یہ تو سفر خون ہے – جویریہ بتول

یہ تو سفرِ خون ہے…!!!
✍🏻:جویریہ بتول
حقیقت ہے اک کھلی ہوئی یہ تو سفرِ خون ہے…
ہمت کی یہ بازی ہے… یہ جذبۂ جنون ہے…
رِستا ہوا ہر اِک زخم مرہم اب مانگے گا…
طلوعِ صبحِ آزادی اب اِسی کی مرہون ہے…
گرم جواں لہو سے جو سینچتے ہیں وہ لالہ زار…
انہی کی جرأتوں کا لکھا ہوا ہر سو مضمون ہے…
ماؤں نے لعل گنوائے،لُٹا دیے ہیں سہارے سب…
گُل رنگ گلشن میں کوئی فاختہ نہ مامون ہے…
کاغذ،قلم اور کتاب پر بھی جہاں پہرے ہیں…
حقِ رائے آزادی پر لگا طویل لاک ڈاؤن ہے…
ان نہتے سنگ بازوں کے فلک بوس عزائم سے…
سہما ہوا انجام اپنے سے وقت کا فرعون ہے…
اُس قوم کے بچے بچے پر حاوی یہ گہرا عزم ہے…
ہم لے کر رہیں گے آزادی،یہ نعرہ جن کا سکون ہے…
بُجھ جائے گا وہ چراغ کیوں کر ظلمتِ شب میں…
جس کی لُو کو ملا خونِ جگر کا ستون ہے…
صدیوں کے جاری سفر پر حوصلوں کا سہرا ہے…
ظلمتوں کی تہہ میں وہ طلوعِ سَحر مدفون ہے…!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.