اسلام آباد:جمہوریت کا حسن:آرمی چیف کی مدت ملازمت کےحوالے سے پیدا کردہ بحران کو پارلیمنٹ نےحل کر دکھایا،باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق آج پارلیمنٹ نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ واقعی جمہوریت میں حسن ہے،

باغی ٹی وی کےمطابق چند دن قبل جب آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے آئینی بحران پیدا کردیا گیا تھا ،اورجس آئین کے تحت سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کوتوسیع دی گئی تھی اس کو متنازعہ بنادیا گیا

ذرائع کےمطابق اس آئینی بحران کی وجہ سے ملکی معیشت اوراداروں کوناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا ، اس بحران کو جس طرح آج پارلیمنٹ نے حل کردکھایا اس پروہ قوتیں بھی آج خوش ہیں جوجمہوریت کے حوالےسے کوئی زیادہ مطمئن نہیں تھے

باغی ٹی وی کےمطابق قائمہ کمیٹی برائے دفاع نےتینوں سروسز ایکٹ بل کی منظوری دی ہے۔اس سے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس کے 13 نکاتی ایجنڈا سامنے لایا گیا جس میں آرمی ترمیمی ایکٹ شامل نہیں تھا تاہم آرمی ایکٹ کو سپلیمنٹری ایجنڈے کے طور پر پیش کیا گیا۔

اجلاس میں وزیرمملکت علی محمد خان کی وقفہ سوالات معطل کرنےکے لئے رولزمعطلی کی تحریک منظورکی گئی جس کے بعدوزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ترمیمی ایکٹ 2020 اجلاس میں پیش کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان ائیر فورس ترمیمی ایکٹ 2020 اورپاکستان بحریہ ترمیمی ایکٹ 2020 بھی وزیر دفاع نے پیش کیا تھا جس کے بعد تینوں بلوں کو قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیج دیا گیا تھا اور اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیاتھا۔

بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس آج ہی طلب کرنے پر اتفاق ہوا اور ان بلوں کو آج ہی کمیٹی سے منظور کروانے پر اتفاق رائے قائم ہوا۔

باغی ٹی وی کےمطابق آج پارلیمنٹ نے اپنی بالادستی ثابت کردی ہے ،جسے چند دن پامال کیا گیا تھا ،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بعض حلقے اس آئین سازی کوپھرسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی سازش تیارکرنے کا سوچ رہے ہیں
لیکن امید یہی کی جارہی ہےکہ اس سازش کوناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گی

Shares: