بہت کوشش کے باوجود ساری رات نیند کوسوں دور رہی۔ سوشل میڈیا پر درجنوں افراد کی طرف سے اپلوڈ کی گئی سانحہ سوات کی ویڈیو کو بار بار اور مختلف زاویوں سے دیکھتا رہا۔

دریائی گزرگاہ پر مشتمل خیبر پختونخوا کے تمام تفریحی علاقوں میں انتظامی افسران کو منتھلی دے کر تو کچھ سیاسی پشت پناہی سے دریا کنارے غیرقانونی طور پر قائم ریور ویو ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے ان غیر قانونی ہوٹلز میں سے ہی سوات کے ایک ریسٹورنٹ میں سیالکوٹ سے تفریح کی غرض سے آئے اس خاندان کے تمام چراغ بجھ گئے۔

شروع میں جب دریا میں اچانک طغیانی آئی تو متاثرہ خاندان کے تمام افراد مطمئن تھے کہ انکو ریسکیو کرلیا جائے گا ننھے بچے اچانک آنے والے پانی کو ایڈوینچر سمجھ کر انتہائی پر امید انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے مدد کیلئے پکار رہے تھے۔ دریا میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں شدت سے بدقسمت خاندان کے چہرے پر پریشانی نمایاں ہوئی لیکن وہ پھر بھی پرامید تھے کہ وہ بچ جائیں گے، کسی مسیحا کے انتظار میں صدائیں لگاتے خاندان کو موت کا احساس اس وقت ہوا جب اس پندرہ رکنی خاندان کے تین افراد پانی برد ہوئے۔ دریا میں گرنے والے بھی اس ناگہانی افتاد کو نہیں سمجھ پارہے تھے اور باقی بھی اس سب پر یقین نہیں کر پا رہے تھے، مدد کیلے پکارتی آوازیں آنہوں اور سسکیوں میں بدل گئیں تو کچھ کے حلق خشک ہوگئے۔ بچے ماں باپ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ہمیشہ پچانے والے انہیں بچالیں گے جبکہ بزرگ والدین بچوں سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ جوان بازو انکو موت کی آغوش میں نہیں جانے دیں گے۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا دریا برد ہونے والے اگلے کنارے پر بچ جائیں گے۔ تسلی کے الفاظ اور مسیحا کے منتظر باقی افراد بھی ایک ایک کرکے پانی میں بہتے جارہے تھے۔ قیمتی ترین انسانی جانوں کو اس طرح جاتے دیکھ کر آنکھیں پتھرا گئیں ہیں۔

ہر وقت گاڑیاں اور وسائل مانگنے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی ٹیم میں سے کسی نے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ انتظامی اور سیاسی لیڈرشپ میں سے کسی نے کوشش نہیں کی کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے قیمتی جانوں کو بچا لیا جائے۔ یہ حادثہ نہیں قتل ہے، ایک خاندان کا نہیں، انسانیت کا قتل ہے، سوات، خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاحت کا قتل ہے۔ ایسے بدترین حالات میں بیرونی سیاح تو دور مقامی افراد بھی سیاحت سے ڈر اور سہم کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران نے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر عمران خان کی فوٹو لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا ہوا ہے اور دونوں عوام کو مسائل کے سپرد کرکے مل بانٹ کر وسائل لوٹ رہے ہیں۔ اس قتل کامقدمہ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران دونوں کے خلاف ہونا چاہئے۔

چند روز قبل ہم گلگت بلتستان سے واپس آرہے تھے تو مشہور سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ جو سطح سمندر سے اونچائی اور تیزسرد ہواؤں کی وجہ سے سیاحوں کا لازم والا سٹاپ ہوتا ہے وہاں غیرقانونی تجاوزات اور آدھ درجن کے قریب زپ لائنز نے اس کی قدرتی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کیا ہوا تھا۔ بیچ سڑک پھل فروش سے پھل خریدتے وقت پوچھا کہ تم کتنا کرایہ دیتے ہو اس نے کہا کہ اس ریڑھی کا پچاس ہزار روپے ماہانہ، میں نے پوچھا کہ زپ لائن اور باقی بڑی شاپس کا کیا کرایہ ہوگا تو اس نے کہا کہ مختلف ہوتا ہے کوئی ماہانہ دیتا ہے تو کسی سے ڈپٹی کمشنر آفس والے سیزن کا ریٹ کرلیتے ہیں۔ ناران کاغان، مہاندری سے مانسہرہ تک سڑک کے دونوں اطراف سرکاری گزرگاہ پر غیرقانونی تعمیرات کی بھرمار۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے انتظامی افسران اسی پوسٹنگ سے اتنی کمائی کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی بھر کی محرومیاں ختم ہو جائیں۔ اپنی حرام کی کمائی سے معاشی محرومیاں ختم کرتے کرتے یہ بے رحم اور سفاک افسران بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرام کمائی کے عوض قائم ہونے والی تجاوزات سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں جبکہ منتھلی کے عوض دریا کنارے غیر قانونی ریسٹورنٹس اچانک ہونے والی دریائی طغیانی میں ہر سال قیمتی جانی و مالی نقصاں کا باعث بنتے ہیں۔ اسی ہفتے 20جون کو تین سیاح ناران میں ہلاک ہوئے لیکن مانسہرہ اور خیبرپختونخوا کے انتظامی افسران اور سیاسی قیادت کی بے حسی میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔ جیسی صوبائی سیاسی لیڈرشپ ہو گی ویسے ہی بے حس اور لٹیرے افسران۔ گذشتہ 12سال سے خیبرپختونخوا کرپشن اور بیڈ گوورننس کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر کو پشاور سے سوات پہنچنے میں صرف 40منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن 120منٹ میں نہ تو ہیلی کاپٹر آیا اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر اور انتظامی افسر نے پہنچنے کی زحمت کی۔ کیونکہ سیاسی و انتظامی گٹھ جوڑ تو صوبے بھر کے وسائل لوٹنے کیلئے متحد ہے دونوں مل کر کر اسمگلنگ، منرلز، معدنیات اور ٹمبرچور ی میں مصروف ہوتے ہیں۔ چند سال قبل جب گلگت بلتستان میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کا کار خاص بنا ایک افسر ڈپٹی کمشنر سکردو تھا مجھے وہاں کے ایک مقامی سوشل ایکٹیوسٹ نے کہا کہ ڈاؤن (پنجاب) سے آنے والے افسر تو بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن یہ والا صاحب تو اتنا لٹیرا ہے کہ اس کا بس نہیں چلتا کہ پیسے کمانے کیلئے ساری زمین بیچ دے۔ انتظامی افسران کا عوام سے رویہ سیاسی لیڈرشب طے کرتی ہے بزدار دور سے پنجاب میں تعینات افسران کی اکثریت قانون شکن اور کرپٹ پریکٹس کی عادی تھے لیکن جب سے مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بنی ہیں ان کرپٹ افسران کی وہ والی موجیں نہیں رہیں کیونکہ انکو اندازہ ہے کہ وزیراعلیٰ تک پہنچنے والی شکایت کے بعد معافی نہیں۔
ملک سلمان
maliksalman2008@gmail.com

Shares: