fbpx

صوابی میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کا قتل کس نے کیا؟وزیراعظم سخت غصّے میں‌ آگئے

اسلام آباد : صوابی میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کا قتل کس نے کیا؟وزیراعظم سخت غصّے میں‌ آگئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے صوابی میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کے بیوی اور دو بچوں سمیت قتل کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صوابی میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کے بیوی اور دو بچوں سمیت قتل کی واردات کی سختی سے مزمت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ واردات میں ملوث مجرموں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اس بہیمانہ فعل کے مرتکب افراد کو پکڑا جائے گا اور قانون کی پوری شدت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے قتل کی واردات کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم بھی دے دیا ہے۔پولیس نے مجرمان کو پکڑنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے

 

ڈی پی او صوابی محمد شعیب کے مطابق اے ٹی ایس کی نفری طلب کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا، مقتولین کو گاڑی میں سوار ملزمان نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، واقعے میں دو پولیس اہلکار اور ایک محافظ بھی زخمی ہیں۔

ATC Justice Aftab Afridi killd peshawer 4

ڈی پی او صوابی نے مزید کہا کہ جج پر حملہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے، شہید جج کے بیٹے کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جارہی ہے۔

ATC Justice Aftab Afridi killd peshawer 2

 

 

گورنر کا اظہار مذمت

گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دےدیا۔ گورنر نے قاتلانہ حملے میں جج اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر اظہار افسوس کیا۔

ATC Justice Aftab Afridi killd peshawer 3

وزیراعلیٰ کا ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے پولیس حکام کو ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا حکم دےدیا اور کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا ظالمانہ فعل ہے، اس بہیمانہ واقعے میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ وزیر اعلی نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.