شانِ پاکستان
تحریر: محمد نوید عزیز ،لالہ موسی ضلع گجرات
"پاکستان زندہ باد!” یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جذبہ، ایک عقیدہ، ایک امید ہے۔ یہ ایک ایسی سرزمین کی پہچان ہے جو قربانیوں کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ "شانِ پاکستان” کیا ہے؟ تو میرا دل بے ساختہ کہے گا، "یہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی ہیں، وہ محنتی کسان ہیں، وہ مائیں ہیں جو شہیدوں کو جنم دیتی ہیں، وہ بچے ہیں جو کتابیں سینے سے لگا کر خواب دیکھتے ہیں، اور وہ سائنسدان ہیں جو ستاروں سے آگے سوچتے ہیں۔”

14 اگست 1947 کو جب دنیا سو رہی تھی، ایک قوم جاگ رہی تھی۔ رات کے اندھیرے میں ایک نئی صبح نے جنم لیا۔ یہ صبح صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی فتح تھی۔ پاکستان کا قیام اس وقت ممکن ہوا جب لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے، اس خاک کے لیے خون بہایا۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمیں ایک ایسا وطن ملا، جہاں مسلمان آزاد ہو کر اپنے دین، ثقافت اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ آزادی ہی ہماری شان ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو۔

اگر ہم جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں، تو پاکستان ایک جنت نظیر ملک ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں نیلگوں سمندر، مشرق میں زرخیز میدان اور مغرب میں پرشکوہ پہاڑ۔ یہ سرزمین ہر موسم، ہر منظر، اور ہر رنگ کا حسین امتزاج ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوات کی وادیوں میں بہتے چشموں کی موسیقی سنی ہے؟ کیا آپ نے سندھ کے تھر میں صحرا کے سینے پر اگتے پھول دیکھے ہیں؟ کیا آپ نے بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپی خاموشی کو محسوس کیا ہے؟ یا پنجاب کے کھیتوں میں جھومتی فصلوں کی مہک کو سونگھا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ نے "شانِ پاکستان” کا ایک اہم پہلو ابھی نہیں جانا۔

پاک فوج، رینجرز، فضائیہ اور بحریہ کے وہ بہادر جوان، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک کا دفاع کیا — یہی تو ہیں اصل شانِ پاکستان۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو ہمارے جانباز ہمیشہ آگے بڑھے۔

آج جب ہم پرامن راتیں سوتے ہیں، تو یہ انہی محافظوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وطن کے یہ سپوت ہر مشکل وقت میں سرحدوں پر سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ ان کی جرأت، ہمت، اور قربانی، پاکستان کی شان ہے۔

شانِ پاکستان صرف ماضی کی عظمتوں میں نہیں چھپی بلکہ ہمارے آج کے نوجوانوں میں زندہ ہے۔ ارفع کریم، ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عظیم افراد نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان صرف ایک ترقی پذیر ملک نہیں، بلکہ ایک باصلاحیت قوم ہے جو اگر موقع ملے تو دنیا کو بدل سکتی ہے۔

پاکستان کے طلبہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ نوجوان موبائل ایپلی کیشنز، سافٹ ویئر، اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان ہی مستقبل کی امید ہیں اور یہ امید ہی ہماری شان ہے۔

پاکستان ایک کثیرالثقافتی ملک ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، اور ہزارہ وال ثقافتوں کا امتزاج، ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو پوری دنیا میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

چاہے وہ سندھ کی اجرک ہو یا پنجاب کی پگ، بلوچستان کی چادر ہو یا خیبر پختونخوا کی چترالی ٹوپی۔ ہر علاقہ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، اور یہی تنوع ہماری اصل طاقت ہے۔

ہمارے لوک گیت، قوالیاں، صوفی شاعری، اور ادب دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، بانو قدسیہ، اور عمیرہ احمد جیسے ادیبوں نے "شانِ پاکستان” کو لفظوں میں ڈھالا۔

کبھی قدرتی آفات آئیں، کبھی دہشت گردی کا سامنا ہوا، پاکستان نے ہر بار کمر باندھی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کے سیلاب، پوری قوم نے جس اتحاد و بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، وہ شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہے۔

ہم نے اندھیرے دیکھے، دہشتگردی کے سائے سہے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم نے لاشیں اٹھائیں لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ ہم نے اپنے بچوں کو شہید ہوتے دیکھا، مگر دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

یہی جذبہ، یہی غیرت، یہی وفا ۔ ہماری اصل شان ہے۔

اب ہمیں صرف ماضی پر فخر نہیں کرنا، بلکہ مستقبل سنوارنا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے، ہر بیٹی محفوظ ہو، ہر مزدور کو حق ملے، ہر مریض کو علاج میسر ہو، اور ہر شہری کو انصاف حاصل ہو۔

ہمیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانی ہے، ناانصافیوں کو ختم کرنا ہے، اور وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے۔ یہی نئے پاکستان کا خواب ہے، اور یہی خواب ہماری شان بن سکتا ہے۔

"شانِ پاکستان” کوئی ایک واقعہ، ایک انسان، یا ایک جگہ نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے، جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔ جب ہم قومی ترانہ سنتے ہیں، جب ہم پرچم کو لہراتا دیکھتے ہیں، جب ہم عالمی مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کو فتح حاصل کرتے دیکھتے ہیں — تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔

آئیے! ہم سب مل کر وعدہ کریں کہ ہم اپنے وطن کو دل و جان سے چاہیں گے، اس کی خدمت کریں گے، اور اپنی نسلوں کو "شانِ پاکستان” کا مطلب سکھائیں گے۔

پاکستان زندہ باد!

Shares: