اسلام آباد: نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کو نفسیاتی طور پر مکمل طور پر صحت مند قرار دے دیا گیا ہے۔ نفسیاتی اور نیورولوجیکل معائنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ظاہر جعفر میں کوئی نیورولوجیکل کمزوری یا ذہنی بیماری نہیں پائی گئی اور اس کے رویے میں دماغی خرابی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
یہ تفصیل اس وقت سامنے آئی جب ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کے لیے کی جانے والی درخواست پر رپورٹ جاری کی گئی، جس میں واضح کیا گیا کہ مجرم کا دماغی اور نفسیاتی جائزہ مکمل طور پر مثبت آیا ہے اور اسے نفسیاتی طور پر کوئی مسئلہ لاحق نہیں۔
قبل ازیں نور مقدم قتل کیس میں سزاۓ موت پانے والے ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کردی ہے۔ اپیل میں ظاہر جعفر کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ملزم کی ذہنی حالت کا مکمل جائزہ لیا جائے کیونکہ ٹرائل کے دوران پیش کی گئی ویڈیوز کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا اور عدالت نے اس حوالے سے کوئی مناسب فیصلہ نہیں دیا۔وکیل کے مطابق مقدمے کے فیصلے میں جلد بازی برتی گئی اور عدالت کو اپنے 20 مئی 2025 کے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم کی ذہنی حالت کے متعلق مکمل شفافیت اور جائزہ ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
واضح رہے کہ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی تھی۔