باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران بعض وزراء کی طرف سے پی ٹی وی کی فیس میں اضافے کا معاملہ مؤخر کر دیا۔
چند روز قبل وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان ٹیلی ویژن کی فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کر دی گئی تھی جس کے بعد سوشل میڈیا سمیت ہر طرف احتجاج کیا تھا اور حکومت سے اس اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
فیس کے اضافے پر سیاسی جماعتوں، مذیبی جماعتوں نے بھی احتجاج کیا تھا ، مذہبی جماعتوں کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ مسجد میں ٹی وی نہیں پھر بھی مسجد کے بل میں فیس لگ کر آ جاتی ہے،
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران بعض وزرا نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی فیس میں اضافے پر اعتراض کر دیا۔ وفاقی کابینہ میں وزراء کی طرف سے اعتراض آنے کے بعد پی ٹی وی کی فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کرنے کے اضافے کا معاملہ مؤخر کر دیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں پی ٹی وی کی بھی سن لی گئی،کیمروں اور آلات میں جدت لانے کیلئے بڑی رقم مختص
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا، وفاقی وزیر مراد سعید اور شیریں مزاری نے پی ٹی وی لائسنس فیس میں آضافے کی مخالفت کی۔ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ معاملہ باقاعدہ کابینہ میں زیر بحث لانا چاہئے۔ کابینہ قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر اس طرح کا ٹیکس یا لیوی نہیں عائد کر سکتی، دو سال سے پی ٹی وی اپنا بزنس پلان نہیں دے سکا۔
بجلی بلوں میں پی ٹی وی فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کر دی گئی








