اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی
ڈومیسائل رولز بارے ترامیم کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازش ہے
اسلام آباد: انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے معروف سیاسی و سماجی رہنما اور نیشنل فرنٹ کے سینیر وائس چیرمین الطاف حسین وانی نے ڈومیسائل رولز میں ترمیم سے متعلق ہندوستانی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے حالیہ نوٹیفکیشن پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس سے کشمیری عوام کے خلاف ایک گہری سازش قرارد دیا ہے جس کا مقصد مسلم اکثریتی ریاست کی جداگانہ حیثیت اور شناخت کو کمزور کرنا ہے۔
وانی نے بدھ کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ‘کشمیر مخالف قانون دراصل بی جے پی حکومت کی اس گھناؤ نی سازش کی ایک کڑی ہے جس کے تحت مودی سرکار آر ایس ایس کے دیرینہ مطالبے پر عمل کرتے ہوئے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے مقبوضہ خطے کی منفرد اور جداگانہ حیثیت کو ختم کرناہے
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ، ڈومیسائل رولزمیں حالیہ ترامیمی ایکٹ کے تحت، کوئی بھی شخص جو 15 سال تک جموں و کشمیر میں مقیم رہا ہے یا اس نے ریاست میں سات سال تعلیم حاصل کی ہے، اور کلاس 10 یا کلاس 12 کی امتحان میں حاضر ہوا ہے، وہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اہل ہوگا۔. نوٹیفکیشن کے مطابق، نئے قانون کے تحت وہ گیزیٹیڈ اور نان گیزیٹیڈ پوسٹ لیول کی سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست دے سکے گے۔
ایم ایچ اے کے آرڈر کو آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ کشمیر کے ڈومیسائل قانون میں حالیہ ترمیم غیر کشمیری اور غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے۔
وانی نے آرٹیکل 35 اے کو منسوخ کرنے کے پیچھے ہندوستان کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”جہاں تک ریاست میں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کرنے کے ہندوستانی منصوبے کا تعلق ہے تو آرٹیکل 35-A واحد آئینی اور قانونی رکاوٹ تھا جس سے مودی سرکارکشمیر میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ سمجھتی تھی”۔ ”اس تازہ حکم کی بدولت، ہندوستان نے عملی طور پر بیرون ملک مقیم افراد کو ریاست میں مستقل طور پر آباد ہونے کے علاوہ جموں و کشمیر میں پہلے سے موجود ملازمتوں کے دعویدار بننے کے لئے بھی راہ ہموار کردی ہے، جہاں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھری ہے۔ جے کے این ایف رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ ان مقامی نوجوانوں کے مفادات کے خلاف ہے جن کو متعدد مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سے بے روزگاری وہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کا وہ گذشتہ کئی برسوں سے سامنا کررہے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ نئے قانون کے متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں ملازمت حاصل کرنے والے بیرونی افراد ریاست میں زمین خریدنے کے حق کا بھی دعوی کریں گے۔ انہوں نے اسے ریاست میں آبادیاتی تبدیلیوں کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سول سروسز ایکٹ میں ترمیم سے ہزاروں کشمیری بے روزگار ہوجائیں گے۔ جموں و کشمیر املاک کے حقوق کو کچی آبادیوں کے ایکٹ 2012 میں ہونے والی ترامیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ”جموں و کشمیر کے مستقل رہائشیوں ” کے الفاظ کو ایکٹ میں جان بوجھ کرحذف کر دیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر میں کچی آبادی کو مناسب مکانات مل سکتے ہیں۔
وانی نے کہا حالیہ ترامیمی ایکٹ ایک سنگین معاملہ ہے جس کے ذریعے بھارت اسرائیلی طرز پر کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے لئے الگ کالونیاں قائم کرنا چاہتا ہے۔انکا کہنا تھات کہ۔ ہندوستانی حکومت کشمیریوں کو زیر اورانہیں اپنے تابع لانے کے لئے ان سے سب کچھ چھیننے پر تلا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر مخالف قوانین نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اعلان کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جو ہندوستان اور پاکستان دونوں کو متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ردوبدل سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جابر ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے ابھر رہی ہے جس کا بین الاقوامی قوا نین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا وطیر ہ بن چکا ہے
For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)








