عورت، اسلام کے سایہ عافیت میں ۔۔۔ محمد طاہر

ظہور اسلام سے قبل مختلف معاشروں اور اقوام کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں انسانی اقدار کی پامالی عام سی بات بن کر رہ گئی تهی خاص طور پر عورت کو تو انتہائی مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنا دیا گیا تها۔ بیٹی کے وجود کو تضحیک کا نشان سمجها جاتا تها۔ عورت کی ذات ذلت، حقارت اور تجارت تینوں منڈیوں کے لیے فراواں تهی۔ وہ تباہی وبربادی کا باعث اور نحوست کی علامت قرار دی جا چکی تهی۔
دنیا میں کوئی ایسانہ تها جو عورت کے حق میں آواز بلند کرتا اور نہ کوئی ایسی قوم تهی جو عورت کی حمایت میں آواز اٹھاتی، بلکہ ان معاشروں کا تو عالم یہ تهاکہ قبائل کے روح رواں اور مصلحین کے ساتھ ساتھ اقوام خود بهی عورت کی اہانت و تضحیک پر کمر بستہ نظر آتے تهے۔
کسی کے ہاں لڑکی کی پیدائش ہوجاتی تو اس لڑکی کا والد اس کو اپنے ساتھ لے جا کر اپنے ہاتهوں سے گڑھا کھود کر اپنی بچی کو اس میں زندہ دفن کر دیتا لیکن یہ صرف ماضی کی بات نہیں آج بھی بعض گھرانے ایسے ہیں جہاں دورِ جہالت کی طرح اب بهی ایک معصوم جان کا قتل کردیا جاتا ہے یا اس کو کچرا دان یا دریا میں پھینک دیا جاتا ہے۔
اسلام ہمیں صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورت کے بارے میں بهی بتاتا ہے۔ مر کی طرح عورت کے لیے بھی حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے ایک عالمگیر ضابطہ حیات واخلاق اور دین رحمت کو نازل کیا جس کی تعلیمات کا محور صرف مرد کی ذات نہ تھی بلکہ عورت بهی اسی طرح قابل التفات تهی جس طرح مرد تھا۔ اس احترام نے عورت کو قعر ذلت سے نکال کر عزت و احترام کے بلند مقام پر فائز کیا اس نے مغرب کی طرح عورت کو آزادی دے کر نہ اسے شتر بے مہار چھوڑا، نہ دیگر معاشروں کی طرح اس پر پابندیوں اور سختیوں کے قفل لگائے ہیں، بلکہ اعتدال اور میانہ روی میں رہتے ہوئےاس کے دائرہ کار کی وضاحت کی ہے۔
نبی رحمت جناب محمد ﷺ نے عورت کی مختلف پہلوؤں سے عزت و حیثیت کو اجاگر کیا۔ وہ ماں ہے تو اس کے حقوق کو باپ کی نسبت تین گنا بڑها کر بیان کیا۔ ماں کی خدمت گزاری اور اطاعت کے عوض جنت کا مژدہ سنایا۔ بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا، بلکہ جو شخص اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹی کی پرورش اور تربیت کرے اس کو قیامت کے دن اپنی معیت اور جنت میں داخلے کی بشارت دی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔ (صحیح المسلم 6695)
میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا اور ان دونوں کے تعلق میں پیار و محبت اور الفت و مودت کو خاص اہمیت دی۔بیوی اپنے شوہر کی محکوم اور غلام نہیں بلکہ رفیق حیات ہے اور خانگی زندگی کو باہم مشورے اور اتفاق رائے سے چلانے کی تائید کی۔ تاریخ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ قرونِ اولٰی کی نامور اور بلند کردار مسلمان جواتین نے صالح معاشرے کی تشکیل اور معاشرتی اقدار کے فروغ کے لیے قابل ذکر خدمات سرانجام دی ہیں۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا تربیت اولاد کے لیے اور حالات سے مایوس اور بھٹکی ہوئی خواتین کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا کسمپرسی
اور فقرو فاقہ کے ایام میں اولاد کی پرورش اور کردار سازی کرنا ایک بہترین نمونہ ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا احکام و مسائل اور دینی و علمی راہنمائی کے لیے ایک دانش گاہ اور مرکز علم و عرفان کی حیثیت رکهتی ہیں۔ ام الشہداءسیدہ خنسا رضی اللہ عنہا کی کوکھ سے جنم لینے والے نامور اور دلاور بیٹوں نے شجاعت و بسالت کی زریں داستان رقم کی ہے۔ سیدہ خولہ ازور رضی اللہ عنہا میدان کارزار میں سر پر عمامہ باندھے بہادری کے جوہر دکها کر مردانِ کارزار کو شرمندہ کر دیتی ہیں۔
تاریخ اسلام ایسے سنہرے واقعات اور زریں داستانوں سے بھری پڑی ہے جو قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے نشان راہ بن کر قوموں کے عروج اور تعمیر و ترقی کے لیے سمت اور راستے کا تعین کرتی ہیں۔۔۔۔۔
آج کے اس دور میں ہماری ماؤں بہنوں کو چاہیے وہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور سیرت صحابیات اور ان کی سیرت کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں نہ کہ مغرب کی اندھی تہذیب کی طرف جائیں۔
بقول اقبال
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.