فیصل آباد(محمد اویس)ڈویژن بھر میں جشن عیدمیلادالنبیؐ مذہبی عقیدت واحترام اورشایان شان طریقے سے منانے کیلئے تمام تر انتظامی وحفاظتی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں تاہم مذہبی ہم آہنگی،اتحادواتفاق اوربھائی چارے کی فضاء کو قائم ودائم رکھنے کے لئے امن کمیٹیز کے ارکان کا تعاون ہمیشہ قابل ستائش رہاہے۔یہ بات ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے سرکٹ ہاؤس میں منعقدہ ڈویژنل امن کمیٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔آر پی او غلام محمود ڈوگر،ڈپٹی کمشنرمحمد علی،سی پی او اظہر اکرم،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نواب شیر وسیر،لطیف نذر،شکیل شاہد،فردوس رائے کے علاوہ ایڈیشنل کمشنرز ملک خادم جیلانی،محبوب احمد،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)میاں آفتاب احمد،اسسٹنٹ کمشنر جنرل مصور خان نیازی،ایڈمن آفیسر ریاض انجم،ایس پی سپیشل برانچ انجم کمال اوردیگر افسران بھی موجود تھے جبکہ اجلاس میں ڈویژن کے چاروں اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی جن میں مفتی ضیاء مدنی،پیر ابراہیم سیالوی،اسلم بھلی،سعید بٹ قادری،مولانا محمد حفیظ،قاری محمد جاوید اختر قادری،قاری محمد عاعف سیالوی،خواجہ معین الدین،خلیل احمد اشرفی،ممتاز حسین گوندل،حافظ نعیم الحق ودیگر شامل تھے۔ڈویژنل کمشنر نے ڈویژن بھر سے امن کمیٹی کے ارکان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی امن اورمذہبی رواداری کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے ان کی شاندارخدمات قابل ستائش ہیں۔انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ تمام مسلمانوں کے لئے یکساں عقیدت واحترام کا حامل ہے جس کے تقدس کو ہر صوت برقرار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حفاظتی وانتظامی امور کے استحکام کے لئے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام ومذہبی رہنماؤں کی مشاورت کو مقدم رکھا جاتا ہے جس سے امن وسلامتی کی ضمانت ملتی ہے۔ڈویژنل کمشنر نے خوشی اوراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد ڈویژن میں تمام مکاتب فکر کے علماکرام آپس میں متحد ومتفق ہیں تاہم اس نوعیت کے اجلاس خیروبرکت اورباہمی رابطے کے استحکام کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا مودی کا یہ اقدام امن کی فضا کو برباد کرنے کی گھناؤنی سازش ہے لیکن علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری،پیارومحبت اور قانون کی پاسداری کا درس دیں اور اسوہ حسنہ پر صدق دل سے عمل پیرا ہونے،آپس میں متحد رہنے اورجشن عیدمیلادالنبیؐ کو مذہبی جذبے سے مناتے ہوئے ہر قسم کی خرافات سے اجتناب کرنے کی تلقین کریں جو کہ عشق رسولؐ کا تقاضا ہے۔ آر پی او غلام محمودڈوگر نے امن کمیٹیوں کے ارکان کے مثالی تعاون اورفعال کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماہ ربیع الاول کے حوالے سے منعقدہ تمام تر تقریبات کی مکمل سیکورٹی کویقینی بنایا جارہا ہے تاہم ان تقریبات کے منتظمین بھی مشکوک افراد پر نظر رکھیں تاکہ اسلام وملک دشمن عناصر کو تخریب کاری کا موقع نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ سے گہری محبت ہمارے ایمان کا اہم حصہ ہے جس کے اچھے انداز میں اظہار کے لئے نظم وضبط،قانون کی پابندی اوردیگر اخلاقی تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔اس ضمن میں علماکرام اپنے پیروکاروں کو عیدمیلادالنبیؐ کے موقع پر بغیرسائیلنسر موٹرسائیکل چلانے،آتش بازی اورہلڑ بازی سے گریز کرنے کی تاکید کریں۔انہوں نے کہا کہ آپس میں رابطوں کو مضبوط کرنے سے ضابطہ کی ضرورت نہیں رہتی اسی لئے علما کرام سے گہرا تعلق برقرار رکھا جائے گا۔ارکان اسمبلی نے امن کمیٹیوں کے ارکان کی شاندار خدمات اور فعال کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہری محبت و عقیدت تمام مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا تاہم شرارتی عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارے خلاف پراپیگنڈا میں مصروف ہے لیکن قومی یکجہتی سے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس موقع پر جذبات کو قابو اور امن کی فضا کو قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘ بھائی چارے اور اتحاد و اتفاق کے ایسے شاندار ماحول میں امن کا قیام قابل بھروسہ ہے۔اجلاس کے دوران علماکرام ودیگر اراکین نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ آقائے دو عالمؐ کی ولادت باسعادت کا دن ہمارے لئے باعث برکت ہے جسے بھرپور انداز میں عقیدت واحترام کے ساتھ منایاجائے گا اور اس دن کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔انہوں نے عید میلاد النبیؐ جلوسوں کے راستوں پر صفائی ستھرائی اورتجاوزات کے خاتمہ کی ضرورت پر زور دیا۔آخرمیں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی،امن وسلامتی،اتحاد ویکجہتی،خیروبرکت، شہدا کشمیر اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی روح کے ایصال ثواب کے لئیدعا کی گئی۔

Shares: