شانِ پاکستان
تحریر: فاطمہ افضال
میں نے سنا ہے کچھ مٹیوں میں خدا کی خاص خوشبو ہوتی ہے…
کچھ زمینیں صرف زمین نہیں ہوتیں، وہ دعاؤں کی قبولیت گاہ ہوتی ہیں…
اور کچھ پرچم صرف کپڑا نہیں ہوتے، وہ کلمے کی حرمت کا سایہ ہوتے ہیں۔
ایسی ہی ایک زمین ہے — پاکستان!

یہ وطن ایک معجزہ ہے۔ ایک ایسی روشنی، جس نے ظلمتوں کے سمندر میں چراغ جلایا۔ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، یہ ایک نظریہ، ایک ایمان، ایک دعا ہے جو صدیوں کی سجدہ گاہوں سے اُٹھی اور رب کے “کن” سے حقیقت بنی۔ یہ سرزمین صرف مسلمانوں کا خواب نہیں تھی، یہ ایک عہد تھا — “لا الہ الا اللہ” کے نام پر جینے اور مرنے کا عہد۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا:
“ہم نے پاکستان زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کے لیے حاصل کیا ہے۔”

یہی ہماری اساس ہے۔ اور جب کوئی قوم اپنی اساس کو بھول جائے تو وہ بکھر جاتی ہے، مگر پاکستان نے ہر کٹھن امتحان میں خود کو زندہ اور باوقار قوم کے طور پر ثابت کیا۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ”
(اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کرے گا)
یہی ایمان تھا جس نے ہمیں دشمنوں کے حصار میں بھی سربلند رکھا۔ جنگِ آزادی، 65 کی جنگ، کارگل، دہشت گردی، زلزلے، سیلاب — کوئی مصیبت ہمیں مٹا نہ سکی۔ اس قوم نے اپنے شہداء کے لہو سے آزادی کو سینچا، اپنی غیرت سے سرحدوں کو محفوظ کیا، اور اپنی قربانیوں سے دنیا کو حیران کر دیا۔

پاکستان کی شان صرف اس کی آزادی نہیں، بلکہ اس کی وفا، قربانی اور خواب ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ماں نے بیٹے کو وطن پر قربان کیا تو فخر کے آنسو بہائے، جہاں بیٹی نے شہید باپ کی وردی کو سینے سے لگا کر صبر کی چادر اوڑھی۔

یہ وہ زمین ہے جہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ نے ایٹمی طاقت بنا کر دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا، جہاں عبدالستار ایدھیؒ نے بے سہارا انسانیت کو ماں کی طرح گود دی، جہاں ارفع کریم نے کم عمری میں پاکستان کا نام دنیا کے نقشے پر روشن کر دیا۔

یہ ہے شانِ پاکستان — غیرت، علم، قربانی، ہنر اور وفا کا امتزاج۔
آج اگرچہ ہمارے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں، لیکن یہ قوم پہاڑ کی طرح مضبوط ہے۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں آئی ٹی، سائنس، طب، کھیل اور کاروبار میں پاکستان کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ وہ ثابت کر رہے ہیں کہ وسائل سے زیادہ اہم عزم ہوتا ہے، اور ہمت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

اقبالؒ نے کہا:
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

اگر ہم اپنے بچوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار دیں، اپنی معیشت میں صرف ترقی نہیں بلکہ انصاف پیدا کریں، اپنے رویّوں میں صرف دعویٰ نہیں بلکہ اخلاص پیدا کریں، تو کوئی طاقت ہمیں دنیا کی قیادت کرنے سے روک نہیں سکتی۔
رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
“حب الوطن من الایمان”
(وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے)

لہٰذا ہمیں اس وطن سے محبت کو صرف نعرے تک محدود نہیں رکھنا بلکہ عمل، قربانی اور بہتری کی مسلسل کوشش میں ڈھالنا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں انصاف طاقت سے بالاتر ہو، جہاں ہر مذہب اور ہر شخص کی عزت محفوظ ہو، جہاں عورت کو مقام ملے اور بچہ علم کے نور سے مالا مال ہو۔

آج کا پاکستان صرف ماضی کی قربانیوں کا امین نہیں بلکہ مستقبل کی اُمیدوں کا مرکز ہے۔ “ڈیجیٹل پاکستان” کا خواب، ٹیکنالوجی میں ترقی، نوجوانوں کی عالمی کامیابیاں، اور کھیل کے میدانوں میں فتح — یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان کا سفر آگے کی طرف ہے۔

یہ وطن ہم سب کے لیے ایک تحفہ، ایک امانت، ایک اعتماد ہے۔ اس کی حفاظت اور ترقی ہم سب کا فرض ہے۔

اور آخر میں…
جب سبز ہلالی پرچم آسمان میں لہراتا ہے تو دل کی گہرائیوں سے آواز آتی ہے:

یہ وطن ہمارا ہے…
یہ خوابوں کا نہیں، شہیدوں کا صدقہ ہے،
یہ دعاؤں کا نہیں، سجدوں کا انعام ہے،
یہ ہماری پہچان ہے… ہماری آخری امید ہے۔

دعا:
یا اللہ! اس وطن کی حفاظت فرما،
اسے عدل، علم اور امن کا گہوارہ بنا،
اور ہمیں اس کی سچی خدمت کی توفیق عطا فرما۔
آمین

پاکستان زندہ باد

Shares: