وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر

اور پاکستان کی مسلسل پانچ فتوحات

وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔

1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب

2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی

3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا

4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔

5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔


رضی طاہر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.