یوم تکبیر، یومِ عید ۔۔۔ عبدالحمید صادق

28 مئی  یوم تکبیر ہماری شان ، عظمت، وقار اور قومی تاریخ کا اہم ترین دن ہے.
مسلم امہ کی تاریخ کا یہ وہ یادگار دن ہے کہ جب پاکستان نے عالم کفر کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر دنیا کو اسبات کا پیغام دیا کہ ہم سوئے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لئے زندہ و بیدار گھڑے ہیں.
ایٹمی دھماکے ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان کے گلی کوچے "نعرہ تکبیر اللہ اکبر” کی صداؤں سے گونج رہے تھے.

اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا

جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں

بھارت نے ہمیشہ کی طرح اپنے آپ کو خطے کا ٹھیکیدار سمجھتے ہوئے 11 مئی 1998 کو راجستھان کے صحرا پوکھران میں 5 ایٹمی دھماکے کر کے خطے امن کو داؤ پرلگا دیا.
امریکہ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان پر زبردست پریشر ڈالا گیا کہ پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرے، اس دوران دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ شاید پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا سامان موجود نہیں اس لیے بھارت کو کوئی کوئی جواب نہیں دیا گیا. حتیٰ کہ اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ بات کہی کہ ” پاکستان کی کھوکھلی دھمکیاں دنیا کے سامنے آ چکی ہیں، پاکستان کے پاس نہ ایٹم بم موجود ہے اور نہ ہی یہ دھماکے کر سکتا ہے” دوسری جانب پاکستان کی سیاسی قیادت بھی زبردست عالمی پریشر میں تھی کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو امریکہ سمیت دنیا بھر کی جانب سے پابندیاں لگا دی جائیں گی.
عالم کفر کی پابندیوں، دھمکیوں، سازشوں اور لالچ کو پس پشت ڈالتے ہوئے افواج پاکستان نے 28 مئی 1998 کو دن 3 بج کر 16 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی کے سیاہ و سنگلاخ پہاڑوں میں 5 زبردست ایٹمی دھماکے کر کے اسلام و پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا.
قوموں کی تاریخ میں ایسے یادگار لمحات ضرور آتے ہیں کہ جب کوئی ایک درست فیصلہ بھی بروقت کر دیا جائے تو اس قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے. ایسا ہی کچھ ییادگار وقت پاکستان کی تاریخ میں 28 مئی 1998 کا آیا تھا جب پاکستان نے بروقت جرات مندانہ فیصلہ کر کے ایک ایسا معجزہ کر دکھایا کہ دنیا کو حیران و ششدر کر کے رکھ دیا.
یہی وہ یادگار وقت تھا کہ جب پاکستان کے دشمنوں میں صفماتم بچھی ہوئی تھی اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں مٹھایاں تقسیم کی جا رہی تھیں.
ادھر امریکہ کی جانب سے پاکستان پر پابندی لگا دی گئی تھی اور ادھر سعودی عرب نے کسی کی پرواہ کیے بغیر پاکستان کو انعام کے طور پر 50 ہزار بیرل مفت تیل دینے کا اعلان کر دیا.
ایک طرف تو امریکہ، بھارت سمیت دنیا بھر کے کافروں پر سکتہ طاری تھا اور دوسری جانب فلسطین، شام، سعودی عرب، مصر، شام اور ترکی سمیت تمام مسلم مالک میں مرد، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے دلوں میں عید کی سی خوشی تھی اور اس بات پر مٹھایاں بانٹے پھر رہے تھے کہ آج ہم (مسلمان) ایٹمی پاور بن چکے ہیں.
یہی وہ لمحات تھے کہ جب پاکستان مسلم دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہونے کا درجہ حاصل کر چکا تھا.
پاکستان کے ایٹم بم کو دنیا اسلامی بم کے ان سے جانتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی مسلم اُمّہ کہ امیدوں کا محور و مرکز ہے.
ہمارے دشمن کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان ایک تر نوالہ ہے جسے جب چاہیں ہضم کر جائیں، عوام پاکستان جذبہ ایمانی سے سرشار اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ

بتا دواہل باطل کو کہ حق کا نام زندہ ہے
ابھی وہ دین قائم ہے، ابھی اسلام زندہ ہے

28 مئی کے اس عظیم کارنامے کا کریڈٹ افواج پاکستان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک اور ان کے سینکڑوں شاگرد سائنسدانوں کو جاتا ہے کہ جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر وطن کا دفاع مضبوط کیا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.