شانِ پاکستان
تحریر: ردا آرزو ، ڈیرہ اسماعیل خان
14 اگست سن 1947ء کو وجودیت کے پیرائے میں ڈھلنے والی ریاستِ خداداد اسلامی جمہوریہء پاکستان تاریخی، جغرافیائی، تہذیبی، ثقافتی، اور دفاعی لحاظ سے ایک منفرد عظمت اور شان کی حامل ریاست ہے۔
اس کی تاریخ یوں منفرد ہے کہ یہ کوئی وراثتی ریاست نہیں، بلکہ ہمارے آباء واجداد کی انتھک محنت اور بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کوئی حادثاتی طور پر وجود میں آنے والا ملک نہیں، بلکہ اس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا لہو شامل ہے اور اس کے قیام کی یہ تاریخ اس کی انفرادی شان اور بین الاقوامی پہچان کا سب سے معتبر حوالہ ہے۔
صدیوں سے ذہنی و فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑے برصغیر کے مسلمان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ جہاں اُنہیں مذہبی آزادی حاصل تھی نہ ہی معاشرتی حقوق۔ ایسے میں شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اُن کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا خواب دیکھا، جسے بعدازاں قائدِ اعظم محمد علی جناح اور دیگر مسلمان رہنماؤں کی انتھک محنت اور جہدِ مسلسل نے شرمندہء تعبیر کر دکھایا۔
وہ مسلمان جو برصغیر میں بے نام و نشان زندگی گزارنے پر مجبور تھے، جب متحد ہوئے تو اس شان سے ابھرے کہ تاجِ برطانیہ سے اپنے لیے ایک علیحدہ خطّہء ارض حاصل کر کے پوری دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی قوم متحد ہو کر کسی مقصد کے لیے جدوجہد کرے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت اپنا مقصد پانے سے روک نہیں سکتی۔
جغرافیائی حیثیت:
جغرافیائی لحاظ سے یہ ایک انتہائی اہم خطے میں واقع ہے۔ یہ ناصرف براعظم ایشیا کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی سرحدیں پانچ ممالک سے ملتی ہیں۔ یہ محلِ وقوع پاکستان کو براعظم ایشیا کے دل میں ایک "پل” (bridge) کی حیثیت دیتا ہے اور اسے تجارتی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان قدرتی حسن اور وسائل سے بھی مالامال ہے۔ یہاں دنیا کی حسین ترین وادیاں، جھیلیں، خوبصورت ترین پہاڑی سلسلے، وسیع و عریض صحرا اور گلیشئرز وغیرہ موجود ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
ایٹمی طاقت:
28 مئی سن 1998ء میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں پاکستان نے چاغی (بلوچستان) کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا۔ یہ پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا اور اس کی یہ ایٹمی صلاحیت ناصرف پاکستانی قوم کے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے تحفظ کی علامت بن گئی۔ یہ اعزاز 57 اسلامی ممالک میں صرف پاکستان کے حصے میں آیا۔
اس ایٹمی صلاحیت کی بدولت امریکہ جیسی سوپر پاورز
کثیر ثقافتی ریاست:
ہمارا پاکستان ایک کثیر ثقافتی ریاست ہے۔ یہاں مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں مختلف خطوں میں مختلف زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ہر علاقے کی اپنی ایک منفرد تہذیب اور ثقافت ہے۔ رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن اس سب کے باوجود تمام پاکستانی آپس میں اتفاق اور اتحاد سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ کیونکہ سب پاکستانی ہیں اور پاکستان ہی وہ کڑی ہے جو مختلف قوم، رنگ، مذہب اور نسل سے تعلق رکھنے والوں کو آپس میں اتحاد کے رشتے میں جوڑتا ہے۔
کھیلوں کا میدان:
علم و فن میں ترقی کے ساتھ ساتھ پاکستان کھیلوں کے میدان میں بھی انفرادی مقام رکھتا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور اسکواش جیسے کھیلوں میں پاکستان کے نامور کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ کھیلوں کی مصنوعات میں بھی ہمارا پاکستان دنیا بھر میں ایک انفرادی پہچان رکھتا ہے۔ یہاں سیالکوٹ میں بننے والا کھیلوں کا سامان مثلاً فٹ بال، ہاکی، بلّے اور گیند وغیرہ اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں استعمال ہوتی ہیں، جو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔
افواجِ پاکستان:
امن ہو یا جنگ، دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہو یا قدرتی آفات جیسا کہ سیلاب اور زلزلے کی مشکلات سے نمٹنا ہو، ہماری افواج ہر محاذ پر صفِ اوّل میں وطن کی حفاظت اور خدمت کے فرائض سرانجام دیتی نظر آتی ہیں۔
حالیہ پاک بھارت جھڑپ (جسے بنیان المرصوص کا نام دیا گیا) میں ہماری افواج نے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر پوری دنیا کے سامنے ایک بار پھر اپنی اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور آئندہ کے لیے دشمن کو خبردار کر دیا کہ ہم اپنے پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔
حقیقی شان:
پاکستان کی اصل شان پاکستان کی وہ غیور عوام ہے، جو کبھی اعتزاز حسن کی شکل محض پندرہ سال کی عمر میں قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر عظمت کی اُس بلندی پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنے سکول کے کم و بیش دو ہزار بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی موت کو خوشی خوشی گلے لگا لیتا ہے۔
کہیں وہ ولید خان کی شکل میں چہرے اور گردن پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ بچ جاتا ہے اور اُن گولیوں کے نتیجے میں اپنے چہرے اور بننے والے نشانات کو اپنی بہادری کا میڈل قرار دیتا ہے۔
فہرست طویل ہے، لیکن دامنِ تحریر مختصر ہے۔
پس قصہ مختصر، کہ وہ پاکستان جو سن 1947ء میں ایک ناتواں اور لاغر ریاست تھا، جس کا وجود قائم رہنا ہی اقوامِ عالم کے نزدیک ناممکن تھا، جس کے اِدارے، صنعتیں اور معیشت اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھے، وہی پاکستان اپنے قیام کے چند سال بعد اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوا اور پھر دنیا بھر میں اپنی ایک انفرادی پہچان قائم کرنے اور اُسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا نظر آیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اپنی اس جدوجہد میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور مزید ترقی کی منزلیں زینہ بہ زینہ طے کرتا نظر آ رہا ہے۔
آج پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ، یہاں تک کہ اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانے کے لیے کوشاں ہے۔
قائدِ اعظم کے فرمان کے مطابق ایمان، اتحاد اور تنظیم ہی اس ملک کی کامیابی اور ترقی کی ضمانت ہیں۔ یہ ہم سب کی قومی ذمے داری ہے کہ ہم اپنے وطن کی حفاظت اور ترقی کی خاطر اس اصول کو اپنی زندگیوں کا محور بنائیں اور اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔