظیم قربانیوں کے بعد 14 اگست 1947 کو وطن عزیز پاکستان کا قیام وجود عمل میں آیا۔

میں سننے کی طاقت نہیں رکھتا تھا حالانکہ کہ ان حالات کی عینی شاہدین میں سے تھے بہرحال تب سے ارادہ کیا تھا جو نعرہ سن 47 میں لگا تھا
*پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ*
اس کو گلی گلی نگر نگر سمجھانا ہے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے اس نظریے کی ترویج کرنی ہے پاکستان کے لئے گمنام محافظوں کی طرح ایک مشن کے طور پر کام کرنا ہے
اسکی تعمیر میں ہم حصہ تو نا لے سکے کم از کم تعمیر شدہ پاکستان کی حفاظت تو کر سکتیں ہیں

دعا ہے اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو نیست و نابود کرے۔
پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.