شانِ پاکستان،یہ مٹی بولتی ہے، میں پاکستان ہوں!
تحریر:عبداللہ عبدالرؤف
رات کے پچھلے پہر مینارِ پاکستان کے سائے تلے ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا، جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں اس وطن کی کتھا اور داستانوں کی گواہ تھیں۔ اس کے پتوں پر شبنم کی بوندیں وقت کی خامشی کو سمیٹے ساکت تھیں، اور اس کی چھاؤں میں بکھری ہوا میں ایک ایسی سرسراہٹ نظر آئی جو نہ صرف ماضی کی سرگوشی ہو بلکہ ضمیر کی گہرائیوں میں کوئی چھپی ہوئی صدا بیدار کرتی تھی۔ وہ صدا جو صدیوں کی مسافت طے کر کے آج کی صبح سے ہمکلام ہونے آئی ہو۔

’’میں نے اُن آنکھوں کو آنسوؤں سے تر دیکھا، جن کی پلکوں پر ہجرت کا درد اترا تھا۔ میں نے ان ہاتھوں کی لرزش کو محسوس کیا جو ماؤں نے اپنے بیٹوں کو ہجرت کی راہوں پر رخصت کرتے وقت سینے پر رکھے۔ میں نے وہ قافلے دیکھے جو سب کچھ لٹا کر نکلے تھے، ہاتھوں میں فقط قرآن، دلوں میں فقط یقین، اور زبانوں پر فقط ایک صدا لاالہ الا اللہ تھی۔ میں نے لٹے پٹے قافلوں کے وہ قدم گنے ہیں جو ایک ایسے دیس کی تلاش میں تھے جہاں ان کا خدا، ان کا دین، ان کی زبان اور ان کی عزت محفوظ ہو۔لیکن وہ لٹے قافلے جس شان سے آۓ تھے آج بھی وہ منظر آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا‘‘

قریب ہی ایک نوجوان خامشی سے بیٹھا اس درخت کی گفتگو سنتا رہا۔ اس کے چہرے پر سوالوں کی جھلک اور نظروں میں ایک بے چین تلاش تھی۔ اس نے آہستہ سے پوچھا: ’’بابا درخت! پاکستان کی شان کیا ہے؟ توپ و تفنگ؟ ایٹم بم؟ یا مینارِ پاکستان کی بلندیاں؟‘‘

درخت نے آسمان کی وسعتوں کی طرف دیکھا، جیسے کہکشاؤں میں گم شدہ صداقت کو تلاش کر رہا ہو۔ پھر گویا ہوا؛’’نہیں بیٹے، شان نہ سنگِ مرمر کی عمارتوں میں ہے اور نہ ہی عسکری طاقت کے مظاہر میں بلکہ شان ان بے آواز دعاؤں میں ہے جو رات کی تنہائی میں ماؤں کے لبوں سے نکلتی ہیں۔ شان ان کسانوں کے ہاتھوں میں ہے جو سورج کی آنکھ کھلنے سے پہلے زمین کو جگاتے ہیں۔ شان تو وہ استاتذہ ہیں جو بورڈ پر الف سے انقلابی فہم کی بنیاد رکھتے ہیں، اور ان سپاہیوں میں ہے جو چپ چاپ وطن کے سرد مورچوں پر جاگتے ہیں۔‘‘

’’شان ان خوابوں میں ہے جو حضرت اقبال نے قرطاسِ دل پر تراشے، ان نظریات میں ہے جو بابائے قوم نے اصولوں کی چھینی سے تراش کر قوم کے سامنے رکھے۔ شان اس درویش کی آہ میں ہے جو فاقہ زدہ ہو کر بھی اپنے ملک کے لیے عافیت مانگتا ہے۔ وہ بوڑھا شجر بولتا ہی چلا جا رہا تھا اور نوجوان بھی نا جانے کس سوچ میں گم ہو گیا۔ شان اس بچی کے روشن چہرے میں ہے جو اسکول کے پرچم کے نیچے قومی ترانے کے ہر لفظ کو امانت سمجھ کر گاتی ہے۔ شان ان راستوں میں ہے جو وادیِ گلگت کے گلوں سے لے کر مکران کے ساحلوں تک ایک ہی دھڑکن سے جڑے ہیں۔‘‘

درخت کی شاخیں جیسے دعا کی صورت آسمان کی طرف پھیل گئیں ’’یہ وہ سرزمین ہے جس کے ذرے ذرے میں شہیدان وفا کا خون بولتا ہے، جن کے کفن پر چاندنی نے چراغاں کیا، جن کے جنازے وطن کی مٹی نے گلے لگا کر سنوارے۔ مگر اے نسلِ نو! یہ سب فقط تذکرے نہیں، یہ ایک عہد ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک مسلسل چلنے والا سفر ہے۔‘‘

’’اب وقت بدل چکا ہے۔ یہ صدی آوازوں کی نہیں، اشاروں کی ہے۔ یہاں آنکھوں کو پڑھنا آتا ہے، مگر دلوں کی سچائی بھلا دی گئی ہے۔ بیٹے! دنیا ایک ڈیجیٹل دھارے میں بہتی جا رہی ہے، جہاں جذبات کو ایموجی، اور سچائی کو ترند سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یاد رکھنا، مشینیں نہ ضمیر رکھتی ہیں، نہ وفا اور نہ ہی درد کا شعور۔سو شان اُس نسل میں ہے جو ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنائے مگر انسانیت اس کی ڈھال ہو۔ جو ترقی کی دوڑ میں خودی نہ کھو بیٹھے، جو معلومات کے انبار میں حکمت کی شمع جلاتی چلی جائے۔‘‘

فضا میں گلابی روشنی پھیلنے لگی، جیسے افق کی چھاؤں میں سحر کی کوئی کرن ہاتھ پھیلائے کھڑی ہو۔ مینار کی پیشانی پر سورج کی پہلی کرن پڑی تو ایسا محسوس ہوا جیسے پوری کائنات یہ اعلان کر رہی ہو: پاکستان کی شان ان دلوں میں ہے جو وفا میں سچے، عمل میں پختہ، اور خوابوں میں بے خوف ہیں۔

نوجوان نے آنکھوں میں عزم کا نور لیے درخت کی طرف دیکھا، لبوں پر سکون تھا، مگر آواز میں بجلی سی تیزی اور بے ساختہ بولا اے شجرِ سایہ دار ،اے حقیقت پسند میں عہد کرتا ہوں کہ’’میں نفرت کا سوداگر نہیں، محبت کا امین بنوں گا۔ میں اپنے حرفوں کو تیر نہیں، مرہم بناؤں گا۔ میں خامشی کے اس بازار میں صداقت کی آواز بنوں گا۔ میں چوراہوں پر چیخنے والے مجمع کا نہیں، بیدار شعور کا نمائندہ بنوں گا۔‘‘

درخت کی شاخیں جیسے چھاؤں کی چادر میں لپٹ کر اس کے سر پر سایہ فگن ہوئیں۔ وہ گویا ہوا: ’’بس یہی ہے اصل شان کہ تم فقط ایک فرد نہیں، بلکہ ایک فکری کارواں ہو۔ تم وہ دلیل ہو جس سے یہ وطن اپنے وجود کی گواہی دیتا ہے، تم وہ روشنی ہو جس سے اندھیرے لرزتے ہیں۔ تمہاری سوچ ہی پاکستان کا مستقبل ہے، اور تمہاری جرأت ہی اس کی بقا کی ضامن ہے۔‘‘

اور ہاں! اس وطن کی شان وہ لکھاری بھی ہیں جو حروف میں طوفان باندھ دیتے ہیں۔ جو تخت کو بھی سوال کے کٹہرے میں لاتے ہیں، اور محراب کو بھی خواب کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ جو لفظوں سے چراغ جلاتے ہیں، اور جن کی سوچ صرف تحریر نہیں، تحریک ہوتی ہے۔ ان کے قلم کی سیاہی سے تاریخ رقم ہوتی ہے، اور قومیں سانس لیتی ہیں۔

یہی وہ خاک ہے، جس پر چلنے والے ان دیکھے راستوں کے مسافر ہوتے ہیں۔ یہ وطن فقط سرحدوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری تمدن ہے، ایک روحانی رشتہ ہے، ایک تاریخی کربلا کے بعد ملنے والا ابدی انعام ہے۔ یہ وہ آسمان ہے، جہاں ہر ستارہ ایک خواب کی نمائندگی کرتا ہے، اور ہر خواب ایک نئی صبح کی بشارت ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں مٹتی ہیں جو آوازوں سے خالی ہو جائیں، اور وہ بستیاں مر جاتی ہیں جہاں ضمیر سستا ہو۔ مگر پاکستان کی شان اُن سینوں میں دھڑکتی ہے جو مصلحت کے اندھیرے میں بھی سچ کا پرچم اٹھائے رکھتے ہیں۔ یہ ملک اُن قدموں کی گونج ہے جو سڑکوں پر نہیں، نظریات کی راہوں پر چلتے ہیں۔ یہاں افتخار توپوں کی گرج میں نہیں، ایک طالبعلم کی کتاب میں چھپی بصیرت میں ہے۔ یہاں وفا کوئی نعرہ نہیں، ایک طرزِ زیست ہے۔ یہ شان نہ تاج میں ہے، نہ تخت میں بلکہ یہ تو اس لمحے میں ہے جب کوئی نوجوان اپنی انا کو قربان کر کے قوم کے لیے جھک جاتا ہے اور اپنا پرچم سر بلند کرتا ہے۔

یہی ہے پاکستان، اور یہی ہے شانِ پاکستان!

Shares: