شان پاکستان
تحریر: ردا فاطمہ اعوان گوجرنوالہ
ہر طرف ہے روشنی، چمکتا ہے آسمان
یہ وطن ہمارا ہے، یہی ہے شانِ پاکستان”

پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا: "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ”
یہ ملک آزاد زندگی گزارنے کے لیے حاصل کیا گیا۔پاکستان کی شان تو اس کے وجود میں ہے، اس کی بقا میں ہے، اس کی ترقی میں ہے۔ یہ ملک ہمارے بزرگوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کی شان اس کی نوجوان نسل میں ہے جو ملک کے مستقبل کی امید ہیں۔ پاکستان کی شان اس کی فوج میں ہے جو ہمیشہ بنا دن رات کا تعین کیے دشمنوں کو چار شانے چت کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔

زراعت، پانی اور جنگلات کی فراوانی سب پاکستان کی شان کا حصہ ہیں۔

قومی ہیرو:
قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، سر سید احمد خان، اور لیاقت علی خان، ڈاکٹر عبد القدیر خان ہمارے قومی ہیرو ہیں۔

ثقافت:
پاکستان کا ثقافتی نظام قدیم جو چاروں صوبوں کی قومیتوں، زبانوں، مذہبی روایات اور تاریخی ورثے پر مشتمل ہے۔ یہ بھی تو پاکستان کی شان ہے کہ یہاں بزرگوں کا احترام، مہمان نوازی اور شرم و حیا کا نظام راج ہے۔

قدرتی حسن:
پاکستان کے شمالی علاقہ جات قدرتی حسن سے مالا مال ہیں۔ یہاں کے دلکش پہاڑ، ندیاں، جھیلیں، گلشیرز اور سرسبز وادیاں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ وادی سوات کو پاکستان کا منی سوئزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔

عوام پاکستان:
پاکستان کی عوام باہمت، محنتی، مہمان نواز اور غیرت مند ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، پاکستانی عوام ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے، اپنے ملک سے محبت ہر پاکستانی اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر نبھاتے ہیں۔

ایٹمی طاقت:
پاکستان نے عالمی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود خفیہ طریقے سے ایٹم بنایا۔ یہ پہلا اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کی ایٹمی طاقت اس کی خودمختاری کی ضمانت ہے۔

صنعت و زراعت:
پاکستان کی زرخیز زمینیں دنیا کے بہترین زرعی خطوں میں شامل ہیں۔ یہاں کپاس، گندم، چاول، آم، کینو اور دیگر فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سیالکوٹ کا سرجیکل اور اسپورٹس سامان پوری دنیا میں برآمد ہوتا ہے۔

عالمی سطح پر مقام:
پاکستان اقوامِ متحدہ، OIC، اور دیگر عالمی تنظیموں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کھیلوں میں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال میں عالمی کامیابیاں بھی پاکستان کی شان ہیں۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

شانِ پاکستان صرف ماضی کی قربانیوں، عظمتوں نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے کہ ہم اپنے ملک کا نام مزید بلند کریں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ ہم ایک پُرامن اور عظیم قوم ہیں۔

"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”

Shares: