بھارتی ریاست کرناٹکا کے تاریخی اور مذہبی حوالے سے معروف دھرماستھلا مندر میں ایک ایسا راز سامنے آیا ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مندر کے سابق ملازم، جو صفائی کا کام کرتے تھے، نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اسکول کی طالبات سمیت کئی خواتین کی لاشوں کو جلانے اور دفنانے پر مجبور کیا گیا تھا۔
مذکورہ شخص نے بتایا کہ یہ واقعات 1998 سے لے کر 2014 کے درمیان دھرماستھلا اور اس کے قریبی علاقوں میں پیش آئے۔ ان خواتین کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا، اور لاشوں کو چھپانے کے لیے انہیں آگ لگائی گئی یا زمین میں دفن کر دیا گیا۔ یہ اعتراف ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے پیچھے اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے کھڑا ہونا چاہتا ہے اور متاثرہ خواتین کے حق میں آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔
کناٹکا پولیس نے 3 جولائی کو دفعہ 211(a) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ملزم نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے، اور عدالت سے اجازت ملنے کے بعد کیس کو رجسٹر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس شخص نے اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے بھی درخواست دی ہے کیونکہ انہیں موت کے دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔
اس سابق ملازم نے پولیس کو اپنی شکایت کے ساتھ ساتھ ان لاشوں کی باقیات کی تصاویر بھی فراہم کی ہیں جو اس نے دفن کی تھیں۔ اس کے بیان کے مطابق "میں نے 1995 سے دسمبر 2014 تک دھرماستھلا مندر میں صفائی کا کام کیا۔””ابتدائی طور پر میں نے لاشوں کو خودکشی یا حادثاتی موت سمجھا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ بیشتر پر جنسی زیادتی کے نشانات تھے۔””1998 میں میرے سپروائزر نے مجھے خفیہ طور پر لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا حکم دیا، جب میں نے انکار کیا تو مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔””میں نے تقریباً 11 سال پہلے اپنے خاندان سمیت دھرماستھلا چھوڑ دیا کیونکہ ہمیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہیں۔”
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کے وی دھننجے نے اس کیس کی تحقیقات کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ شکایت 4 جولائی کو درج ہوئی ہے، تو ان معاملات میں فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ سنسنی خیز انکشاف بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی، عصمت دری اور قتل کے سنگین جرائم کے خلاف ایک نئی بحث کو جنم دے گا۔ عوام اور حقوقِ انسانی کے کارکنان کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس کیس میں سخت اور فوری کاروائی کرے اور متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرے۔