شانِ پاکستان
تحریر: زاہدہ کاظمی
پاکستان، جس سرزمین پر ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، یہ محض ایک ملک نہیں، بلکہ لاکھوں قربانیوں اور اذیت بھری داستانوں کا اجالا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس دھرتی کے حصول کے لیے خون کا دریا عبور کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں جانیں وطن کی بنیادوں میں دفن ہیں، ماؤں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، بہنوں نے اپنے سہاگ وطن پر نچھاور کیے، اور نوجوان اپنی جانیں ہنستے ہوئے وطن پر وار گئے۔
اس ملک کی عظمت اس لیے نہیں کہ یہاں وسیع و عریض زمینیں، سرسبز وادیاں، جھیلیں اور دریا ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہاں کا ہر ذرہ شہداء کے خون سے رنگین ہے۔ یہاں کا پرچم ان عظیم قربانیوں کا امین ہے۔ پاکستان کی سرحدوں پر آج بھی ہمارے سپوت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جن کی جرات، حب الوطنی اور وفاداری ہی شانِ پاکستان ہے۔
شہادت ایک ایسا مقام ہے جسے سعادت اور عظمت کا درجہ حاصل ہے۔ ہمارے شہداء کی آنکھوں میں وطن کی محبت، دل میں ایمان کی روشنی اور قدموں میں عزم کی مضبوطی ہوتی ہے۔ ان کا سرزمینِ پاکستان سے رشتہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی لالچ یا شہرت کے خود کو قربان کر دیتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔
ایک شہید کا جنازہ صرف ایک گھر کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے فخر اور عزم کی علامت بن جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں، انہیں احترام دیں اور ان کے اہلِ خانہ کی عزت کریں۔ شہداء کی بدولت ہی پاکستان ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔
14 اگست وہ دن ہے جب ظلمت چھٹی، غلامی کا خاتمہ ہوا، اور ایک روشن صبح کا سورج اُفق پر چمکا۔ یہی وہ دن ہے جب دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست، پاکستان، نمودار ہوئی—ایسی ریاست جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی امیدوں، قربانیوں اور دعاؤں کا ثمر تھی۔ یہ دن جشنِ آزادی کا ہی نہیں، بلکہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔
پاکستان کا قیام کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت، علامہ اقبالؒ کے خواب اور برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں نے اس معجزے کو ممکن بنایا۔ پاکستان ایک نظریے پر قائم ہوا:
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ
پاکستان کی فوج، ایئر فورس، نیوی اور دیگر دفاعی ادارے دنیا بھر میں اپنی بہادری، نظم و ضبط اور حب الوطنی کی مثال ہیں۔ 1965ء کی جنگ ہو، 1998ء کے ایٹمی تجربات ہوں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ—ہماری بہادر افواج نے ہر موقع پر ملک کی شان اور خودداری کو بلند رکھا۔ پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہے، جو ہمارے وقار اور دفاع کی علامت ہے۔
پاکستان کئی زبانوں، ثقافتوں اور رنگوں کا حسین گلدستہ ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور اردو—یہ سب پاکستان کی تہذیبی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔ ادب میں اقبال، فیض، منٹو اور پروین شاکر نے ایسے شاہکار تخلیق کیے جو دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں۔ فلم، موسیقی، ڈرامہ اور خطاطی میں پاکستان کی منفرد پہچان ہے۔
کھیلوں میں بھی پاکستان کا نام روشن ہے۔ 1992ء کا کرکٹ ورلڈ کپ، اسکواش میں جہانگیر خان کی فتوحات، ہاکی کے عالمی کپ—یہ سب پاکستان کے عزم اور صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ آج بھی پاکستانی نوجوان کھیلوں میں اپنے جوش و جذبے سے دنیا کو حیران کر رہے ہیں۔
عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ، انصار برنی اور دیگر فلاحی کارکنان نے پاکستان کو انسانیت کی خدمت میں نمایاں مقام دلایا۔ قدرتی آفات یا کسی بھی مشکل وقت میں پوری قوم ایک ہو کر مدد کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل شان ہے۔
آج جب ہم 14 اگست کو جھنڈے لہراتے اور چراغاں کرتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری اصل شان صرف ماضی کی کامیابیاں نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کو کرپشن، ناانصافی، غربت اور بدامنی سے پاک کرنا ہے۔ تعلیم، عدل، رواداری اور ترقی کو اپنا مقصد بنانا ہے۔
شانِ پاکستان سرحدوں، ہتھیاروں یا صرف تاریخ کے کارناموں میں نہیں—بلکہ ہر اُس پاکستانی کے دل میں ہے جو دیانت، قربانی اور وفاداری سے جیتا ہے۔ اگر ہم سب اپنا کردار ایمانداری سے ادا کریں، تو کوئی طاقت پاکستان کو جھکا نہیں سکتی۔
پاکستان زندہ باد!