شانِ پاکستان
تحریر :عبدالحفیظ شاہد،مخدوم پور پہوڑاں
قیامِ پاکستان کا خواب 14 اگست 1947 کو حقیقت بنا اور ہمیں آزادی ملی۔پاکستان بنا تو اس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون اور اس کی فضاؤں میں لا إلہ إلا اللہ کا نور شامل تھا۔ یہ مملکتِ خداداد اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر معرضِ وجود میں آئی۔عظیم اسلامی مملکت ، اسلامی جمہوریہ پاکستان محض ایک ملک نہیں بلکہ عشق ، محبت ، عظمت اور قربانی کی داستانوں کے ایک طویل سلسلے کانام ہے۔

لاکھوں خاندانوں نے اپنے آبا و اجداد کی قبریں، زمینیں، گھر، محلے، دکانیں، حتیٰ کہ اپنے پیارے تک قربان کر دیے۔ سکھوں کے قافلے، ہندو انتہاپسندوں کے ہجوم اور بے رحم فسادات نے مسلمانوں کی بستیاں اجاڑ ڈالیں ۔
جب 14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہواتو نہ بینک تھے، نہ اپنا مرکزی نظام، نہ افسران کی بھرمار، نہ صنعتیں، نہ زرعی نظام مستحکم، نہ ہی تعلیمی ڈھانچہ۔ مگر یہ قوم عزم سے مالا مال تھی۔

پہلی کامیابی تب ملی جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان 1948 میں قائم ہوا۔ یہ محض ایک ادارہ نہیں تھا، بلکہ خودمختاری کی جانب پہلا قدم تھا۔ پھر تعلیم کی طرف توجہ دی گئی۔ لاہور، کراچی، پشاور اور ڈھاکہ جیسے شہروں میں جامعات کا قیام عمل میں آیا۔

پاکستان کی افواج نے صرف دفاع کا فرض ہی نہیں نبھایا بلکہ ایک منظم، بہادر اور جذبہ ایمانی سے لبریز ادارہ بن کر دکھایا ۔ 1965 کی جنگ ہو یا کارگل کی جنگ یا پھر بنیان المرصوس کا موقع ہو ہر بار پاکستانی سپاہیوں نے وطن کی خاطر سینہ سپر ہو کر دنیا کو بتایا”ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔”

ایئر فورس کے ایم ایم عالم جیسے سپوت نے محض چند لمحوں میں پانچ بھارتی جہاز گرا کر عالمی تاریخ رقم کی۔ دشمن حیران رہ گیا کہ یہ چھوٹا سا ملک اتنی بڑی ہمت کہاں سے لایا؟
یہ ہمت، اس ماں کی دعا سے آئی جو بیٹے کو صبح اسکول ، مسجد، مدرسے بھیجتے وقت اصل میں میدان کے لیے تیار کر رہی ہوتی ہے ۔

1974 میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو دنیا کی نظریںپاکستان پر تھیں مگر پاکستانی سائنسدانوں، خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں اپنے آپ كو ایک بہادر اور غیرت مند ملک ثابت کردیا ۔

یہ صرف بم نہیں تھا، یہ ایک پیغام تھا کہ ہم امن چاہتے ہیں، مگر غلامی نہیں۔

ہاکی، اسکواش، سنوکر اور دیگر کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا کو حیران کیا۔ جہانگیر خان، جان شیر خان جیسے نام صرف کھلاڑی نہیں قوم کے ہیرو ہیں

پاکستانی ادب، شاعری، مصوری، موسیقی، فلم اور تھیٹر نے دنیا کو بتایا کہ یہ قوم نہ صرف بہادر ہے، بلکہ حساس اور تخلیقی بھی ہے۔
فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، عمیرہ احمد، مستنصر حسین تارڑ جیسے ادیبوں نے اپنے لفظوں سے قوم کو جگایا۔
نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، نور جہاں، عابدہ پروین جیسے فنکار صرف فنکار نہیں محبت کے امین ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں پاکستان نے تعلیمی میدان میں بھی غیر معمولی ترقی کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل، نیسپاک، پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان نیوکلیئر انرجی کمیشن جیسے ادارے قائم ہوئے۔

پاکستانی طلبا نے بیرون ملک اسکالرشپس حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انجینئرنگ، میڈیکل، سافٹ ویئر، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اسپیس سائنسز ہر میدان میں پاکستانی نوجوان ابھر رہے ہیں۔

نمل یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) جیسی جامعات عالمی سطح پر مقام بنا چکی ہیں۔

عبدالستار ایدھی، ایک ایسا نام ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ انھوں نے صرف ایک ایمبولینس سے آغاز کیا اور پوری دنیا میں سب سے بڑا فلاحی نیٹ ورک قائم کیا۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ، جس نے کوڑھ جیسے موذی مرض کا پاکستان سے خاتمہ کیا، وہ ایک غیر ملکی ہوتے ہوئے بھی پاکستانی بن گئیں۔ ایسے ہی بے شمار افراد، جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔

آج کا پاکستان مشکلات کے باوجود آگے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان ہاتھوں میں قلم، ٹیکنالوجی، ہنر اور حوصلہ لیے کھڑے ہیں۔

سی پیک جیسے منصوبے مستقبل کی اقتصادی ترقی کا اعلان ہیں۔بلوچستان، گلگت، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کے دور افتادہ علاقوں میں اسکول، ہسپتال، سڑکیں، اور انٹرنیٹ سہولیات کا قیام ہو رہا ہے۔

پاکستان کا اصل چہرہ وہ مزدور ہے جو صبح سویرے روزی کے لیے نکلتا ہے۔ وہ طالبعلم ہے جو موم بتی کی روشنی میں پڑھتا ہے۔ وہ ڈاکٹر ہے جو مفت کیمپ میں لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ وہ کسان ہے جو دھوپ میں جھلس کر بھی فصل کاٹتا ہے۔

یہ وطن ان سب کا ہے۔
یہ وطن اُن دعاؤں کا ہے جو ہر جمعے کو بوڑھی مائیں آسمان کی طرف اٹھاتی ہیں:
"یااللہ! میرے ملک کی حفاظت فرما۔”
ہمیں اب ماضی پر فخر کے ساتھ حال کی اصلاح کرنی ہے۔ نفرت، تعصب، کرپشن، جہالت اور مایوسی کے اندھیروں کو ختم کر کے ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جو قائداعظم کے وژن کا مظہر ہو۔ ہمیں صرف شکایت نہیں کرنی، کام کرنا ہے۔

ہمیں یہ سوال خود سے پوچھنا ہے:
"ہم پاکستان کو کیا دے رہے ہیں؟”
آئیے! آج پھر ہم وہی نعرہ لگائیں جو ہمارے آباؤ اجداد نے لگایا تھا،
“پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!”
اور اس نعرے کو صرف زبان تک محدود نہ رکھیں، اسے دل میں اُتاریں، کردار میں ڈھالیں اور عمل سے ثابت کریں۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اس کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھا رہے ہیں؟ کیا ہم اس کے اداروں، اس کی اقدار اور اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اجتماعی اور قومی فلاح کا سوچیں۔ ہمیں اپنی تمام تر ذہنی، جسمانی اور اخلاقی صلاحیتیں پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے وقف کرنی ہوں گی۔ ہر فرد اگر یہ عزم کر لے کہ وہ اپنے حصے کی شمع جلائے گا، تو اندھیروں کو روشنی میں بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

یاد رکھیں ہم ہی ہیں جو اسے سنوار سکتے ہیں۔ہمیں صرف خود پر یقین رکھنا ہے اور عمل کی راہ اختیار کرنی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلو ں میں خلوص، ہمارے . عمل میں سچائی اور ہمارے ارادوں میں پختگی عطا فرمائے۔ اور اس پاک سرزمین کو ہمیشہ سلامت، آباد اور محفوظ رکھے۔ آمین

Shares: