fbpx

پاکستان میں چینی بحران کا ذمہ دارکون؟جہانگیرخان ترین پرالزامات کی حقیقت کیاہے:خصوصی رپورٹ

لاہور:پاکستان میں چینی بحران کا ذمہ دارکون؟جہانگیرخان ترین پرالزامات کی حقیقت کیاہے:خصوصی رپورٹ،تفصیلات کے مطابق ایک طرف پاکستان میں چینی کے بحران کے حوالے سے مختلف قسم کے بیانات کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اس میں شامل کرداروں کے بارے میں مخلتف قسم کی قیاس آرائیاں بھی شروع ہوچکی ہیں‌

ان حالات میں جب ایک طرف ملک میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اورپاکستان تحریک انصاف کی اس حکومت کے سب سے بڑے کھلاڑی محرک اورروح رواں جہانگیرخان ترین کو کہاجا تا ہے ان کے مخالفین بھی ان کی خوبیوں کے معترف ہیں ،

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں سب سے زیادہ جومسئلہ اس وقت دردسربنا ہوا ہے وہ چینی بحران کا ہے ، اس بحران کے ذمہ دار کون کون ہیں اوران کا کردار کیا ہے اس حوالے سے جہاں شریف فیملی اورایسے زرداری سمیت کئی بڑے بڑے سیاستدانوں کومورد الزام ٹھہرایا جارہا تھا توساتھ ساتھ عمران خان کی جان اورتحریک انصاف کی پہنچان جہانگیرخان ترین پربھی الزام تھا کہ انہوں نے چینی بحران میں مال کمایا ہے اوروہ اس کے ذمہ دار ہیں ،

یہ بحث ٹی وی عدلیہ اوردیگرپیلیٹ فارمز پربڑے زوروشور سے جاری ہے ، ایک طرف ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ کولے کرمخالفین جہانگیرٰخان ترین کوآڑے ہاتھوں لے رہے ہیں ، لیکن جہانگیر خان ترین کہتے ہیں کہ وہ تحقیقاتی اداروں کی انکوائری رپورٹ کوتسلیم کرتے ہیں اوراس کے مطابق وہ بے گناہ ہیں

اس سلسلے میں وہ انکوائری ر پورٹ کے چند اہم پہلوووں کا ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

چار صفحات پر مشتمل اپنے جواب میں کے ساتھ جہانگیر ترین نے 1400 صفحات پر مبنی دستاویزات کے 11 والیمز بھی ایف آئی اے کے حوالے کئے۔

جہانگیر ترین نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ JDW شوگر ملز 12 ہزار سے زائد افراد کو براہ راست جبکہ 50 ہزار سے زائد کاشتکار، ٹرانسپورٹرز اور محنت کشوں کو بلواسطہ روزگار فراہم کر رہی ہے، ان کی کمپنی نے 3 سال کے دوران کاشتکاروں کو 81 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں شفاف انداز میں بینکنگ چینلز کے زریعے کیں۔

جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ 81 ارب خریدے گئے گنے کی قیمت کا کل 98 اعشاریہ 5 فیصد بنتا ہے۔

اپنے جواب میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ JDW ملز سالانہ تقریبا 15 ارب روپے کا ٹیکس قومی خزانے میں جمع کراتی ہے، 10 سال میں 3 بار JDW شوگر ملز کو "پاکستان سٹاک ایکسچینج ٹاپ 25 کمپنیز” ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی کمپنی امدادی قیمت پر کاشتکاروں سے گنے کی خریداری یقینی بناتی ہے اور كسان کو ادائیگی میں بھی تاخیر نہیں آنے دیتے، بڑے پیمانے پر کام کرنے والی کمپنیز میں روز مره اخراجات کیلئے کیش نكلوانا غیر معمولی بات نہیں

جہانگیر خان ترین کہتے ہیں کہ اس انکوائری رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہشوگر ملز 12 ہزار سے زائد افراد کو براہ راست جبکہ 50 ہزار سے زائد کاشتکار، ٹرانسپورٹرز اور محنت کشوں کو بلواسطہ روزگار فراہم کر رہی ہے

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ سالانہ 70 ارب روپے کماتا ہے اوریہ پاکستان کی واحد شوگرملزکمپنی ہے جوسب سے زیادہ یعنی 15 ارب روپے قومی خزانے میں ٹیکس دیتی ہے

پچھلے دس کے دوران پی ایس ایکس (پاکستان اسٹاک ایکسچینج) کی طرف سے ٹاپ 25 کمپنیوں کا ایوارڈ 3 بار دیا گیا ہے

اس رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ اپنے کاروبار کو شفاف انداز میں چلاتا ہے اور اس کے منافع کی ادائیگی کا ٹریک ریکارڈ بہترین ہے۔

ایف جے ڈی ڈبلیو کسان دوست پالیسیوں کو برقرار رکھتی ہے، یعنی سب کے تحت گنے کی کم سے کم سپورٹ قیمت کا تحفظ حالات کاشتکاروں کو بروقت ادائیگی ، کاشتکاروں سے براہ راست گنے کی خریداری ، مفت توسیع ، اہل پیشہ ور افراد کے ذریعہ خدمات ، کسانوں کو مختلف ذرائع سے ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مدد دیتی ہے

اس کمپنی کی پالیسیوں کی وجہ سے کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ۔ مزید یہ کہ اس نے گنے کی کاشتکاری اور چینی کی پیداوار کے معاملے میں پاکستان کو خود کفالت کی طرف بڑھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جی جے ڈبلیو واحد گروپ ہے جو گنے کے فارموں کے ساتھ کمزورپہلووں‌ پرخصوصی توجہ دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کھیتوں میں پھیلا ہوا تقریبا 30 ہزار ایکڑ رقبہ اور نہ صرف جے ڈی ڈبلیو کو گنے کی فراہمی کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہورہا ہے ،

جہانگیر خان کی طرف سے جاری اس رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جے ڈی ڈبلیو نے ٹھٹھہ (سندھ) میں ایک جدید طرز کا گنے کے ریسرچ سنٹر بھی تیار کیا ہے جس میں پاکستان کے گنے کی پیداوار میں اضافے کے لئے نئی اقسام تیار کرنا شامل ہیں‌

اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہےکہ جے ڈی ڈبلیو گذشتہ تین سالوں سے گنے کے کاشتکاروں کو 81 ارب روپے بینکوں‌کے ذریعے ادا کرچکا ہے اس میں جن میں گنے کی کل قیمیت جو ادا کی گئی تھی وہ 98 فیصد سے زائد ہے

جے جے ڈی ڈبلیو نے دورجدید کے ساتھ ساتھ جدید شوگرملز اورپھراس سے متعلقہ دیگرپہلووں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے وہ تمام تراقدامات کیے تھے جس سے کسان کو فائدہ ہو پھراسی وجہ سے انڈسٹری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا

شوگر انڈسٹری میں کے جے ڈی ڈبلیو کی کریڈٹ ریٹنگ سب سے زیادہ ہے۔ جے سی آر-وی آئی ایس کریڈٹ ریٹنگ کمپنی محدود (JCR-VIS) نے A / A-2 پر کمپنی کی ہستی کی درجہ بندی کی تصدیق کی ہے۔

ایل جے ڈی ڈبلیو اپنے شراکت دار بینکوں کے ساتھ عمدہ ساکھ اور خوشگوار تعلقات برقرار رکھتی ہے اوراس پرسختی سے کاربند بھی ہے

جہانگیرترین نے اس رپوٹ میں یہ بھی وضاحت کی کہ اس کا یہ ادارہ کبھی بھی کسی بینک کا ڈیفالٹر نہیں رہا ہے

جہانگیر خان ترین اس رپورٹ کو بنیاد بنا کرکہتے ہیں‌کہ مجھے یقین ہے کہ جے ڈی ڈبلیو کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی توجہ گنے کے حصول کے ساتھ ساتھ کسانوں سے خوشگوارتعلقات برقرار رکھنے پر ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ کاشت کارکویہ ادارہ اس کے کاروباراورخریداری کو پورا تحفظ فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے کسان ان کے ساتھ خوش ہے

جے ڈی ڈبلیو سیکیورٹیز سمیت تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط کی کی پاسداری بھی کرتا ہے اوراس پرعمل کرنے کواپنی خوش بختی بھی سمجھتا ہے

جہانگیر خان ترین اس پرخوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کو فخر ہے کہ ان کے ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ایکٹ 1997 ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایکٹ 2007 ،سٹیٹ بینک آف پاکستان ریگولیشنز ، کمپنیز ایکٹ 2017 ، (کمپنیاں آرڈیننس 1984) ، یا شوگرفیکٹریاں کنٹرول ایکٹ ، 1950 کے سلسلے میں معاملات تسلی بخش رہے ہیں اورقابل فخر بھی

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 84 شوگرملز کے بارے میں شکوے شکایتیں تھیں مگران میں سے صرف 10 کونشانہ بنایا گیا جن میں سے 3 جے ڈی ڈبلیو کی ملکیت تھیں۔

کمیشن پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں انٹیلی جنس کے افسران شامل تھے جن میں‌ فیڈرل انوسٹی گیٹنگ ایجنسی (ایف آئی اے) ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ، پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ، انٹر سروسز انٹیلیجنس ، اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان شامل تھے

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کسی نے بھی جہانگیرخان ترین کی شوگرملز کے حوالے سے کی غلطی یا غلط بیانی کی شکایت نہیں کی

ان کا یہ کہنا کہ جب پہلے ہی ملک کے طاقت ورادارے اس کی شوگرملز کے خلاف تحقیقات کرچکے ہیں سی آئی ٹی نے بھی وہی اندازاختیار کیا اورجو دیکھا اس کے مطابق جہانگیرخان ترین کے شوگرملزگروپ نے جے آئی ٹی سے پہلے ہر سوال کا جامع جواب دیا ،

ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ بار بار پوچھےجانے کے وہ پھربھی اپنے آپ کو قانون کےسامنے پیش کرنےکے لیے تیا ربیٹھے ہیں‌

 

 

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنیادی مالیاتی ، مارکیٹنگ ، اور آپریشنل مینجمنٹ ٹیم کے ساتھ ساتھ مطلوبہ دوسرے تمام افسران بھی
جے آئی ٹی اور سی آئی ٹی نے ہر لین دین کی وضاحت کرنے کے لئے کافی دستاویزی دستاویزات پیش کیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ جہانگیرخان ترین کی شوگرملزنے ہراس سوال کا جواب دیا جوپوچھا گیا اوروہ جوابات بھی احسن انداز سے دیئے کہ جن کے دائرہ کارمیں نہیں آتے تھے

جہانگیرخان ترین کہتے ہیں کہ پہلی باران کو 15 ستمبر2020 کو طلب کیا گیااور پھر19ستمبر2020 کو طلب کیا گیا اورہراس سوال کا جواب دیا جوانکے شوگرکاروبار سے متعلق تھا

وہ کہتے ہیں کہ اس دوران پیرا نمبر 4 اور9 کے درمیان جوتحقیقات کا مرکز تھے تسلی بخش جوابات دیئے
1. سب سے پہلے جوکنسرنز پیش کیے گئے تواسکا جواب کچھ اس طرح دیا گیا کہ

گنے کی کاشتکاری کے لیے خود جہانگیرخان ترین نے ایک بہترین فارم سسٹم ڈیویلپ کیا ہے جس کے تحت گنے کی خریداری میں کسی قسم کی بدعنوانی کا تصور نہں بلکہ بہترین انداز سے یہ کام ہوتا ہے ۔

ان کا کہنا ہےکہ یہ سرمایہ کاری نہایت ہی عملی ، حکیمانہ ، اور تھی فائدہ مند سرمایہ کاری جس نے جے ڈی ڈبلیو کے آپریشنوں میں ایک قابل قدر اہم کردار ادا کیا گنے کی ترقی میں کردار ہے۔ اس کا فیصلہ جے ڈی ڈبلیو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز (بی او ڈی) نے کیا تھا

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس س کے بعد سے جے کے ایف ایس کے گنے کی خریداری کے لیے باقاعدہ ایک مالی سسٹم قائم کیا تاکہ
جے ڈی ڈبلیو کو اس قابل بنایا کہ وہ ہر وقت کے لئے اپنی گنے کی 15-18 فیصد سپلائی کو محفوظ بنا سکے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہانگیرخان ترین ملز کے تمام مالی اثاثوں کوتھرڈ پارٹی اوربین الاقوامی معیار اداروں‌کی طرف سے تسلی بخش قرار دیا ہے

2جہانگیرخان ترین کہتے ہیں کہ اس شعبے میں بہتری لانے کے لیےفاروقی پلپ ملز کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا جس کے لیے تین ارب 15 کروڑ روپے بھی مختص کیے گئے اوریہ سرمایہ کاری 8 سال اور کی مدت میں کی گئی تھی

اس پروجیکٹ کے تحت لکڑی کا گودہ بنانے کے حوالے سے انویسٹ منٹ تھی جو پاکستان باہر کے ممالک سے منگواتا تھا اورپھراس شعبےس میں بہت زیادہ ترقی کی پاکستان میں اس حوالے سے ایک خاص مقام حاصل کیا

مارچ میں 2011 اور اگست 2012 میں بالترتیب 21 دن کے دو پروگرامزچلائے لیکن وہ بہترانداز سے نہ چل سکےحالانکہ اس دوران کی پیداوارکوامریکہ ڈالرز میں فروخت کیا گیا تاہم ، بجلی اور بھاپ سے متعلق امور سمیت تکنیکی مسائل کی وجہ سے ، یہ عارضی طور پربند کردیا گیا تھا

اس کو دوبارہ چلانے کے لیے اضافی سرمایہ کاری۔ 2.2 ارب کے لئے درکار تھا

اسی اثنا میں جے ڈی ڈبلیو کو جنریشن پلانٹس میں سرمایہ کاری کا موقع ملاجس کے دوران جہانگیر خان ترین کی جے ڈی ڈبلیو کے منافع میں نمایاں شراکت میں ایک بہترین سرمایہ کاری ثابت ہوئی۔

اس منصوبے پرکسی قسم کا اعتراض بھی سامنے نہیں ایا 2017 میں سیکورٹی ایکسچینج پاکستان نے اس کے معالات کا جائزہ لینے کے لیےکوئی طریقہ کاروضع نہیں کیا اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ متعلقہ مانیٹرنگ کے ادارے اس کی کارکردگی سے مطمئن تھے

جہانگیرخان ترین کہتے ہیں کہ اس ادارے کا نظام اتنا شفاف ہے کہ تین سال کے اندر2سوارب روپے گنے کے کاشتکاروں اورگنے سے وابستہ دیگرشعبوں کے ملازمین افراد کو بینکس اکاونٹس کے ذریعے منتقل کیئے گئے لیکن اس دوران کسی قسم کی بدعنوانی یا بدانتظامی دیکھنے میں نہیں اوریہ اس ادارے کی کریڈبلٹی کے لیے ایک اعزاز ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس پہلوکوتمام تحقیقاتی اداروں نے جانچا اورپھراسے تسلی بخش قراردیا

اے ٹی ایف کے کھاتوں میں نقد رقم جمع کرنے کے ذریعہ سے متعلق سوال کے جواب میں مینگو فارمز (پرائیوٹ) لمیٹڈ اور جے کے ڈیریز (پرائیوٹ) لمیٹڈ ، براہ کرم نوٹ کریں کہ مذکورہ کمپنیوں کی کارپوریٹائزیشن اور اس کے بعد شیئر ہولڈنگ میں کسی قسم کی بدانتظامی یا بدعنوانی کا شائبہ تک نہں ملا جو کہ ایک اعزاز سے کم نہیں

جے ڈی ڈبلیو اور ڈہرکی شوگر ملز لمیٹڈ کے مابین لین دین کے بارے میں تمام لین دین مکمل طور پر دستاویزی ہیں

جے ڈی ڈبلیو (پیرنٹ کمپنی) اور ڈی ایس ایم ایل (جے ڈی ڈبلیو کی مکمل ملکیتی ماتحت ادارہ) کے درمیان ترقی ،کمپنیوں کے آرڈیننس ، 1984 کے سیکشن 208 اور کمپنیوں کے سیکشن 199 کے تحت کئے گئے اور2017 کے ایکٹ کے تحت معاملات چل رہے تھے اورچل رہے ہیں کسی قسم کا آئنی سقم نہں ہے

جہانگیرخان ترین ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ کوبنیاد بناکرکہتے ہیں کہ

یہ رپوٹ یہ واضح کرتی ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں قصور وار نہیں ہوں اورنہ ہی میری شوگرملزکسی غیرآئنی پہلو کا مرتکب ہوئیں
وہ کہتے ہیں کہ تمام ترانکوائیریاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ جہانگیرخان ترین مجرم نہیں ہے اورنہ ہی اس کے زیرانتظام چلنے والے ادارے کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں

ان کا کہنا ہےکہ جس طرح ایک مفروضہ بناکرالزامات لگائے گئے ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ صرف مفروضے ہی تھے کہ انکوائری رپورٹ کے بعد دفن ہوگئے ہیں‌

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے 1974 کے ایکٹ کے متلقہ شیڈول کے تحت جب جائزہ لیا تویہ ثابت ہوا کہ جہانگیرخان ترین یا ان کا کوئی ادارہ کسی غلطی کے مرتکب نہیں ہوئے تمام معاملات آئینی اورقانونی تھے

اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہتا تھا کہ جہانگیرخان ترین اوران کے اداروں کی طرف سے لین دین کے معاملات میں کسی قسم کی کوئی گڑبڑ نہیں تھی اورتمام معاملات احسن انداز سے چل رہے تھے

ان کا یہ بھی کہنا کہ انہوں نے تمام تحقیقاتی اداروں کو وہ تمام دستاویزات اورثبوت فراہم کیے جن کا انہوں نے تقاضا کیا ، اس دوران ان اداروں کی تحقیقات کی صورت میں تمام معاملات درست قراردیئے گئے
جہانگیر خان ترین کہتے ہیں کہ انہوں نے جوبھی کاروبارکیا اس میں تمام سٹیک ہولڈرز زمیندار سے لیکرایک مزدورتک سب کے حقوق کواحسن انداز سے نبھایا

ساری گفتگو کرکے جہانگیر خان ترین کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی ڈائریکٹر ، شیئر ہولڈر ، یا دوسرے اسٹیک ہولڈر کو براہ راست یا کبھی تکلیف نہیں دی

وہ کہتے ہیں کہ تمام اداروں کی انکوائری رپورٹس کے بعد ان کی یہ درخواست ہے کہ اب ان پر کسی قسم کی الزام ترشی نہ کی جائے یہ اچھا شگون نہیں جب قانون نے مجھے بری الذمہ قراردیا ہے توبراہ کرم آپ بھی ان قومی اداروں کے فیصلوں کومدنظررکھتے ہوئے اس قسم کے خیالات اورالزامات سے دورہی رکھیں توبہتر ہے ان کا کہان تھا کہ اب ان کے خلاف الزامات کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.